ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن دنیا کی افضل ترین عورتیں
ابو شاہیناللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ (سورۃ الاحزاب آیت 32)
’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں میں سے کسی کی طرح نہیں ہو، اگر تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
یعنی عورتوں میں کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جو تم سے افضل ہو، لیکن تقویٰ اور خشیت الٰہی شرط ہے، اگر یہ ثابت ہو گیا کہ وہ متقی اور پرہیز گار ہیں تو کسی استثنا کے بغیر ہر زمانے کی عورتوں میں ان کی فضیلت ثابت ہے، انبیاء و مرسلین اور تمام مخلوقات میں سب سے افضل نبی کی بیویوں کے لیے یہ بڑی بات نہیں ہے، یہ وہ عورتیں ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے منتخب کیا اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اختیار کیا۔
ازواج مطہراتؓ کا تقویٰ نص قرآنی سے ثابت ہے، کیونکہ تخییر کی آیتوں کے نزول کے بعد انہوں نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو دنیوی زندگی اور اس کی زیب و زینت پر ترجیح دی، وہ آیات یہ ہیں :
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞
(سورۃالأحزاب آیت 28، 29)
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تم کو کچھ مال و متاع دیتا ہوں اور تم کو بہتر طریقے پر رخصت کرتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔
امہات المؤمنینؓ نے اللہ اور اس کے رسولﷺ اور آخرت کو ترجیح دی، اور دنیوی زندگی، اس کی زیب و زینت اور اس کے مال و متاع کو چھوڑ دیا، یہ انتخاب سچا تھا، اس کی دلیل یہ ہے کہ ایمان صادق اور تقویٰ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو نبی کریمﷺ کے ساتھ رہنے اور آپﷺ کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کرنے کی ترغیب دینے والی ہو، اور یہ انتخاب اور ترجیح تقویٰ پر قائم ہے، جو اللہ کی طرف سے قبول ہوا، اسی وجہ سے اللہ عزوجل نے ان کو اس اکرام سے نوازا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ (سورۃالأحزاب آیت 52)
’’ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں ، اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں کر لیں اگرچہ آپ کو ان کا حسن بھا جائے، مگر جو آپ کی باندی ہو، اور اللہ ہر چیز کا نگران ہے۔‘‘
یہ اکرام اور عزت دو جہتوں سے ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں :
1: اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو موجودہ ازواج مطہراتؓ کے علاوہ دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے منع فرمایا۔
2: اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان میں سے کسی کو اس غرض سے طلاق دینے سے منع فرمایا کہ آپﷺ اس کے بدلے کسی دوسرے سے شادی کریں۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ ازواج مطہراتؓ آپﷺ کی ہمیشہ ہمیش بیویاں رہیں، صرف دنیا میں ہی نہیں، بلکہ آخرت میں بھی، اسی وجہ سے مؤمنین کو ازواج مطہراتؓ سے شادی کرنے سے منع فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًااِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمًا ۞(سورۃالأحزاب آیت 53)
ترجمہ: اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی شادی کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے۔‘‘
ہر عقل مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے عظیم مرتبے کے بارے میں وارد ان آیتوں پر اچھی طرح غور کرے۔