سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کی محبت - دفاعِ اہلِ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کی محبت

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

نیز یہ کہ نبی کریمﷺ کو تکلیف دینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے، اگرچہ آپﷺ کی زندگی میں آپ کی ایذا رسانی کا اصل سبب جائز ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ علماء کا خیال ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ’’لَسْتُ اُحَرِّمُ حَلَالًا‘‘ کہہ کر یہ بتاناچاہا تھا کہ ابوجہل کی بیٹی سے حضرت علیؓ کا نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، حرام نہیں ہے، پھر بھی آپ نے دونوں کو زوجیت میں اکٹھا کرنے سے دو منصوص اسباب کی وجہ سے منع فرمایا۔

• اس سے حضرت فاطمہؓ کو تکلیف پہنچے گی اور پھر بالواسطہ نبی کریمﷺ کو بھی تکلیف لاحق ہوگی۔ چنانچہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما پر کمال شفقت کی وجہ سے آپﷺ نے حضرت علیؓ کو اس شادی سے منع کردیا۔

• غیرت کی وجہ سے حضرت فاطمہؓ کو فتنہ میں واقع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔

بعض لوگوں نے حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ ممانعت آپﷺ کا مقصد نہ تھا، بلکہ آپ بتانا چاہتے تھے کہ اللہ کے فضل سے مجھے معلوم ہے کہ دونوں ایک ساتھ ایک شوہر کی زوجیت میں نہیں رہیں گی، اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپﷺ اپنی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کے ایک ساتھ ایک فرد کی زوجیت میں ہونے کی حرمت کا اعلان کرنا چاہ رہے ہیں یعنی ’’لا اُحرم حلالا‘‘ کا مطلب ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حلال کر دیا ہے میں اسے حرام نہیں کر سکتا اور جس چیز کو حرام کر دیا ہے میں اسے حلال نہیں کر سکتا، اور نہ اس کی حرمت بیان کرنے سے خاموش رہ سکتا ہوں، کیونکہ ایسی چیز پر میرا خاموش رہنا اسے حلال کہنے کے مترادف ہے۔ پس انھیں حرام نکاحوں میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ کے دشمن کی بیٹی، اور میری بیٹی ایک ساتھ ایک شوہر کی زوجیت میں رہیں۔

(شرح صحیح مسلم: جلد 16، صفحہ 236، 237)۔

سیدہ فاطمہؓ کے مناقب پر سیدنا بریدہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک عورتوں میں فاطمہؓ اور مردوں میں علیؓ سب سے زیادہ محبوب تھے۔

(المستدرک: معرفۃ الصحابۃ: جلد 3 155) اس کی سند صحیح ہے، اور امام ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔ مترجم کہتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے اس سے استدلال صحیح نہیں اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عطا ہے جسے امام ذہبیؒ نے الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور کہا امام نسائیؒ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ قوی نہیں ہے اور حافظ ابن حجرؒ نے التقریب میں صدوق قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ مدلس ہے اور غلطیاں کرتا ہے۔ مزید کہ اس روایت کو اس نے عنعنہ سے بیان کیا ہے اور اسی طرح ایک دوسرا راوی جعفر بن زیاد الاحمر جسے ذہبی نے خود الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور حافظ نے التقریب میں ’’صدوق یتشیع‘‘ قرار دیا ہے اور جب تشیع سے متہم ہے تو بھی اس سلسلہ میں روایت کیسے حجت ہوسکتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: الضعیفہ للألبانی: 1124)

واضح رہے کہ اس حدیث اور فضیلت عائشہ والی حدیث سے جسے عمرو بن عاصؓ نے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ سے پوچھا گیا: آپ کے نزدیک سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ تو آپﷺ نے جواب دیا: عائشہ،

پھر پوچھا گیا: مردوں میں سے؟ آپﷺ نے جواب دیا: ان کے باپ (ابوبکر)۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 4358)۔

ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیوں کہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے سب سے زیادہ محبوب ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کے اہل بیت میں عورتوں میں سیدہ فاطمہؓ اور مردوں میں سیدنا علیؓ سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ابن العربی اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:

’’تمام مردوں میں ابوبکرؓ، بیویوں میں عائشہؓ اور اپنے اہل میں فاطمہؓ عورتوں میں سے، اور علیؓ مردوں میں سے، اللہ کے رسولﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے، محبت کی اسی ترتیب و درجہ بندی سے تمام روایات کا اشکال ختم ہو جاتا ہے۔‘‘

(عارضۃ الأحوذی: جلد 13 صفحہ 247 تا 248)

ان سب تاویلات کی چنداں ضرورت نہیں کیوں کہ یہ روایت ہی ناقابل اعتبار ہے اور پھر کیا سیدہ عائشہؓ اہل بیت سے خارج ہیں؟ کیا بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ہیں؟ کہ یہ تفریق کی جائے کہ اہل بیت میں سیدہ فاطمہؓ اور بیویوں میں سیدہ عائشہؓ محبوب، جب کہ بخاری کی روایت میں مطلقاً سیدہ عائشہؓ کو محبوب ترین اور مردوں میں مطلقاً ابوبکرؓ کو محبوب ترین قرار دیا گیا ہے۔ (مترجم) 


صفحہ 2 از 2