امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور اتباع نبوی
علی محمد محمد الصلابی6۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور اتباع نبوی:
حضرت علیؓ نبی اکرمﷺ کے اتباع کے شیدائی تھے۔ آپ کی عملی زندگی میں اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں، یہاں بطورِ نمونہ چند مثالیں ذکر کی جارہی ہیں، کہ جن میں حضرت علیؓ ہر چھوٹی اور بڑی سنت کے اتباع پر فریفتہ نظر آتے ہیں:
سواری پر سوار ہونے کی دعا:
امام عبدالرزاق سے روایت ہے کہ جس شخص نے حضرت علیؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا اس نے مجھے بتایا کہ جب آپ نے اپنا قدم رکاب میں رکھا تو کہا: ’’بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ اور جب برابر بیٹھ گئے تو کہا: ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ پھر کہا:
سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ، وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ
’’تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے اس سواری کو میرے لیے مسخر کیا، ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں ہیں اور ہم اپنے رب کی طرف ضرور پلٹنے والے ہیں۔‘‘
پھر تین مرتبہ ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ اور تین مرتبہ ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہا اور پھر آپ نے یہ دعا پڑھی:
اَللّٰہُمَّ لَا إِلٰہَ إِلَّا اَنْتَ، ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْلِيْ اِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔
پھر سیدنا علیؓ ہنسنے لگے، آپ سے پوچھا گیا: اے امیر المؤمنین کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: جس طرح میں نے کیا ہے اسی طرح رسول اللہﷺ کو کرتے دیکھا تھا اور جو میں نے پڑھا ہے رسول اللہﷺ نے وہی پڑھا تھا، پھر آپﷺ ہنسنے لگے تھے، ہم نے پوچھا تھا اے اللہ کے رسولﷺ آپ ہنس کیو ں رہے ہیں؟ توآپﷺ نے ارشاد فرمایا:
اَلْعَبْدُ أَوْ قَال: عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ اِذَا قَالَ: لَا إِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا اَنْتَ، یَعْلَمُ اَنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا ہُوَ۔
(مسند أحمد: حدیث نمبر: 930، اس کی سند حسن لغیرہ ہے۔)
’’بندہ یا فرمایا: میں بندہ کی اس ادا سے خوش ہو جاتا ہوں، جب وہ کہتا ہے کہ ’’اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں نے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے تو مجھے بخش دے، تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں،‘‘ وہ جانتا ہے کہ گناہ کو صرف اللہ ہی بخش سکتا ہے۔‘‘
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پینا:
عطاء بن سائب، زادان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ حضرت علیؓ کی طرف دیکھنے لگے، جیسے وہ ناپسند کر رہے ہوں، سیدنا علیؓ نے فرمایا: کیا دیکھ رہے ہو؟ اگر میں کھڑے ہو کر پیوں تو رسول اللہﷺ کو کھڑے ہو کر پیتے دیکھا ہے اور اگر بیٹھ کر پیوں تو رسول اللہﷺ کو بیٹھ کر پیتے ہوئے دیکھا ہے۔
(مسند أحمد: حدیث نمبر 1128) اس کی سند حسن ہے۔ بوقت ضرورت کھڑے ہو کر پینا جائز ہے۔ (مترجم)
وضو سے متعلق تعلیم نبوی:
عبد خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے ہمیں نبی کریمﷺ کے وضو کا طریقہ بتایا، غلام نے سیدنا علیؓ کی دونوں ہتھیلیوں پر پانی ڈالا، آپؓ نے دونوں کو خوب اچھی طرح دھو لیا، پھر آپؓ نے اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈالا اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ کہنیوں تک ہاتھ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈالا، پانی کم تھا اس لیے برتن کے پیندے تک پانی میں ہاتھ لے گئے اور باہر لائے۔ پھر دوسرے ہاتھ پر مسح کیا،پھر دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت تین تین بار دھویا، پھر ایک چلو پانی ہاتھ میں لیا، اسے نوش کیا اور فرمایا: رسول اللہﷺ اسی طرح وضو کرتے تھے۔
(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ حدیث نمبر: 876) یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔)