Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ازواج مطہرت رضی اللہ عنہن کے خصوصی فضائل

  ابو شاہین

1: خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، ’’قصی‘‘ نبی کریمﷺ کے جد امجد ہیں امہات المؤمنین میں سے حضرت خدیجہ اپنے والد کی طر ف سے آپ کے ساتھ نسب میں دوسری سب ازواج سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، قصی کی اولاد میں سے آپ نے ان کے علاوہ صرف ام حبیبہ بنت ابو سفیان کے ساتھ شادی کی ہے۔ 

(ام حبیبہؓ کا نسب حضورﷺ کے ساتھ عبد مناف بن قصی کے ساتھ جا کر ملتا ہے، اور حضرت عائشہؓ کا قصی کے ساتھ ملتا ہے، جبکہ باقی ازواج مطہراتؓ کا نسب قصی کے بعد مرہ، کعب، لوئی، خزیمہ، الیاس اور مضر کے ساتھ ملتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ کا شمار نسب کے اعتبار سے قریش کے متوسط خاندان میں ہوتا ہے، آپؓ بڑی باعزت اور مالدار عورت تھیں، جب رسول اللہﷺ کی عمر پچیس سال کی تھی تو آپﷺ کی شادی حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ہوئی، آپﷺ سے پہلے ان کی شادی ہالہ بن نباش بن زرارہ تمیمی کے ساتھ ہوئی تھی، جن کے انتقال کے بعد آپﷺ نے شادی کی۔

حضرت خدیجہؓ آپﷺ پر ایمان لے آئیں اور دعوتی کاموں میں آپﷺ کا تعاون کیا، یہی وجہ تھی کہ رسول اللہﷺ تمام عورتوں پر ان کو فضیلت دیتے تھے، (یعنی اپنے زمانے کی سب عورتوں پر ان کو فوقیت دیتے تھے، کیونکہ وہ دنیا کی تمام عورتوں کی چار سردار عورتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ چار عورتیں یہ ہیں: فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، مریم بنت عمران، خدیجہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہن)

سوائے ابراہیم کے آپﷺ کی تمام اولاد ان ہی کے بطن سے ہوئی، ابراہیم حضرت ماریہؓ کے بطن سے ہوئے، رسول اللہﷺ نے ان کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کی، جب ہجرت سے تین سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا تو دوسری شادی کی۔ 

حضرت خدیجہؓ کے جلیل القدر فضائل اور عظیم مناقب ہیں، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: سیدہ خدیجہؓ کا شمار سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں ہوتا ہے وہ اللہ کی وحی پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں، ان کو اس کا بھی اجر ملے گا اور ان کے بعد ایمان لانے والے ہر شخص کا اجر بھی ملے گا۔ (کیونکہ آپؓ عورتوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والی ہیں اور جو کوئی بہتر طریقہ رائج کرتا ہے تو اس کو اس کا اجر ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والے کا بھی اجر ملتا ہے، بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو اتنا ہی اجر و ثواب ملتا ہے، جتنا کرنے والے کو ملتا ہے، اور جو کوئی ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے بقدر بلانے والے کو بھی اجر ملتا ہے، لیکن ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ اس موضوع کی تفصیلات کے لیے رجوع کیا جائے: فتح الباری: باب فضائل خدیجۃ: نہایۃ الإیجاز فی سیرۃ ساکن الحجاز للطحطاوی: شرح مسلم از: نووی)

2: ان کی موجودگی میں آپﷺ نے دوسری شادی نہیں کی، وہ آپﷺ کی ازدواجی زندگی کے اڑتیس سالوں میں سے پچیس سال تک آپ کی زوجیت میں تن تنہا رہی، اس طرح آپﷺ کی دو تہائی ازدواجی زندگی ان کے ساتھ گزری۔

3: سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ رسول اللہﷺ کی محبت عطیہ خداوندی تھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب من فضائل خدیجۃ رضی اللہ عنہا حدیث نمبر: 2435، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات ہے کہ کس طرح اللہ کی طرف سے حضرت خدیجہؓ کی محبت رسول اللہﷺ کو عطا ہوئی تھی۔

4: آپﷺ ان کا کثرت سے تذکرہ کرتے تھے، ان کا ذکر خیر کرتے تھے، ان کی تعریف کرتے تھے اور ان کے ساتھ محبت اور مودت کے تعلقات کو بیان کرتے تھے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: مجھے نبی کریمﷺ کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی مجھے حضرت خدیجہؓ پر آئی، کیونکہ آپ ان کا تذکرہ کثرت سے کیا کرتے تھے، حالانکہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل باب من فضائل خدیجہؓ حدیث: 2435)

