ایک صدی کے بعد آج کا کوئی آدمی باقی نہیں رہے گا
علی محمد محمد الصلابیحضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علیؓ کے پاس آئے تو آپؓ نے ان سے پوچھا: کیا تم ہی کہتے ہو کہ جب لوگوں پر سو سال گزر جائیں گے تو زمین پرکوئی آنکھ دیکھتی ہوئی نظر نہ آئے گی؟ بے شک رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
لَا یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَعَلَی الْاَرْضِ عَیْنٌ تَطْرُفُ مِمّنْ ہُوَ حَیٌّ الْیَوْمَ، وَاللّٰہِ اِنَّ رَخَائَ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ مَائَۃَ عَامٍ۔
(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 714، اس کی سند قوی ہے۔ حضرت علیؓ کے اس قول کا مطلب اس حدیث کی تردید ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ اگرچہ صحابہ کرامؓ کا دور ختم ہو جائے گا وہ باقی نہ رہیں گے، لیکن امت زوال پذیر نہ ہوگی بلکہ اسلامی دعوت دنیا میں پھیلے گی مسلمانوں کو عروج و غلبہ حاصل رہے گا۔ (مترجم)
’’آج جو لوگ باحیات ہیں ایک سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا۔ اللہ کی قسم! اس امت کے لیے خوش حالی سو سال کے بعد ہے۔‘‘