حضرت ابراہیم کو آزمائشوں کے بعد امامت ملی اس لئے امامت منصوص من اللہ عہدہ ہے: رافضیوں کی دلیل کا رد
جعفر صادقحضرت ابراہیم کو آزمائشوں کے بعد امامت ملی اس لئے امامت منصوص من اللہ عہدہ ہے: رافضیوں کی دلیل کا رد
حضرت ابراہیم کو آزمائشوں کے بعد امامت ملی اس لئے امامت منصوص من اللہ عہدہ ہے: رافضیوں کی دلیل کا رد
وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا (سورة البقرة:124)
اس بات کا ذکر کہ
قال ومن ذریتی قال لا ینال عھدی الظالمین۔
انہوں نے کہا اور میری اولاد سے بھی۔ارشاد ہوا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔(البقرۃ۔124)
اور اس جعل امامت(امام بنانے) کا ابراہیم سے جو وعدہ کیا،اس کو کیسے اللہ نے پورا کیا، وہ دوسری آیت سے واضح ہے۔
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ ؕ وَ یَعۡقُوۡبَ نَافِلَۃً ؕ وَ کُلًّا جَعَلۡنَا صٰلِحِیۡنَ
اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب اس پر مزید اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا ۔
(سورة الأنبياء 72)
وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ فِعۡلَ الۡخَیۡرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءَ الزَّکٰوۃِ ۚ وَ کَانُوۡا لَنَا عٰبِدِیۡنَ
اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکٰوۃ دینے کی وحی ( تلقین کی ، اور وہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے ۔ (سورة الأنبياء 73)۔
اور ابراہیم کی اولاد میں سے بنی اسرائیل کے انبیاء ہیں(جن کو امام بنایا) ان سے متعلق اللہ نے فرمایا:
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا چاہیے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ۔
وَ جَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ ؕ وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ
اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے ، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے ۔(سورت السجدہ 23,24)
پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے ابراہیم کا وعدہ کہ میری اولاد کو امام بنائیں اللہ نے قرآن میں واضح کیا کہ اس وعدے کے تحت اسحق،یعقوب اور بنی اسرائیل کے انبیاء(موسی،عیسی) کو امامت عطا کی گئی۔
چنانچہ نھج البلاغہ میں حضرت علی المرتضی نے نبی کریم ص کو بھی”امام المتقین” کہا۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم متقین کے امام اور طلبگاران ہدایت کے لئے آنکھوں کی بصارت تھے۔
غرض جتنے انبیاء آئے جن کا تعلق ابراہیم کی اولاد اسحاق یا اسماعیل (حضرت محمد)سے ہے ،ان کی (جعل امامت) امام بنانے کا وعدہ اللہ نے پورا کیا۔
ایک اور چیز کہ جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے،وہ متقین اور نیک افراد کی امامت کا تعلق ہے،اس کیلے ایک عام مسلمان بھی(جعل امامت) کیلے دعا کر سکتا ہے:
واجعلنا للمتقین اماما۔(الفرقان 74)
اے اللہ ہمیں متقین کا امام بنا دے۔
معلوم ہوا کہ ایک عام مسلمان جو نہ معصوم ہے اور نہ منصوص من اللہ ہے،لیکن وہ امام بن سکتا ہے اگر پرہیزگار اور صالح ہو تو۔
بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ امام وہ ہے جسے خدا بنائے،لوگ امام نہیں بنا سکتے۔اور وہ منصوص من اللہ اور معصوم ہوتا ہے اور اس کی دلیل "واجعلنا" کہ امام کو خدا بناتا ہے اور منصوص من اللہ اور مفترض الطاعۃ ہے۔حالانکہ اوپر کی دعا جو ایک عام مسلمان بھی کرسکتا ہے “اے اللہ ہمیں متقین کا امام بنا دے” سے واضح ہے کہ اللہ کی توفیق سے کوئی بھی متقی اور نیک صالح شخص(جو نہ معصوم ہے اور نہ منصوص من اللہ) اللہ کی توفیق سے امام بن سکتا ہے،اور اگر یہ (جعل امام) کیلئے دعا قبول ہو جائے تو وہ متقین کا امام بنے گا۔
یعنی غیر انبیاء کیلئے جعل امامت کیلے معصوم ہونا یا وحی کا نازل ہونا ضروری نہیں،چنانچہ” جعل امامت” جو آئمہ سوء یا برے آئمہ سے متعلق ہے اس میں بھی خدا تعالی نے”وجعلنا” کا لفظ استعمال کیا ہے۔یعنی” ہم نے امام بنایا”ملاحظہ کیجے
آیت:
وجعلنا ھم آئمۃ یدعون الی النار ویوم القیامۃ لاینصرون(القصص،41)
اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں) کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن اُن کی مدد نہیں کی جائے گی
اس آیت میں "اجعلنا" آیا ہے برے آئمہ کیلے؟؟
کیا برے آئمہ بھی منصوص من اللہ ہیں،کہ اللہ کی طرف سے ان کو یہ منصب عطا کیا جاتا ہے۔
پس "واجعلنا" کا مفہوم واضح ہے کہ نیک و بد دونوں اماموں کا خدا نے"وجعلنا" کے ساتھ ذکر کیا۔
♦️ ایک اور چیز کہ امام نبی سے افضل ہے،اس سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ابراہیم نے نبی ہوتے ہوئے امام بنانے کی (جعل امامت) دعا کی،اس سے معلوم ہوا کہ امامت نبوت سے افضل ہے،یہ بھی قرآنی مفہوم سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے،کیا ایک عام مسلمان(جعل مسلم) نبی سے افضل ہے؟؟؟یقینا نہیں !!
بلکہ ایک عام مسلمان سے نبوت اور نبی کا مقام افضل ہے،چنانچہ "اجعلنا" سے غلط مفہوم نکالنے والوں کا رد اس آیت میں ہے کہ
حضرت ابراہیم نے نبی ہوتے ہوئے(جعل مسلم) مسلمان بنانے کی بھی دعا کی تھی،صرف امام بنانے(جعل امامت) کی دعا نہین کی،تو کیا مسلمان ہونا ایک نبی ہونے سے افضل ہے اور ایک مسلمان ایک نبی سے افضل ہے؟؟
غور فرمائیں ، قرآن پاک میں ہے
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ “
اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مسلمان(مطیع) اور فرمانبردار بنا۔اور ہماری ذریت سے اپنی ایک فرمانبردار امت پیدا کر اور ہمیں ہماری عبادت کی حقیقت سے آگاہ فرما اور ہماری توبہ قبول فرما۔یقینا تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔”(بقرہ:127,128)
واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا
(یعنی ابراہیم اور اسماعیل نے دعا کی اے اللہ ہمیں اور ہماری ذریت کو مسلمان بنا دے)۔
جو لوگ “اجعلنا” سے دلیل پکڑتے ہیں ان سے سوال ہے کیا مسلمان بھی منصوص من اللہ ہے؟؟
تو کیا مسلمان ہونا زیادہ افضل تھا کہ حضرت ابراہیم نے نبی ہوتے ہوئے مسلمان(نبوت سے افضل عہدہ) بنانے کی دعا کی؟؟ہر گز نہیں۔اسی طرح امام بنانے کی دعا کی تو کیا امام نبی سے افضل ہے۔ہرگز نہیں۔