5: وہ امت محمدیہﷺ کی سب سے بہترین عورت ہیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بہترین عورت مریم ہیں اور بہترین عورت خدیجہ ہیں۔ 

(صحیح بخاری: کتاب مناقب الأنصار: باب تزویج النبیﷺ حدیث: 3815)

6: اللہ کی طرف سے سلام اور جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت جہاں نہ شور شرابہ ہوگا اور نہ کوئی تھکن۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرمﷺ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے ساتھ سالن کا ایک برتن ہے، جب وہ آپﷺ کے پاس آئیں تو ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے ان کو سلام کہیے اور جنت میں موتی کے ایک گھر کی بشارت دیجیے جہاں نہ کوئی شور شرابہ ہو گا اور نہ کوئی تھکن ہوگی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المناقب الانصار: باب تزوج النبیﷺ وفضلہا رضی اللہ عنہما حدیث: 3820)

7: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ان کے بطن سے اولاد عطا فرمائی، ان کے علاوہ کسی دوسرے کے بطن سے اولاد نہیں ہوئی۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے ان کے بطن سے اولاد عطا فرمائی جبکہ ان کے علاوہ سے اولاد نہیں دی۔ 

(المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث: 22۔ باب ذکر أزواج النبیﷺ ومنہن خدیجۃ بنت خویلد: جلد 23 صفحہ 13) 

2: سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبدشمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی بن غالب بن فہر، ان کی ماں شموس بنت زید بن عمرو انصاریہ ہیں۔ نبی کریمﷺ سے پہلے ان کی شادی سکران بن عمرو سے ہوئی، سودہ نے نبی کریمﷺ سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے حضرت ابن عباس، یحییٰ اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے، مکہ میں بہت پہلے ہی اسلام قبول کیا، انہوں نے اور ان کے شوہر نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی، وہیں پر ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ 

(تہذیب التہذیب از: ابن حجر عسقلانی: جلد 12 صفحہ 455)

یہ پہلی عورت ہیں جن کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے بعد حضورﷺ نے شادی کی، مکہ ہی میں یہ شادی ہوئی، اس کے بعد تقریباً چار سال تک آپﷺ نے شادی نہیں کی، صرف سودہ ہی آپ کی اس مدت کے دوران بیوی تھیں، یہ بڑی محترم اور شریف عورت تھیں۔ ان کی وفات راجح قول کے مطابق حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت کے آخری سالوں میں 55 ہجری میں ہوئی۔ 

حضرت سودہؓ کے فضائل اور مناقب:

1: نبی کریمﷺ کی زوجیت میں رہنے کی آپؓ خواہش مند اور حریص تھیں، اسی وجہ سے انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ کر دی تھی، تاکہ آپﷺ کا تقرب اور محبت حاصل ہو اور جنت میں آپ کی بیوی بن کر رہیں۔

ابن سعدؓ نے طبقات میں لکھا ہے کہ حضرت سودہؓ نے نبی صلیﷺ سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ آپﷺ مجھ سے رجوع کر لیں، قیامت کے دن مجھے آپﷺ کی بیویوں میں اٹھایا جائے، آپﷺ نے ان سے رجوع کر لیا۔ 

(تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ، طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 54)

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا کہ سودہ بنت زمعہؓ نے اپنی باری عائشہ کو ہبہ کر دی، اور نبی کریمﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس ان کا دن اور سودہ کا دن گزارتے تھے۔ 

(صحیح بخاری: کتاب النکاح: باب المرأۃ تہب یومہا من زوجہا لضرتہا: حدیث: 5212)

2: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمنا کی کہ وہ رہن سہن میں ان کی طرح بن جائیں۔

امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے سودہؓ کے مقابلے میں کسی ایسی عورت کو نہیں دیکھا کہ ہر چیز میں جس کی طرح ہونا مجھے محبوب ہو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب النکاح: باب جواز ہبتہا نوبتہا لضرتہا: حدیث: 1463)

3: حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیقؓ: (ابوبکر کا نام عبداللہ بن عثمان تیمی قریشی ہے)، ان کی کنیت ام عبداللہ ہے، انہوں نے حضورﷺ سے کہا کہ وہ اپنی کنیت رکھنا چاہتی ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھانجے کے نام پر کنیت رکھو، چنانچہ انہوں نے ام عبداللہ کنیت رکھی، عبداللہ کے والد زبیر بن عوامؓ ہیں اور ان کی ماں اسماء بنت ابوبکرؓ ہیں، حضرت عائشہ کی ماں کا نام ام رومان بنت عامر بن عویمر کنانیہ ہے، بعثت نبویﷺ کے چار سال بعد ان کی پیدائش ہوئی، رسول اللہﷺ نے چھ سال کی عمر میں ان کے ساتھ شادی کی اور نو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی، آپﷺ نے ان کے علاوہ کسی دوسری باکرہ لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کی، ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت نازل ہوئی، وہ حضرت خدیجہؓ کے بعد آپﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں اور امت کی عورتوں میں فقہ کی سب سے بڑی ماہر ہیں، اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پاس فتویٰ پوچھا کرتے تھے۔ 

