سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کی محبت
علی محمد محمد الصلابی7۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کی محبت:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ کسی سفر کا آغاز کرتے تو مدینہ میں سب سے آخر میں فاطمہؓ سے مل کر جاتے اور جب واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہؓ ہی کے گھر آتے۔
(مسند احمد: جلد 5 صفحہ 275، الدوحۃ النبویۃ: فاروق حمادۃ: صفحہ 56)۔
ابوثعلبہ الخشنیؓ کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ جب کسی غزوہ یا سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں جاتے، وہاں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر سیدہ فاطمہؓ کے گھر آتے، پھر اپنی ازواج مطہراتؓ کے پاس جاتے۔
(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 376) اس کی سند میں ابوفردہ الرہاوی نامی ضعیف راوی ہیں۔ الدوحۃ النبویۃ: 56)۔
سیدہ عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی نشست و برخاست کی صفت فاطمہؓ سے اچھی بتاتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، وہ جب آپﷺ کے پاس آتیں، آپﷺ ان کی طرف لپک کر اٹھتے، بوسہ دیتے، اور اپنے پاس بٹھاتے اور جب اللہ کے رسولﷺ ان کے پاس جاتے تو وہ آپﷺ کی طرف لپک کر اٹھتیں، پھر آپﷺ کو بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنے پاس بیٹھاتیں۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2450، صحیح سنن ابی داؤد: 5217)۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ آپﷺ کے ہاتھوں کو بوسہ دیتیں۔
(سنن ابی داؤد: حدیث نمبر 5217، الدوحۃ النبویۃ: 56)۔
اور اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
اَحَبُّ أَہْلُ بَیْتِیْ إِلِیَّ فَاطِمَۃُ۔
(مسند الطیالسی: جلد 2 صفحہ 25، حسن صحیح ہے)
’’میرے اہل بیت میں مجھے سب سے زیادہ محبوب فاطمہ ہیں۔‘‘
جب سیدنا علیؓ نے فاطمہ کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی سے شادی کا ارادہ کیا تو اللہ کے رسولﷺ نے اس سے متعلق لوگوں میں خطبہ دیا۔ واضح رہے کہ سیدہ عائشہؓ کا سیدہ فاطمہؓ سے متعلق مذکورہ روایت نقل کرنا دونوں کے درمیان حقیقی محبت ہونے کی دلیل ہے، ایسا کوئی معاملہ نہیں کہ دونوں میں ناچاقی رہتی تھی، جیسا کہ تہمت لگانے والے کہتے ہیں، بہرحال آپﷺ نے فرمایا:
فَاطِمَۃُ بَضْعَۃٌ مِّنِّيْ فَمَنْ اَغْضَبَہَا اَغْضَبَنِي
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4173)۔
’’فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘
سیدنا مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ بَنِيْ ہِشَامِ بْنَ الْمُغِیْرَۃِ اِسْتَاذَ نُوْنِيْ أَنْ یَنْکَحُوْا اِبْنَتَہُمْ عَلِیَّ ابْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ لَہُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَہُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَہُمْ، إِلَّا أَنْ یُّحِبَّ ابْنُ أَبِيْ طَالِبٍ أَنْ یُّطَلِّقْ ابْنَتِي وَ یَنْکَحَ ابْنَتَہُمْ، فَإنَّمَا ہِيَ بِضْعَۃٌ مِّنِّي یُرِیْبُنِيْ مَا أَرَابَہَا وَ یُوْذِیْنِيْ مَا آذَاہَا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 5230، و صحیح مسلم: 2449)۔
’’بنوہشام بن مغیرہ مجھ سے اجازت مانگ رہے ہیں کہ اپنی لڑکی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کردیں، حالانکہ میں انھیں اس کی اجازت نہیں دوں گا، کبھی نہیں دوں گا، کبھی نہیں دوں گا، البتہ ابن ابی طالب کو اختیار ہے کہ وہ میری بیٹی کو طلاق دے دیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کر لیں، میری بیٹی میرے دل کا ٹکڑا ہے، جو اسے برا لگے گا وہ مجھے بھی برا لگے گا اور جس سے اسے تکلیف ہوگی مجھے بھی اس سے تکلیف ہوگی۔‘‘
