سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے مشہور تابعین
علی محمد محمد الصلابی1: قاضی ابوالاسود الدؤلی البصری: باختلاف روایات آپ کا نام ظالم بن عمرو بن سفیان، یا عمرو بن عثمان، یا عثمان بن عمرو تھا۔ عہدِ نبوی میں آپ مسلمان ہوئے اور جنگ جمل میں سیدنا علیؓ کے ساتھ شرکت کی، امام ابن معین اور عجلی وغیرہما نے آپ کو ثقہ کہا ہے۔ عبید اللہ بن زیادہ کی دورحکومت میں 69ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 3 صفحہ 184)۔
2: فقیہ شریعت ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری: آپ کا نام ایک روایت کے مطابق حارث اور دوسری روایت کے مطابق عامر تھا، ابن سعد، عجلی، اور ابن حبان نے آپ کو ’’ثقہ‘‘ کہا ہے۔ عجلی کا بیان ہے کہ قاضی شریح کے بعد آپ کوفہ کے منصب قضاء پر فائز ہوئے، اپنے باپ ابوموسیٰ، علی، حذیفہ، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، وغیرہ سے احادیث روایت کی ہیں، باختلاف روایات 83ھ یا 104ھ یا 107ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 104)۔
3: حافظ قرآن ابوعبدالرحمٰن السلمی عبداللہ بن حبیب بن ربیعہ الکوفی:: ابومریم زید بن حبیش بن حبانہ بن اوس الاسدی:لیہم نے آپ کو ثقہ کہا ہے۔ آپ نے عمر، عثمان، علی، سعد، خالد بن ولید، ابنِ مسعود اور حذیفہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے حدیث روایت کی ہے۔ باختلاف روایات 72ھ میں (85) سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی، سیدنا علیؓ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھے۔
(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 67)۔
4: ابومریم زید بن حبیش بن حبانہ بن اوس الاسدی: ایک روایت کے مطابق آپ کی کنیت ابومطرف تھی، آپ کوفی ہیں، امام ابن معین نے آپ کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔ باختلاف روایات 81ھ یا 82ھ میں ایک سو بیس سال کی عمرمیں آپ کی وفات ہوئی۔ (طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 127)۔
5: قبیلہ قضاعہ سے تعلق رکھنے والے ابوسلیمان زید بن وہب الجہنی: جلیل القدر ثقہ تابعین میں آپ کا شمار ہے، آپ کی روایات بالاتفاق قابل حجت ہیں، ابن معین وغیرہ نے آپ کی توثیق کی ہے، حجاج کے دور حکومت میں 90ھ سے قبل یا اس کے بعد کے ایام میں آپ کی وفات ہوئی۔ (تہذیب التہذیب)
6: ابو امیہ بن سوید بن غفلۃ بن عوسجہ بن عامر: دیدارِ نبویﷺ کی غرض سے اپنے وطن سے سفر کیا، لیکن شرفِ ملاقات سے پہلے ہی نبی کریمﷺ کی وفات ہو گئی، آپ کو ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کی صحبت حاصل رہی۔ 128) سال کی عمر میں 82ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 182)۔
7: شریح بن ہانی بن یزید بن نہیک الحارثی، المذحجی ابن المقدام الکوفی: عہد رسالت کو پایا، لیکن دیدارِ رسول کا شرف حاصل نہ ہوسکا، سیدنا علیؓ کے بڑے بزرگ ساتھیوں میں سے تھے۔ سجستان میں ابوبکرہؓ کے ساتھ 78ھ میں آپ کی شہادت ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 124)۔
8: عامر بن شرحبیل بن عبد، اور ایک روایت کے مطابق عامر بن عبداللہ بن شرحبیل الشعبی، الحمیری، آپ کی کنیت ابوعمرو ہے، قبیلۂ ہمدان سے آپ کا تعلق ہے، آپ سے روایت ہے کہ پانچ سو صحابہ سے میری ملاقات ہوئی ہے اور سیدنا حسنؓ کا بیان ہے کہ آپ بہت بڑے عالم بڑے بردبار، اور اسلام سے شروع ہی سے لو لگانے والے تھے اور مکحول کا قول ہے کہ میں نے آپ سے زیادہ کسی کو فقیہ نہیں پایا۔ ابن عیینہ کا قول ہے
کہ صحابہ کا عہد گزر جانے کے بعد لوگ کہا کرتے تھے کہ ابن عباس، شعبی اور ثوری اپنے اپنے دور کے سب سے بڑے عالم تھے۔ خلافتِ فاروقی کے چھ مہینے گزرنے کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی اور 109ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
9: ابو عماری عبد خیر بن یزید یا دوسری روایت کے بموجب عبد ابن بجید بن جوی بن عبد عمرو بن عبد یعرب بن الصائد الہمدانی الکوفی: آپ نے زمانہ جاہلیت کو بھی دیکھا، عجلی کا قول ہے کہ آپ کوفی ہیں اور ثقہ تابعی ہیں، ابن حبان نے بھی آپ کو ثقہ تابعین میں شمار کیا ہے، ایک روایت میں ہے کہ آپ ایک سو بیس سال زندہ رہے اور جنگ صفین میں قتل کیے گئے۔
(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 124)۔