(تفصیلات کے لیے بدر الدین زرکشی کی کتاب ’’الإجابۃ لإیرادما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ کی طرف رجوع کیا جائے۔)

آپﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، ان کی وفات 17 رمضان المبارک 58ھ میں ہوئی، حضرت ابوہریرہؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات کو جنت البقیع میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

• حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ کے بہت سے فضائل اور مناقب کا تذکرہ ملتا ہے، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: حضرت عائشہؓ حضرت خدیجہؓ کے بعد نبی کریمﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو غزوۂ ذات السلاسل کے لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، میں آپﷺ کے پاس آیا اور میں نے دریافت کیا: آپﷺ کا سب سے محبوب کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: عائشہ، میں نے دریافت کیا: مردوں میں؟ آپﷺ نے جواب دیا: اس کے والد۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المغازی: باب غزوۃ ذات السلاسل: حدیث: 4358)

2: رسول اللہﷺ کے ساتھ شادی سے پہلے ریشم کے کپڑے میں حضرت عائشہؓ کی تصویر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کے پاس لے آئے۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے خواب میں تین راتوں تک تم کو دکھایا گیا، جبرئیل ریشم کے کپڑے میں تم کو لے کر میرے پاس آئے اور کہا: یہ تمہاری بیوی ہے، میں نے تمہارا چہرہ کھول کر دیکھا تو وہ تم تھی، میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو پورا کرو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: باب فضائل عائشۃ أم المؤمنین رضی اللہ عنہا حدیث: 2438)

3: حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہﷺ سے ان کو اپنا سلام کہلوایا۔

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن فرمایا: عائشہ! یہ جبرئیل ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: ان پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت ہو، آپ وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشہؓ حدیث: 3768)

4: اس وقت رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوئی جب آپﷺ حضرت عائشہؓ کے بستر میں تھے۔ یہ خصوصیت امہات المؤمنین میں سے کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ام سلمہ! عائشہ کے سلسلے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے بستر میں وحی نازل نہیں ہوئی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ باب فضل عائشہؓ: حدیث: 3775)

5: جب اللہ کے رسول اور دنیوی زندگی کے درمیان انتخاب کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہؓ سے دو میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الأحزاب 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

آپﷺ نے حضرت عائشہؓ کو اپنے والدین سے مشورہ کرنے کے لیے کہا: حضرت عائشہؓ نے اپنے والدین سے مشورہ کرنے سے پہلے ہی رسول اللہﷺ کا انتخاب کیا، بقیہ ازواجِ مطہراتؓ نے بھی ان ہی کی پیروی کی۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ اس موقع پر انہوں نے کہا: میں کس سلسلے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں اللہ اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں، وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ کی بیویوں نے میری طرح ہی کیا۔ 

(صحیح بخاری: کتاب التفسیر: باب قولہ: ’’وإن کنتن تردن اللّٰہ ورسولہ والدار الآخرۃ فإن اللّٰہ أعد للمحسنات منکن أجرا عظیما حدیث: 4786)

6: ان کی وجہ سے بہت سی قرآنی آیتیں نازل ہوئیں، جن میں سے بعض ان کی شان میں ہیں اور بعض پوری امت کے لیے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں نازل ہوئی آیتیں مندرجہ ذیل ہیں:

• واقعہ افک میں حضرت عائشہؓ پر لگائے گئے الزامات سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپؓ کو بری کر دیا اور اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آیتیں نازل فرمائی:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ لَاتَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ النور: آیت 11)

ترجمہ: جن لوگوں نے (عائشہ پر) یہ الزام لگایا ہے وہ تم ہی میں سے چند لوگ ہیں، اس کو تم اپنے لیے شر نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہے، ان میں سے ہر شخص کو جتنا جس نے کیا تھا اس کا گناہ مل گیا، اور ان میں سے جس نے سب سے زیادہ حصہ لیا ہے اس کو سخت سزا ہوگی۔‘‘

الْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبَاتِ اُوْلٰٓئِکَ مُبَرَّئُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیمٌ (سورۃ النور آیت 26)

