فضائل امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن
ابو شاہین(تذکرۂ عنبریں )
الحمدللّٰہ والصلاۃ والسلام علی خاتم رسل اللّٰہ وأہلہ وصحبہ ومن والاہ إلی یوم الدین وبعد!
نبی کریمﷺ کے اہل بیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے مقرر کردہ محبت اور ولایت کے حقوق کے مطابق اہل سنت و الجماعت کے نزدیک احترام اور قدر دانی حاصل ہے، کیونکہ نبی کریمﷺ نے اپنے امتیوں کو یہ وصیت کی ہے:
’’میں اپنے گھر والوں کے سلسلے میں تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘
(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب من فضائل علی بن أبی طالبؓ، حدیث نمبر: 2408۔)
اسی وجہ سے اہل سنت والجماعت ان غالی افراد سے برأت کرتے ہیں جو بعض اہلِ بیت کے سلسلے میں افراط سے کام لیتے ہیں اور ان ناصبیوں سے بھی برأت کا اظہار کرتے ہیں جو ان کو تکلیف دیتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں۔ عام طور پر تمام مسلمان اور خاص طور پر اہل سنت والجماعت عمومی طور پر پاکیزہ اہل بیت اور خصوصیت کے ساتھ امہات المؤمنینؓ کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور ان کو تکلیف دینے اور ان کی برائی کرنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔
مبرۃ الآل والأصحاب کو اس بات پر نہایت مسرت ہو رہی ہے کہ اپنی ابتدائی مطبوعات میں یہ کتاب پیش کر رہی ہے، تاکہ پاکیزہ اہل بیت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کردہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وراثت کی نشر و اشاعت، مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت کو راسخ اور پیوست کرنے اور بعض مسلمانوں میں ان حضرات سے متعلقہ پھیلے ہوئے بعض تصورات کی اصلاح کے مقاصد کی تکمیل ہو۔
چند صفحات پر مشتمل اس کتاب میں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے، پھر قرآن کریم اور حدیث شریف سے ان کے فضائل ذکر کیے گئے ہیں، امہات المؤمنین کی تعریف اور توصیف میں بہت سی آیات اور احادیث واد ہوئی ہیں، جن سے ازواج مطہراتؓ کا بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام معلوم ہوتا ہے۔ پھر اہلِ بیت کے ضمن میں ان کے فضائل کو عمومی طور پر بیان کیا گیا ہے، اسی طرح ان میں سے ہر ایک کے فضائل خصوصی طور پر بھی نقل کیے گئے ہیں۔
اہم وقفہ:
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ (سورۃ الاحزاب آیت 6)
ترجمہ: نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں، اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘
ازواج مطہراتؓ اہل ایمان کی مائیں ہیں، والد رسول اللہﷺ ہیں اور بھائی مہاجرین اور انصار ہیں جو اس دعا میں مراد ہیں:
رَبَّنَا اغۡفِرۡلَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ (سورۃ الحشر آیت 10)
’’اے ہمارے پروردگار! ہماری اور ہم سے پہلے ایمان لانے والے ہمارے بھائیوں کی مغفرت فرما۔‘‘
یہی نبی کریمﷺ کا گھرانہ ہے، جو شخص ازواج مطہراتؓ میں سے کسی پر طعن و تشنیع کرے گا تو ایمانی نسب سے دھتکارا ہوا اور مردود ہے، کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو ازواج مطہراتؓ پر الزام تراشی نہ کرتا، کیونکہ بیٹا اپنی ماں پر طعن و تشنیع نہیں کیا کرتا۔ احترام، عزت اور نسب پر فخر کرنے جیسے حقوق و واجبات میں اس ماں کا رشتہ، حقیقی ماں کے رشتے کی طرح ہی ہے۔
کیا ان عورتوں سے زیادہ باعزت اور شریف مائیں ہو سکتی ہیں، جن کو رسول اللہﷺ نے اپنے لیے منتخب کیا؟ بلکہ اللہ عزوجل نے ان کا انتخاب اپنے نبی کے لیے کیا، چنانچہ اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنۡ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ اِلَّامَامَلَكَتۡ يَمِيۡنُكَوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ رَّقِيۡبًا۞(سورۃالأحزاب آیت 52)
ترجمہ: اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔
حضرت زینب بن جحشؓ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًاوَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا۞(سورۃالأحزاب آیت 37)
ترجمہ: پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔
پوری دنیا کی عورتوں پر ازواج مطہراتؓ کی افضلیت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ (سورۃالاحزاب آیت 32)
ترجمہ: اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں میں سے کسی کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین پر ان کے ساتھ نکاح کرنے کو حرام قرار دیا، جس طرح ایک بیٹے کو اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرنا حلال نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًااِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَاللّٰهِ عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت نمبر 53)
ترجمہ: اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے۔
رسول اللہﷺ کو ہر اس قول اور عمل سے تکلیف ہوتی ہے جس سے ازواج مطہرات کو تکلیف ہونے کا اندیشہ ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے مؤمنین کو یہ حکم دیا کہ وہ امہات المؤمنین کو صرف پردے کے پیچھے ہی مخاطب کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاِذَا سَاَلۡتُمُوۡهُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَلُوۡهُنَّ مِنۡ وَّرَآءِحِجَابٍ ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡارَسُوۡلَ اللّٰهِ
ترجمہ: اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے مانگا کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاک رہنے کا ذریعہ ہے، اور تمہیں یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ۔
پھر ان پر الزام تراشی کرنا، اور ان کو نامناسب اوصاف سے متصف کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟!
اللہ تبارک وتعالیٰ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بعد فرماتا ہے:
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت 59)
ترجمہ: اے نبی! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
پھر اس کے فوراً بعد اللہ عزوجل نے فرمایا:
’’منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے اگر باز نہ آئے تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کر دیں گے، پھر یہ لوگ مدینہ میں آپ کے پاس بہت ہی کم رہنے پائیں گے۔‘‘
اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ زینبؓ کے ساتھ رسول اللہﷺ کی شادی کے سلسلے میں الٹی سیدھی باتیں کہہ رہے تھے، آپﷺ سے پہلے حضرت زینب کی شادی آپ کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ کے ساتھ ہوئی تھی، اسی سورہ میں آیت نمبر 37 میں اس کا تذکرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہراتؓ کے بارے میں الٹی باتیں کرنے کو منافقین اور ان جیسے لوگوں کی عادت بتایا ہے، اور مؤمنین کو یہ تاکیدی حکم دیا ہے کہ وہ ان کی طرح نہ بنیں۔
اللہ عزوجل نے اسی سورہ میں وضاحت کے ساتھ یہ بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا جو قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر سرداروں اور بااثر لوگوں کی باتوں میں آ کر ازواج مطہراتؓ پر الزام تراشی کرے۔ (اگر وہ توبہ کرنے سے پہلے مر جائے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِى النَّارِ يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَـنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا۞وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا۞(سورۃ الأحزاب آیت 66، 67)
ترجمہ: اور کہیں گے کہ: اے ہمارے پروردگار! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا، اور انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔
کیا ازواج نبیﷺ پر الزام تراشی کرنا اور ان کے بارے میں نا مناسب باتیں کرنا صحیح ہے؟ یا بڑی ہی بری بات اور سخت منکر ہے؟
سوچو! تم سیدہ عائشہ یا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو گالی دے رہے ہو، اچانک تم پیچھے مڑ گئے تو کیا دیکھتے ہو کہ رسول اللہﷺ تم کو دیکھ رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو سن رہے ہیں!! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟ اور تمہارے بارے میں رسول اللہﷺ کا کیا موقف ہوگا؟