امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے عام فضائل
ابو شاہین1: اللہ تبارک وتعالیٰ نے آل بیت کو گندگیوں، شرک، شیطان، گندے کاموں اور اخلاقِ ذمیمہ سے پاک قرار دیا ہے، امہات المؤمنین بھی آلِ بیت ہی میں سے ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًاo وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًاo(سورۃ الاحزاب آیت 32تا 34)
ترجمہ: اے نبی کی بیویو! تم معمولی عورتوں میں سے کسی کی طرح نہیں ہو، بشرطیکہ تم تقویٰ اختیار کرو، تو بولنے میں نزاکت نہ کرو اس سے ایسے شخص کو (غلط) خیال ہونے لگتا ہے جس کے دل میں بیماری ہے، اور بہترین بات کہو، اور تم اپنے گھروں میں رہو، اور قدیم زمانۂ جاہلیت کی طرح نہ پھرو، نمازوں کو قائم کرو، زکوٰۃ دو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، بلاشبہ اللہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! تم سے گندگی کو دور کرے اور تم کو پاکیزہ بنا دے، اور تم ان آیات اور اس حکمت کو یاد رکھو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے، بے شک اللہ راز داں اور بڑا با خبر ہے۔‘‘
ان آیتوں کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ تطہیر (پاک بنانے) کی آیت آپﷺ کی بیویوں کو بھی شامل ہے، یہ کیسے نہیں ہو سکتا، جب کہ یہ آیتیں ان ہی کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں۔
2: مومنین کی ماؤں کا مرتبہ ان کو حاصل ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے احترام اور ان کے ساتھ شادی کرنے کے حرام ہونے میں ان کو مومنین کی مائیں بنایا ہے، آپ کی صحبت کا شرف اس کے علاوہ ہے۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ (سورۃ الاحزاب آیت 6)
ترجمہ: نبی مؤمنین سے ان کے نفس سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘
3: دنیا اور اس کی زیب و زینت کو چھوڑ کر امہات المؤمنین نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کا انتخاب کیا، اس کا بدلہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ دیا کہ اپنے پاس ان کے اجر کے لیے اجر عظیم تیار کر کے رکھ دیا ہے۔
یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَ اُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًاo وَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (سورۃ الاحزاب: 28، 29)
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تم کو کچھ مال و متاع دیتا ہوں اور تم کو بہتر طریقے پر رخصت کرتا ہوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت چاہتی ہو تو (سن لو) اللہ نے تم میں سے نیک کردار کے لیے اجر عظیم تیار کر کے رکھا ہے۔‘‘
یہ بات معلوم ہی ہے کہ ان امہات المؤمنین نے اللہ اور رسول کا انتخاب کیا، اسی وجہ سے آپﷺ نے ان کو طلاقیں نہیں دیں۔
4: ان کو اطاعت اور عمل صالح پر دگنا اجر ملتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا (سورۃ الاحزاب آیت 31)
’’اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی تو ہم اس کو دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے باعزت روزی تیار کر رکھی ہے۔‘‘
5: شرافت، عزت اور بلند مقام و مرتبہ میں امہات المؤمنین دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (الاحزاب: 32)
ترجمہ: اے نبی کی بیویو! تم معمولی عورتوں میں سے کسی کی طرح نہیں ہو، بشرطیکہ تم تقویٰ اختیار کرو، تو بولنے میں نزاکت نہ کرو اس سے ایسے شخص کو (غلط) خیال ہونے لگتا ہے جس کے دل میں بیماری ہے، اور بہترین بات کہو۔‘‘
6: اللہ عزوجل نے امہات المومنین کو ان کے گھروں میں تلاوت قرآن اور حکمت کی باتوں کے نزول کی وجہ سے عزت سے سرفراز کیا ہے، جو ان کی جلالتِ شان اور علو مرتبہ پر دلالت کرتا ہے۔
وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًاo (الاحزاب آیت 34)
ترجمہ: اور تم ان آیات اور اس حکمت کو یاد رکھو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے، بےشک اللہ راز داں اور بڑا با خبر ہے۔‘‘
7: امہات المؤمنین کو دنیا اور آخرت میں نبی کریمﷺ کی بیویاں ہونے کا شرف حاصل ہے۔