Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دَور میں

  ابو شاہین

سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا حسینؓ سے بہت پیار اور شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔ فاروق اعظمؓ حد درجہ ان کا احترام کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے روشن دور میں ایک وقت ایسا آیا کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے تمام بدری صحابہ کرامؓ کا وظیفہ مقرر کیا۔ آپ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے لیے بھی پانچ پانچ ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا، حالانکہ غزوہ بدر کے موقع پر وہ پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔

سیدنا عمر فاروقؓ کے دل میں رسول اللہﷺ کے نواسوں کے لیے بے پناہ قدر و منزلت تھی۔ ان محبتوں کا اظہار ایک بار یوں ہوا کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا حسینؓ سے کہا پیارے بیٹے! آپ ہمارے پاس ملاقات کے لیے کیوں نہیں آتے؟ چنانچہ ایک دن سیدنا حسینؓ امیر المومنینؓ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اس واقعہ کے راوی وہ خود ہیں فرماتے ہیں میں وہاں گیا تو سیدنا عمر فاروقؓ علیحدگی میں سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بعض اہم امور پر مشورہ کرنے میں مصروف تھے۔ خود ان کا بیٹا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہاں کھڑا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ اگر بیٹے کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی تو مجھے کہاں ملے گی۔ یہ سوچ کر میں واپس آ گیا کچھ وقت گزرا تو سیدنا عمر فاروقؓ سے ملاقات ہوئی۔ پوچھا بیٹے! آپ آتے نہیں؟ عرض کی: میں حاضر ہوا تھا مگر آپ سیدنا معاویہؓ کے ساتھ مصروف تھے میں نے دیکھا کہ آپ کا بیٹا عبداللہ دروازے پر منتظر تھا۔ اسے اجازت نہیں ملی تو میں بھی پلٹ آیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر فاروقؓ نے انہیں جو جواب دیا اسے ذرا غور سے پڑھیں: حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا: آپؓ میری ملاقات کے میرے بیٹے عبداللہ سے زیادہ مستحق ہیں۔ سیدنا عمر فاروق نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوئے فرمایا ہمارے سر پر جو عزت کا تاج ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے بعد خاندانِ نبوت کی برکت کی وجہ سے ہے۔ قارئین کرام! ذرا ان واقعات کو غور سے پڑھیں اور اندازہ کریں کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اہل بیت کے لیے کتنی محبت اور عقیدت تھی۔ میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت کر دوں کہ ہم اہل سنت و الجماعت ان کے حقوق کا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے ہیں تحفظ کرتے چلے آئے ہیں اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں اور اللہ کے رسولﷺ کی اس وصیت پر عمل کرتے ہیں جو آپﷺ نے غدیر خم کے دن ارشاد فرمائی تھی:

اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْ

’’میں تمہیں اپنے اہل بیت کے (حقوق کے) بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈراتا ہوں۔‘‘

اہل سنت و الجماعت اس وصیت کے نفاذ میں سعادت مند قرار پاتے ہیں۔ وہ نہ تو بعض انتہا پسند لوگوں کی طرح ہیں جو سیدنا حسین اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی محبت میں انتہائی غلو کے مرتکب ہوتے ہیں حتیٰ کہ انہیں بعض اوقات نہ صرف رسول اللہﷺ سے بھی آگے بڑھا دیتے بلکہ انہیں مقام الہٰی تک پہنچا دیتے ہیں اور نہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔

قارئین کرام! ان سطور کے راقم کو الحمدللہ تمام اہل بیت کے ساتھ انتہا درجے کی محبت ہے میں ان کی محبت کو ایمان کا لازمی حصہ سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک انہیں کسی بھی قسم کی قولی یا فعلی اذیت دینا حرام ہے۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قیامت کے دن ہمارا حشر ان اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہو۔ مگر ساتھیو! ہم اس بات پر غور کیوں نہ کریں کہ ہمیں ان کی محبت کے لیے غیر مستند قصے کہانیوں کی کیا ضرورت ہے؟ کتنے ایسے واقعات ہیں جو درست نہیں ہیں۔ لوگ انہیں اپنی تقریروں اور تحریروں میں بیان کرتے اور لکھتے آئے ہیں۔ ہم پوری دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ روشنی کے ان میناروں کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے خود ساختہ واقعات کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ان خود ساختہ واقعات سے ان کی شان بڑھ سکتی ہے۔ یہ گھرانہ تو وہ مقدس اور مبارک گھرانہ ہے جس کی رفعت، بلندی اور شان اللہ تعالیٰ نے خود بڑھا دی ہے۔ میں جب بھی ان نفوس قدسیہ کی سیرت پر غور کرتا ہوں تو مجھے چشم تصور سے مدینہ طیبہ میں ننھے سے حسینؓ نظر آتے ہیں جن کے ہونٹوں کو سرور کونین رحمت عالمﷺ چوما کرتے تھے۔

ایک دن جب وہ اپنے بھائی حسنؓ کے ساتھ سرخ لباس پہنے مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو اللہ کے رسولﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے معصوم گرتے پڑتے اپنے نانا محترم کی طرف آگے بڑھے تو آپﷺ رہ نہ سکے منبر سے نیچے اترے اور ان دونوں بھائیوں کو گود میں اٹھا کر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:

اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ۞ (سورۃ التغابن آیت 15)

ترجمہ: تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔ 

میں نے اپنے بیٹوں کو گرتے پڑتے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہ کر سکا اور خطبہ درمیان میں منقطع کر کے منبر سے اترا اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا۔ اللہ کے رسولﷺ ان دونوں بھائیوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔ ایک روز آپﷺ نے اللہ کے حکم کے ساتھ ان دونوں کو ایک اعزاز عطا فرمایا کہ ’’حسن اور حسین دونوں بھائی جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

اور یاد رہے کہ ان کی والدہ سیدہ فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

قارئین کرام! اہل بیت اور سیدنا حسینؓ کی ساری خوبیاں ایک طرف اور آپﷺ کی زبان مبارک سے ان کے لیے نہ صرف جنت کی بشارت بلکہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہونے والی بشارت کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو اکیلی یہ بشارت ہی ان کے محترم، باوقار، باعزت اور اعلیٰ و افضل ہونے کے لیے کافی ہے۔