صحیح مسلم میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے جب حضرت فاطمہؓ کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہﷺ کو اس سلسلہ میں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس وقت میں بالغ تھا، آپﷺ فرما رہے تھے:
إِنَّ فَاطِمَۃَ مِنِّيْ وَ إِنِّيْ اَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِیْ دِیْنِہَا۔
’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ اپنے دین میں آزمائی نہ جائے۔‘‘
پھر آپ نے بنو عبدشمس سے تعلق رکھنے والے اپنے داماد (اس سے زینب بنت رسول اللہﷺ کے خاوند ابوالعاص بن ربیعؓ مراد ہیں، جب غزوۂ بدر میں قیدی بنائے گئے تو انھیں آزاد کرانے کے لیے سیدہ زینبؓ نے اپنا ہار فدیہ کے طور سے بھیجا، مسلمانوں نے ہار سیدہ زینبؓ کو واپس کر دیا اور ابوالعاصؓ سے آپﷺ نے یہ عہد لیا کہ وہ زینب کو مدینہ آنے دیں گے چنانچہ انھوں نے وعدہ کیا اور اسے پورا بھی کیا۔) کا ذکر کیا، ان کی تعریف کیا اور کہا:
حَدَّثْنِيْ فَصَدَّقْنِيْ، وَعَدَنِيْ فَاَوْفَی لِيْ، وَإِنِّیْ لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا اُحِلُّ حَرَامًا وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ لَاتَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَ بِنْتُ عَدُوِّ اللّٰہِ فِیْ مَکَانِ وَاحِدٍ أَبَدًا۔
(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 1903)۔
’’اس نے مجھ سے بات کی تو سچ کہا، وعدہ کیا تو پورا کیا۔ میں کسی حرام چیز کو حلال اور حلال چیز کو حرام نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ کبھی نہیں رہ سکتیں۔‘‘
سنن ترمذی میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا چرچا کیا، رسول اللہﷺ کو یہ خبر پہنچ گئی، تو آپﷺ نے فرمایا:
إِنَّ فَاطِمَۃَ بِضْعَۃٌ مِنِّيْ یُوذِیْنِي مَا آذَاہَا وَ یُتْعِبُنِيْ مَا یُتْعِبُہَا
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 756، حدیث نمبر 1327 اس کی سند صحیح ہے۔)
’’فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے جو چیز اسے تکلیف پہنچائے گی اور اس کے لیے گراں ہوگی وہ چیز مجھے بھی تکلیف پہنچائے گی اور میرے لیے گراں ہوگی۔‘‘
ان احادیث میں فاطمہؓ سے متعلق رسول اکرمﷺ کا اظہارِ محبت اور سب کے سامنے اس کا اعلان، پھر یہ کہنا کہ فاطمہ کو تکلیف دینا گویا مجھے تکلیف دینا ہے، درحقیقت فاطمہ کے حقوق و احترام کو نمایاں کرنا مقصود ہے۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 57)۔
نیز یہ کہ نبی کریمﷺ کو تکلیف دینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے، اگرچہ آپﷺ کی زندگی میں آپ کی ایذا رسانی کا اصل سبب جائز ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ علماء کا خیال ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ’’لَسْتُ اُحَرِّمُ حَلَالًا‘‘ کہہ کر یہ بتاناچاہا تھا کہ ابوجہل کی بیٹی سے حضرت علیؓ کا نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، حرام نہیں ہے، پھر بھی آپ نے دونوں کو زوجیت میں اکٹھا کرنے سے دو منصوص اسباب کی وجہ سے منع فرمایا۔
• اس سے حضرت فاطمہؓ کو تکلیف پہنچے گی اور پھر بالواسطہ نبی کریمﷺ کو بھی تکلیف لاحق ہوگی۔ چنانچہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما پر کمال شفقت کی وجہ سے آپﷺ نے حضرت علیؓ کو اس شادی سے منع کردیا۔
• غیرت کی وجہ سے حضرت فاطمہؓ کو فتنہ میں واقع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔
