سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کرنے والے لوگ
علی محمد محمد الصلابیسیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کرنے والے لوگ:
سیدنا علیؓ اپنے دور خلافت میں تمام صحابہ کرامؓ سے زیادہ سنت کا علم رکھتے تھے، انھیں ایام میں ایک مرتبہ سیدہ عائشہؓ کے سامنے حضرت علیؓ کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگیں: اس وقت جتنے صحابہؓ باحیات ہیں ان میں حضرت علیؓ کو سنت کا سب سے زیادہ علم ہے۔
(الطبقات: ابن سعد: جلد 2 صفحہ 338)۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجود آپ سے کل صرف پانچ سو پچاسی احادیث مروی ہیں، جو کہ بعض دیگر صحابہ کی مرویات کے بالمقابل بہت کم ہیں۔
(تاریخ الخلفاء: السیوطی: صفحہ 171)۔
اس کے کچھ اسباب ہیں:
قضاء و عدل، انصرام حکومت اور جنگی مشغولیات کی کثرت سے حضرت علیؓ کو اس بات کا موقع کم ملتا تھا کہ لوگوں کو فتویٰ دیں اور دروس و مواعظ کی مجلسیں منعقد کریں، جب کہ یہی چیزیں عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے دیگر اکابر صحابہؓ کے علم کی نشر و اشاعت کا سبب بنیں۔
• حضرت علیؓ سے متعلق افراط و تفریط کرنے والوں میں نفس پرستوں اور بدعتیوں کا ظہور ہوا، جس کی وجہ سے آپؓ پر جھوٹ اور افترا پردازی کی کثرت ہوگئی، اس لیے علماء نے اس کی تحقیق پر زور دیا کہ کیا حضرت علیؓ تک پہنچنے والی سندیں صحیح ہیں یا نہیں۔
• آپ کے دورِ خلافت میں فتنوں کی کثرت اور شرپسندوں کا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اس بات سے مانع رہا کہ کس پر اعتماد کرتے ہوئے اس سے حدیث بیان کریں۔ حضرت علیؓ فرماتے تھے یہاں تو علم کا ذخیرہ ہے، کاش میں اس کے حاملین کو پا لیتا۔
(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 3)
چنانچہ احادیث کے بیان کرنے اور لینے میں حضرت علیؓ کا ایک واضح منہج تھا، جس کا اختصار یہ ہے کہ:
• رسول اللہﷺ کی طرف جھوٹی روایت منسوب ہونے سے ہمیشہ ڈرتے رہتے تھے، کیوں کہ آپ ہی اس حدیث کے ناقل ہیں، جس میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتْبَوَّأَ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔
(صحیح سنن ابن ماجہ: ألبانی: جلد 1 صفحہ 13، امام البانی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث متواتر ہے۔ دیکھیے: صحیح الجامع: 6519، مترجم)
’’جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘
• روایت کی تحقیق کرتے اور راوی سے قسم لیتے، چنانچہ حضرت علیؓ کا خود بیان ہے کہ جب میں رسول اللہﷺ سے براہِ راست پر کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے جتنا چاہتا فائدہ پہنچاتا، لیکن جب کسی دوسرے سے آپﷺ کی حدیث سنتا تو اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم اٹھا لیتا تو اس کی روایت کو مان لیتا۔
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 1395، اس کی سند صحیح ہے۔)
• منکر اور شاذ احادیث روایت کرنے سے قطعی پرہیز:
حضرت علیؓ نے فرمایا: عوام الناس کو ایسی حدیث سناؤ جنھیں وہ سمجھ سکیں اور جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہے اسے چھوڑ دو، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول جھٹلائے جائیں۔
(صحیح البخاری: العلم: باب من خص بالعلم قوما دون قوم۔)
حضرت علیؓ نے ابوبکر، عمر، مقداد بن اسود رضی اللہ عنہم اور اپنی زوجہ محترمہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے احادیث روایت کی ہیں۔
• سیدنا علیؓ سے صحابہ تابعین اور آپ کے اہل خانہ کے علاوہ بےشمار لوگوں نے روایات نقل کی ہیں، یہاں چند مشہور صحابہ کرامؓ کا ذکر کیا جاتا ہے، جنھوں نے سیدنا علیؓ سے احادیث اخذ کی ہیں:
