فضائل امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

فضائل امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے مانگا کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاک رہنے کا ذریعہ ہے، اور تمہیں یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ۔

پھر ان پر الزام تراشی کرنا، اور ان کو نامناسب اوصاف سے متصف کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟!

اللہ تبارک وتعالیٰ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بعد فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت 59)

ترجمہ: اے نبی! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

پھر اس کے فوراً بعد اللہ عزوجل نے فرمایا:

’’منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے اگر باز نہ آئے تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کر دیں گے، پھر یہ لوگ مدینہ میں آپ کے پاس بہت ہی کم رہنے پائیں گے۔‘‘

اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ زینبؓ کے ساتھ رسول اللہﷺ کی شادی کے سلسلے میں الٹی سیدھی باتیں کہہ رہے تھے، آپﷺ سے پہلے حضرت زینب کی شادی آپ کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ کے ساتھ ہوئی تھی، اسی سورہ میں آیت نمبر 37 میں اس کا تذکرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہراتؓ کے بارے میں الٹی باتیں کرنے کو منافقین اور ان جیسے لوگوں کی عادت بتایا ہے، اور مؤمنین کو یہ تاکیدی حکم دیا ہے کہ وہ ان کی طرح نہ بنیں۔

اللہ عزوجل نے اسی سورہ میں وضاحت کے ساتھ یہ بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا جو قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر سرداروں اور بااثر لوگوں کی باتوں میں آ کر ازواج مطہراتؓ پر الزام تراشی کرے۔ (اگر وہ توبہ کرنے سے پہلے مر جائے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِى النَّارِ يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَـنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا۞وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا۞(سورۃ الأحزاب آیت 66، 67)

ترجمہ: اور کہیں گے کہ: اے ہمارے پروردگار! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا، اور انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔

کیا ازواج نبیﷺ پر الزام تراشی کرنا اور ان کے بارے میں نا مناسب باتیں کرنا صحیح ہے؟ یا بڑی ہی بری بات اور سخت منکر ہے؟

سوچو! تم سیدہ عائشہ یا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو گالی دے رہے ہو، اچانک تم پیچھے مڑ گئے تو کیا دیکھتے ہو کہ رسول اللہﷺ تم کو دیکھ رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو سن رہے ہیں!! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟ اور تمہارے بارے میں رسول اللہﷺ کا کیا موقف ہوگا؟


صفحہ 2 از 2