سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے بہن بھائی
ابو شاہینسیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہما
5 ہجری میں سیدہ فاطمہؓ کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام زینب رکھا گیا۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کی طرح اپنے نانا محمد رسول اللہﷺ سے محبت اور پیار حاصل کیا۔ سیدہ فاطمہؓ کی گود میں پلنے والی سیدہ زینبؓ نہایت لاڈلی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی تربیت بہت مثالی ہوئی تھی۔ ان میں جرأت و بہادری اور حق گوئی شروع دن ہی سے تھی۔ سیدہ زینبؓ نے اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔ ابھی چند سال کی تھیں کہ نانا اور والدہ ماجدہ کی محبت اور شفقت سے محروم ہو گئیں۔ رسول اللہﷺ کی لخت جگر سیدہ زینبؓ کی صاحبزادی امامہؓ تھوڑے عرصے کے بعد ان کی والدہ بن کر حرمِ علیؓ میں آ گئیں جس سے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہما کو بہت خوشی ہوئی۔ گھر کی رونق ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچ گئی۔ سیدنا علیؓ نے اپنی لخت جگر سیدہ زینب کا نکاح اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفرؓ سے کر دیا۔ شادی کے تھوڑے عرصے کے بعد سیدہ زینبؓ کے ہاں وقفے وقفے سے چار بیٹے علی، عون، عباس، محمد اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ سیدہ زینبؓ نہایت ذہین، سمجھ دار اور بہادر خاتون تھیں۔ صوم و صلاۃ کی پابند تھیں۔ تہجد بہت اہتمام سے پڑھا کرتی تھیں۔ حتیٰ کہ سانحہ کربلا کے موقعہ پر بھی ان کی تہجد نہیں چھوٹی۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں بہت سی خصائل حمیدہ جمع کر دیے تھے۔ سخاوت میں بے مثال تھیں، نہایت فصیح و بلیغ اور قوت گویائی کا خوب ملکہ رکھتی تھیں۔ یہ عظیم بہن اپنے عظیم بھائی سیدنا حسینؓ کے ساتھ میدان کربلا میں موجود تھیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر دیکھے اور نہایت صبر و تحمل کا مظاہر کیا۔
غالب گمان یہ ہے کہ حضرت زینبؓ مدینہ منورہ میں مدفون ہیں۔ واللہ اعلم
سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما
6 ہجری میں سیدہ فاطمۃؓ کے آنگن میں ایک کلی کھلی جس کا نام ام کلثوم رکھا گیا۔ یہ چوتھے خلیفہ امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی لخت جگر، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی بہن اور رسول اللہﷺ کی نواسی تھیں۔ اللہ کے رسولﷺ کو ان کی پیدائش پر بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے بھی اپنے نانا محترم سے بہت پیار حاصل کیا۔ یہ بہت مقدس گھر انا تھا جہاں اعلیٰ اخلاقی اقدار موجود تھیں۔
سیدہ ام کلثوم نہایت ذہین، سمجھ دار اور نیک و صالح خاتون تھیں۔ سیدہ ام کلثومؓ ابھی چند سال کی تھیں کہ وہ محبت کرنے والے نانا محترم سے اور اس کے چند ماہ بعد ہی شفیق و مہربان والدہ محترمہ سے بھی محروم ہو گئیں۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
سیدہ امؓ کلثوم نے یکے بعد دیگرے بہت سے صدمے برداشت کیے۔ سیدہ ام کلثومؓ فطری طور پر پریشان اور اداس رہنے لگی تھیں کہ سیدہ امامہ بنت زینبؓ ان کی والدہ بن کر حرمِ علیؓ میں آ گئیں۔ سیدہ امامہؓ کے آتے ہی انہیں دلی اطمینان اور نہایت خوشی ہوئی۔ سیدہ امامہؓ نے بھی ان کی خوب دیکھ بھال کی اور نہایت عمدہ تربیت کی۔ سیدہ ام کلثومؓ کے لیے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدنا علیؓ کے پاس ام کلثومؓ کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ سیدنا علیؓ نے فرمایا میں نے اپنی بیٹیوں کے لیے اپنے بھائی جعفر بن ابی طالبؓ کے بیٹوں کا انتخاب کیا ہے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے دوبارہ پیغام نکاح بھیجا اور کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ میری نسبی اور سسرالی رشتے داری کے سوا تمام نسبی، سببی اور سسرالی رشتہ داریاں قیامت کے دن ختم ہو جائیں گی۔ میرا نبیﷺ سے سببی تعلق بھی تھا اور نسبی بھی میں چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھ سسرالی تعلق بھی قائم ہو جائے۔ سیدنا علیؓ نے سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطابؓ سے کر دیا۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدہ ام کلثومؓ کو چالیس ہزار درہم حق مہر ادا کیا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ مسجد نبویﷺ میں مہاجرین صحابہ کرامؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے مجھے شادی کی مبارک باد دو۔ انہوں نے مبارک باد دی اور کہا امیر المؤمنین آپ نے کس سے شادی کی ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا علیؓ کی بیٹی (ام کلثوم) سے جو رسول اللہﷺ کی نواسی ہیں اور میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ قیامت کے دن تمام نسبی، سببی اور سسرالی رشتہ داریاں میری نسبی اور سسرالی رشتہ داریوں کے سوا ٹوٹ جائیں گی۔
اس جوڑے کی زندگی مثالی تھی۔ شادی کے تھوڑے عرصہ بعد سیدہ ام کلثومؓ کے آنگن میں ایک پھول کھلا جس کا نام زید رکھا گیا۔ کچھ عرصے بعد ایک کلی کھلی جس کا نام رقیہ رکھا گیا۔ امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ کی شہادت کے بعد سیدنا علیؓ نے ان کا نکاح اپنے بھتیجے عون بن جعفر سے کر دیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی محمد بن جعفر نے اور ان کے بعد عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا۔ انہی کے عقد میں سیدہ ام کلثومؓ نے وفات پائی۔ سیدہ ام کلثومؓ کے بیٹے سیدنا زید بن عمرؒ ایک رات بنو عدی کے بعض افراد کے درمیان صلح کرانے کے لیے گئے تھے کہ کسی آدمی نے رات کی تاریکی میں انہیں زخمی کر دیا۔ بالآخر وہ شہید ہو گئے۔ جیسے ہی ان کی والدہ سیدہ ام کلثومؓ کو ان کی شہادت کی اطلاع ملی تو ان پر غشی طاری ہو گئی اور اسی حالت میں وہ وفات پا گئیں ۔انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
سیدنا حسنؓ کی فرمائش پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی سوتیلی والدہ سیدہ ام کلثومؓ اور بھائی سیدنا زید بن عمر رحمۃاللہ کا جنازہ پڑھایا۔ عظیم ماں اور عظیم بیٹے کو ایک ہی وقت میں سپرد خاک کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں پر اپنی رحمت کی بارش برسائے۔ آمین
سیدنا محسن بن علی رضی اللہ عنہما فاطمۃؓ کے تیسرے پھول:
شادی کے تین چار سال بعد سیدہ فاطمہؓ کے آنگن میں تیسرا پھول کھلا جس سے گھر میں خوب رونق ہوئی۔ سیدنا علیؓ نے ان کا نام حرب رکھا۔ رسول اللہﷺ سیدنا علیؓ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ اور دریافت فرمایا کہ تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ عرض کی کہ حرب۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نہیں یہ محسن ہے۔
سیدنا محسن بن علی رضی اللہ عنہ بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ معتبر اور مستند کتب تاریخ میں ان کے تفصیلی حالات
نہیں ملتے۔