1: ابوامامہ ایاس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ: آپ کا تعلق قبیلہ بنوحارثہ سے ہے، آپ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں، آپ نے رسول اللہﷺ سے تین احادیث بیان کی ہیں، غزوۂ بدر کے موقع پر آپ ہی کو رسول اللہﷺ نے حکم دیا تھا کہ جاؤ اپنی ماں کی خدمت کرو، اسی میں جہاد ہے۔
(الاستیعاب: ابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 1601)۔
2: رسول اللہﷺ کے غلام ابورافع القبطی رضی اللہ عنہ: جن کا نام ابراہیم تھا اور ایک روایت میں ہے کہ سنان تھا، جب کہ تیسری روایت ہے کہ یسار نام تھا، ابن عبدالبر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ان کا سب سے مشہور نام اسلم تھا، حضرت علیؓ کے دورِ خلافت 40ھ میں آپؓ کی وفات ہوئی۔‘‘(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 16)۔
3: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ: آپ کا نام سعد بن مالک بن سنان بن ثعلبہ انصاری ہے، پندرہ سال کی عمر میں انھوں نے رسول اللہﷺ کی معیت میں غزوہ کیا۔ 74ھ میں آپؓ کی وفات ہوئی۔
(الاستیعاب: ابن عبدالبر: جلد 4 صفحہ 1671)۔
4: جابر بن عبداللہ بن عمر بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب انصاری السلمی رضی اللہ عنہ: حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی۔ 78ھ میں آپ کی وفات ہوئی، آپ سنن نبوت کے حفاظ میں سے ایک تھے۔
(الاستیعاب: ابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 219)۔
5: جابر بن سمرہ بن جنادہ بن جندب العامری السوائی رضی اللہ عنہ: آپ بنوزہرہ کے حلیف تھے، آپ کی ماں کا نام خالدہ بنت ابی وقاص تھا جو کہ سعد بن ابی وقاصؓ کی ہمشیرہ تھیں، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ہے، آپ کا بیان ہے کہ دو ہزار سے زیادہ مرتبہ رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف ملا ہے، کوفہ میں مقیم ہوئے اور وہیں 74ھ میں وفات ہوئی۔
(الاستیعاب: ابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 219)۔
6: زید بن ارقم بن زید بن قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ: آپ کی کنیت ایک روایت کے مطابق ابوعمرو اور دوسری کے مطابق ابوعامر ہے۔ کوفہ میں 66ھ میں اور دوسری روایت ہے کہ 68ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
7: عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ: سیدنا علیؓ کے بھتیجے، حبشہ میں مسلمانوں میں سب سے پہلے آپ کی ولادت ہوئی۔ 90 سال کی عمر پائی اور 80ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 4 276)۔
8: عبداللہ بن عمر بن خطاب القرشی: العدوی رضی اللہ عنہ: بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے باپ کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ 84 سال کی عمر پائی اور 63ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(وفیات الأعیان: جلد 2 صفحہ 236)۔
9: عبداللہ بن مسعود بن غافل بن وائل الہذلی رضی اللہ عنہ: آپ ان صحابہ میں سے ہیں جو شروع شروع میں مسلمان ہوئے۔ 32ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(الأستیعاب: جلد 2 صفحہ 988)۔
10: عمرو بن حریث بن عثمان القرشی مخزومی رضی اللہ عنہ: آپ کی کنیت ابوسعید ہے، آپ کو نبی کریمﷺ کے دیدار و سماع کا شرف حاصل ہے۔ نبی کریمﷺ نے آپ کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوئے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، کوفہ میں مقیم ہوئے، بڑے ہی معزز و مکرم تھے، 85ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 1672)۔