بعض لوگوں نے حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ ممانعت آپﷺ کا مقصد نہ تھا، بلکہ آپ بتانا چاہتے تھے کہ اللہ کے فضل سے مجھے معلوم ہے کہ دونوں ایک ساتھ ایک شوہر کی زوجیت میں نہیں رہیں گی، اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپﷺ اپنی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کے ایک ساتھ ایک فرد کی زوجیت میں ہونے کی حرمت کا اعلان کرنا چاہ رہے ہیں یعنی ’’لا اُحرم حلالا‘‘ کا مطلب ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حلال کر دیا ہے میں اسے حرام نہیں کر سکتا اور جس چیز کو حرام کر دیا ہے میں اسے حلال نہیں کر سکتا، اور نہ اس کی حرمت بیان کرنے سے خاموش رہ سکتا ہوں، کیونکہ ایسی چیز پر میرا خاموش رہنا اسے حلال کہنے کے مترادف ہے۔ پس انھیں حرام نکاحوں میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ کے دشمن کی بیٹی، اور میری بیٹی ایک ساتھ ایک شوہر کی زوجیت میں رہیں۔
(شرح صحیح مسلم: جلد 16، صفحہ 236، 237)۔
سیدہ فاطمہؓ کے مناقب پر سیدنا بریدہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک عورتوں میں فاطمہؓ اور مردوں میں علیؓ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
(المستدرک: معرفۃ الصحابۃ: جلد 3 155) اس کی سند صحیح ہے، اور امام ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔ مترجم کہتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے اس سے استدلال صحیح نہیں اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عطا ہے جسے امام ذہبیؒ نے الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور کہا امام نسائیؒ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ قوی نہیں ہے اور حافظ ابن حجرؒ نے التقریب میں صدوق قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ مدلس ہے اور غلطیاں کرتا ہے۔ مزید کہ اس روایت کو اس نے عنعنہ سے بیان کیا ہے اور اسی طرح ایک دوسرا راوی جعفر بن زیاد الاحمر جسے ذہبی نے خود الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور حافظ نے التقریب میں ’’صدوق یتشیع‘‘ قرار دیا ہے اور جب تشیع سے متہم ہے تو بھی اس سلسلہ میں روایت کیسے حجت ہوسکتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: الضعیفہ للألبانی: 1124)
واضح رہے کہ اس حدیث اور فضیلت عائشہ والی حدیث سے جسے عمرو بن عاصؓ نے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ سے پوچھا گیا: آپ کے نزدیک سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ تو آپﷺ نے جواب دیا: عائشہ،
پھر پوچھا گیا: مردوں میں سے؟ آپﷺ نے جواب دیا: ان کے باپ (ابوبکر)۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 4358)۔
ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیوں کہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے سب سے زیادہ محبوب ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کے اہل بیت میں عورتوں میں سیدہ فاطمہؓ اور مردوں میں سیدنا علیؓ سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ابن العربی اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’تمام مردوں میں ابوبکرؓ، بیویوں میں عائشہؓ اور اپنے اہل میں فاطمہؓ عورتوں میں سے، اور علیؓ مردوں میں سے، اللہ کے رسولﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے، محبت کی اسی ترتیب و درجہ بندی سے تمام روایات کا اشکال ختم ہو جاتا ہے۔‘‘
(عارضۃ الأحوذی: جلد 13 صفحہ 247 تا 248)
ان سب تاویلات کی چنداں ضرورت نہیں کیوں کہ یہ روایت ہی ناقابل اعتبار ہے اور پھر کیا سیدہ عائشہؓ اہل بیت سے خارج ہیں؟ کیا بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ہیں؟ کہ یہ تفریق کی جائے کہ اہل بیت میں سیدہ فاطمہؓ اور بیویوں میں سیدہ عائشہؓ محبوب، جب کہ بخاری کی روایت میں مطلقاً سیدہ عائشہؓ کو محبوب ترین اور مردوں میں مطلقاً ابوبکرؓ کو محبوب ترین قرار دیا گیا ہے۔ (مترجم)