ترجمہ: گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے، صاف ستھری عورتیں صاف ستھرے کے لائق ہوتی ہیں اور صاف ستھرے مرد صاف ستھر عورتوں کے، یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو یہ (منافقین) کہتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی (جنت میں ) ہے۔‘‘

وہ آیتیں جو ان کی وجہ سے نازل ہوئیں اور وہ پوری امت کے لیے عام ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں:

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ایک ہار عاریتاً لیا جو کھو گیا، چنانچہ رسول اللہﷺ نے چند لوگوں کو اس ہار کی تلاش میں روانہ کیا، راستے میں نماز کا وقت ہوگیا تو انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز پڑھ لی، جب وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے تو اس بارے شکایت کی، جس کے نتیجے میں اس موقع پر تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس پر اسید بن حضیر نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی تم کو کسی ناپسندیدہ چیز سے واسطہ پڑا تو اللہ نے تمہارے لیے اس سے نکلنے کا راستہ بنایا اور اس میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھی۔ 

(صحیح بخاری: کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشۃؓ حدیث: 3773)

7: رسول اللہﷺ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ حضرت عائشہؓ کے گھر میں آپ کی تیمار داری کی جائے، آپﷺ کی وفات ان کے ہاتھوں میں ان ہی کے باری کے دن ہوئی، اور دنیا کے آخری لمحات میں اللہ نے ان دونوں کے تھوک کو جمع کر دیا، اور ان ہی کے گھر میں آپﷺ کی تدفین ہوئی۔ امام بخاریؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نبیﷺ کے پاس آئے، اس وقت میں اپنے سینے سے آپﷺ کو ٹیک لگائے ہوئے تھی، عبدالرحمٰن کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، جس سے وہ مسواک کر رہے تھے، رسول اللہﷺ نے ان کو گھور کر دیکھا، تو میں نے ان سے مسواک لیا اور اس کو خوب چبایا اور بہترین بنا کر نبیﷺ کو دیا، آپﷺ نے اس سے مسواک کیا۔ 

(صحیح بخاری: کتاب المغازی: باب مرض النبیﷺ و وفاتہ: حدیث: 4438، یہی روایت دوسرے الفاظ اور دوسری سند کے ساتھ ابو علی محمد بن محمد اشعث کوفی کی کتاب ’’کتاب الأشعثیات‘‘ میں بھی ہے۔

8: رسول اللہﷺ نے یہ خبری دی کہ عائشہ جنتی ہیں۔

امام بخاریؒ نے قاسم بن محمد سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہؓ بیمار ہوئیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور فرمایا: تم رسول اللہﷺ اور ابوبکر کے پاس سچی جانشین ہو کر جا رہی ہو۔ ابن عباسؓ کا قطعیت کے ساتھ ان کو جنتی کہنا اپنی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ حضورﷺ کے بتانے کی وجہ سے ہی ہوگا۔

امام بخاری رحمۃاللہ اور ترمذی نے عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا کہ انہوں نے کہا: میں نے عمار کو فرماتے ہوئے سنا: یہ آپ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔ 

(صحیح بخاری: فضائل أصحاب النبیﷺ: باب فضل عائشۃؓ: حدیث: 3772، ترمذی: باب من فضل عائشۃؓ: حدیث: 3889، ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

9: حضرت عائشہ امت مسلمہ کی عورتوں میں سب سے بڑی عالمہ ہیں، انہوں نے نبی کریمﷺ سے بے شمار حدیثوں کو روایت کیا ہے، جن کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے، (سیدہ حضرت عائشہؓ نے 2210 حدیثیں روایت کی ہیں، ابو ہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کے بعد چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ روایتیں حضرت عائشہؓ ہی سے منقول ہیں۔ دیکھیے: أسماء الصحابۃ الرواۃ از: ابن حزم: صفحہ 39، ابن جوزی کی کتاب تلفیح فہوم أہل الأثر: صفحہ 363)

اسی وجہ سے مسائل علمیہ میں کبار صحابہؓ ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور فتویٰ دریافت کرتے تھے۔

4: حفصہ بنت عمر بن خطاب عدویہ قریشیہ: یہ عبداللہ بن عمر کی علاتی بہن ہیں۔ ان کی ماں عثمان بن مظعون بن وہب بن حذافہ کی بہن زینب بنت مظعون ہیں۔ ان کے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ بدری کے مدینہ میں انتقال ہونے کے بعد 3 ہجری کو آپﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی، یہ بڑی روزے دار اور بہت زیادہ نمازیں پڑھنے والی عورت تھی، ان کی پیدائش بعثت نبوی کے پانچ سال پہلے ہوئی اور وفات شعبان 45 ہجری میں ہوئی۔