سیدنا حسین رضی اللہ عنہ خلیفہ سوم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دَور میں
ابو شاہینسیدنا عثمان بن عفان ذوالنورینؓ کی زندگی تاریخ امت کا روشن باب ہے۔ آپ ایمان و علم، اخلاق و آثار کے ساتھ انتہائی عظیم تھے۔ آپ کی عظمت اسلام کے فہم و تطبیق اللہ کے ساتھ عظیم تعلق اور رسول اللہﷺ کے طریقہ کی اتباع کا نتیجہ تھی یقیناً سیدنا عثمانؓ ان ائمہ میں سے ہیں جن کے طرز عمل اور اقوال و افعال کی لوگ اقتدا کرتے ہیں آپ کی سیرت ایمان صحیح اسلامی جذبہ اور دین اسلام کے فہم سلیم کے قوی مصادر میں سے ہے۔ آپ دامادِ رسول اکرمﷺ تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کی زوجیت میں نبی کریمﷺ کی دو بیٹیاں آئی ہوں۔ بلکہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اس وقت سے لے کر قیامت تک سیدنا عثمان غنیؓ کے علاوہ کسی کی زوجیت میں نبیﷺ کی دو بیٹیاں نہیں آئیں۔ اسی لیے آپ کو ذوالنورینؓ سے ملقب کیا گیا۔
حضرت عثمان غنیؓ کی ولادت مبارک صحیح قول کے مطابق مکہ میں عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔ دور جاہلیت میں بھی سیدنا عثمان غنیؓ کا شمار اپنی قوم کے افضل ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ آپ جاہ و حشمت کے مالک، شیریں کلام، شرم و حیا کے پیکر اور مال دار تھے۔ قوم کے لوگ آپ سے بڑی محبت کرتے تھے۔ جاہلیت میں بھی کبھی کسی بت کو سجدہ نہ کیا اور نہ کبھی کسی برائی کا ارتکاب کیا۔
جاہلیت میں عرب کے علوم و معارف کا حضرت عثمان غنیؓ کو بخوبی علم تھا۔ مائیں اپنے بچوں کو لوریاں سناتیں کہ رحمان کی قسم! میں تجھ سے اس قدر محبت کرتی ہوں جیسے قریش کے لوگ عثمان سے محبت کرتے ہیں۔ سیدنا عثمان غنیؓ بہت زیادہ مال دار تھے اور اپنا سارا مال خیر کے کاموں پر لگا دیتے تھے۔ اسلام قبول کیا تو آپؓ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمان انتہائی خوش ہوئے۔ حضرت عثمان غنیؓ اور اہل ایمان کے درمیان محبت و اخوت ایمانی کا رشتہ مضبوط ہوا۔ سیدہ رقیہ بنت رسولﷺ کے ساتھ شادی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان غنیؓ کو عزت بخشی۔ رسول اللہﷺ نے سیدہ رقیہؓ کا عقد عتبہ بن ابولہب اور سیدہ کلثومؓ کا عقد عتیبہ بن ابولہب سے کر رکھا تھا۔ لیکن جب سورۃ اللہب ﴿تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ﴾ نازل ہوئی تو ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب نے اپنے دونوں بیٹوں کو طلاق دینے کا حکم دے دیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ دونوں نے اپنے والدین کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نبی کریمﷺ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دے دی۔ سیدنا عثمانؓ کو جب اس کی خبر ملی تو بےحد خوش ہوئے اور سیدہ رقیہؓ سے شادی کا پیغام رسول اللہﷺ کے سامنے پیش کیا۔ رسول اللہﷺ نے پیغام کو قبول کرتے ہوئے شادی کر دی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہؓ نے رقیہؓ کو رخصت کیا۔ حضرت عثمان غنیؓ قریش میں انتہائی خوب صورت تھے اور سیدہ رقیہؓ حسن و جمال میں حضرت عثمانؓ سے کم نہ تھیں۔ رخصتی کے وقت لوگوں کی زبان پر یہ شعر تھا:
’’خوبصورت جوڑے جنہیں کسی انسان نے دیکھا رقیہ اور ان کے شوہر عثمان(رضی اللہ عنہما) ہیں۔‘‘
سیدنا عثمان غنیؓ نے نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے امت پر شفقت کا درس سیکھا تھا اور یہ شفقت ایام خلافت عہد نبوی اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں نمایاں ہوئی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنی بصارت و بصیرت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر نبی کریمﷺ کی شفقت و رحمت اور ان کے امن و راحت پر حرص شدید کا مشاہدہ کیا تھا۔ یہ حضرت عثمان غنیؓ کی شفقت ہی تھی کہ آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن اپنی زندگی میں فساد نہ برپا ہونے دیا اور حضرت عثمان غنیؓ کا تعلق حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسا تھا کہ فساد کے وقت خاص طور پر حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپؓ کے دفاع کے لیے پہرا داری کر رہے تھے۔ (سبحان اللہ)
لیکن آج کا مسلمان اختلاف کی سیڑھی پر بیٹھا ہے کہ نیچے اترنے کا نام نہیں لیتا۔ مزید مطالعہ کے لیے ہماری کتب خلفاء راشدین کا سلسلہ پڑھیے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ 35 ہجری میں ہوئی۔ مدینۃ الرسولﷺ میں اس وقت آپؓ خلافت کے منصب پر تھے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