10: عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، باختلاف روایات آپ کا نام یسار یا بلال، یا داؤد بن بلال بن بلیل بن اصحبہ بن الجلاح الحریش الانصاری الاوسی ہے۔ سیدنا عمرؓ کی مدت خلافت ختم ہونے سے چھ سال قبل آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کا بیان ہے کہ مجھے ایک سو بیس سے زائد صحابہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہے۔ ابن معین اور عجلی وغیرہ نے آپ کو ثقہ کہا ہے۔ 71ھ یا دوسری روایت کی بموجب 82ھ جماجم میں وفات ہوئی۔
(میزان الاعتدال: جلد 2 صفحہ 584)۔
11: عبیدۃ السلمانی: آپ کا سلسلۂ نسب عبیدہ بن عمرو اور دوسری روایت کی بموجب عبیدہ بن قیس بن عمرو السلمانی المرادی الکوفی ہے: ابوعمرو آپ کی کنیت ہے، وفات نبویﷺ سے دو سال پہلے اسلام لائے، لیکن آپﷺ سے ملاقات کا شرف نہ حاصل ہوا، امام شعبی کا قول ہے کہ شریح قضاء کے ماہر تھے اور عبیدہ ان کے ہم پلہ تھے، عجلی کا قول ہے کہ آپ کوفی ہیں اور ثقہ تابعین میں سے ہیں۔
(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 90، تہذیب التہذیب: جلد 7 صفحہ 85)۔
12: ابو العالیہ عبداللہ بن سلمہ المرادی الکوفی: یہ حضرت علیؓ کے قریبی ساتھی تھے۔ عجلی کا قول ہے کہ آپ کوفی ہیں، اور ثقہ تابعی ہیں۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے کہ ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی اور عمرو بن مرہ کا قول ہے کہ یہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے معروف و منکر دونوں طرح کی روایات بیان کرتے تھے۔ یعقوب بن شیبہ کا قول ہے کہ آپ ثقہ ہیں۔
(میزان الاعتدال: جلد 2 صفحہ 409)۔
13: عبداللہ بن شقیق العقیلی: آپ کی کنیت ابوعبدالرحمن یا بروایت دیگر ابومحمد ہے، بصری تابعی ہیں، ابنِ سعدؒ نے آپ کو طبقۂ اولیٰ میں شمار کیا ہے، ابن معین کا قول ہے کہ آپ ثقہ ہیں، پرہیزگاروں میں سے ہیں، ان کی مروی احادیث میں کوئی طعن نہیں ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ مستجاب الدعوات تھے۔ 100ھ کے بعد، اور بعض روایات کی صراحت کے مطابق 108ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 253)۔
14: علقمہ بن قیس النخعی: آپ کا نام و نسب علقمہ بن قیس بن عبداللہ بن مالک بن علقمہ النخعی الکوفی ہے۔
رسول اللہﷺ کی زندگی ہی میں آپ کی ولادت ہوئی۔ امام احمدؒ کا قول ہے کہ آپ ثقہ ہیں اور اہل خیر میں سے ہیں۔ ابن معین نے بھی آپ کو ثقہ کہا ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ صرف ایک رات میں آپ نے پورے قرآن کی تلاوت کی تھی۔ 61ھ یا 62ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔ ابن سعدؒ کا قول ہے کہ آپ ثقہ اور کثیر الحدیث ہیں۔
15: ابویحییٰ عمیر بن سعید النخعی الصہبانی الکوفی: ابن معین سے مروی ہے کہ آپ ثقہ ہیں۔ ابن حبان نے آپ کو ثقات میں شمار کیا ہے۔ شراب نوش کی حد کے بارے میں حضرت علیؓ سے آپ کی روایت موجود ہے۔ ابن سعد کا کہنا ہے کہ 115ھ میں اور ایک روایت کے مطابق 107ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 8 صفحہ 145، سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 443)۔
16: ہانی بن ہانی الہمدانی الکوفی: امام نسائی کا قول ہے کہ ’’لَیْسَ بِہٖ بَاْسٌ‘‘ یعنی آپ قابل اعتبار ہیں، ابن حبان نے آپ کو ثقات میں ذکر کیا ہے، البتہ ایک روایت میں ہے کہ تشیع کی طرف میلان تھا۔ ابن المدینی نے کہا، مجہول ہیں، ابن سعد نے کہا: منکر الحدیث ہیں، امام شافعی نے کہا کہ آپ کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے محدثین آپ کی طرف حدیث منسوب نہیں کرتے تھے۔ ابن سعد نے آپ کو کوفی راویوں کے طبقہ اولیٰ میں شمار کیا ہے۔ امام ذہبی نے کہا: ’’لَیْسَ بِہٖ بَاْسٌ‘‘ یعنی ان کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(الکاشف: الذہبی: جلد 3 صفحہ 218)
17: یزید بن شریک بن طارق التیمی الکوفی: یحییٰ بن معین سے مروی ہے کہ آپ ثقہ ہیں۔ ابن حبان نے آپ کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ابن سعد نے کہا کہ ثقہ تھے، اپنی قوم کے سردار تھے، بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے جاہلیت کا دور بھی پایا، عمر، علی، ابوذر، ابن مسعود اور حذیفہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کیں۔
(الکاشف: الذہبی: جلد 3 صفحہ 280)۔
یہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے اہم لوگوں پر ایک سرسری نظر ڈالی گئی ہے۔ مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر احمد محمد طہٰ کا مقالہ بعنوان ’’فقہ الامام علی بن ابی طالب‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس مقالہ کو بغداد یونیورسٹی میں پیش کیا گیا تھا، اب تک اس مقالہ کی نشر واشاعت نہیں ہوسکی ہے۔