سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مشترکہ فضائل میں…

سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مشترکہ فضائل میں وارد شدہ احادیث

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا  حسن  اور حسین رضی اللہ عنہما کے مشترکہ فضائل میں وارد شدہ احادیث:

•  ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے کسی شخص نے پوچھا: اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی مارنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہ لوگ نواسہ رسول کو قتل کر چکے ہیں جن کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا تھا:

ہُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3753)۔

’’یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔‘‘

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

مَنْ اَحَبَّہُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِيْ، وَ مَنْ اَبْغَضَہُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ، یَعْنِيْ حَسَنَ وَ حُسَیْنَ۔

(صحیح سنن أبی داؤد: جلد 2 صفحہ 92) فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1359)۔

’’جس نے ان دونوں (یعنی حسن و حسین) سے محبت کی اس نے گویا مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کی۔‘‘

 سیدنا براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی نگاہ حسن اور حسین پر پڑی تو کہا:

اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ اُحِبُّہُمَا فَاَحِبَّہُمَا۔

(صحیح سنن الترمذی: جلد 3 صفحہ 226، سنن ترمذی: حدیث نمبر 3782)۔

’’اے اللہ! مجھے دونوں سے محبت ہے، تو بھی انھیں محبوب بنا لے۔‘‘

 سیدنا ابوسعید خدریؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔

(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 184) شیخ البانی نے اس کی تصحیح کی ہے۔ الصحیحۃ:

جلد 2 صفحہ 448)

’’حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نوجوانان جنت کے دو سردار ہیں۔‘‘

 عبداللہ بن بریدہؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابوہریرہ ؓ  کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ایک مرتبہ رسول اللہﷺ خطبہ دے رہے تھے، دوران خطبہ حسن اور حسین آ پہنچے، دونوں سرخ رنگ کی قمیص میں ملبوس تھے، گرتے پڑتے چل رہے تھے، رسول اللہﷺ منبر سے اتر گئے اور دونوں کو اٹھا کر اپنے سامنے لاکر بٹھا لیا‘‘ اور فرمایا:

صَدَقَ اللّٰہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ) (سورۃ التغابن:15) نَظَرْتُ إِلَی ہٰذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَ یَعْثُرَانِ، فَلَمْ اَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیْثِيْ وَ رَفَعْتُہُمَا۔

(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1358) اس کی سند صحیح ہے۔)

’’یقیناً سچ کہا ہے اللہ نے کہ بے شک تمھارے مال و اولاد فتنہ ہیں، میں نے ان دونوں بچوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا اور اپنی بات کاٹ کر ان دونوں کو اٹھا لیا۔‘‘

 سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ان کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ ڈھونڈتے تھے اور کہتے تھے کہ:

إِنَّ اَبَاکُمَا کَانَ یُعَوِّذُبِہَا اِسْمَاعِیْلَ وَ اِسْحَاقَ، اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3371)۔

’’تمھارے باپ ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق (علیہم السلام) انھیں کلمات کے ساتھ اللہ سے پناہ ڈھونڈتے تھے۔ ’’اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ‘‘

میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں، اللہ کے کامل کلمات سے ہر شیطان، ہر موذی جانور اور ہر نظر بد کی برائی سے۔‘‘

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس حدیث کہ لفظ ’’ہَامَّۃٍاور  سعد بن ابی وقاص نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وارد ’’ہَامَّۃٍ‘‘ میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ چنانچہ سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’لَا ہَامَّۃٍ‘‘

(صحیح ابن حبان: 6127، اس کی سند قوی ہے۔ الطبرانی: 1764)۔

یعنی الو کی کوئی تاثیر نہیں ہے اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’لاَ ہَامَ‘‘

(شرح مشکل الآثار: جلد 7 صفحہ 328، اس کی سند صحیح ہے۔)

اُلو کی بولی میں کوئی تاثیر نہیں اور فرمایا:

 لَا عَدْوَی وَ لَا ہَامَۃَ وَلَا نَوْئَ وَلَا صَفَرَ

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2220)۔

 ’’کوئی بیماری متعددی نہیں، صفر کی کوئی نحوست نہیں اور اُلّو کی بولی میں کوئی تاثیر نہیں۔‘‘

امام جعفر الطحاوی ان احادیث سے متعلق لکھتے ہیں کہ آخر الذکر احادیث میں ’’ہامۃ‘‘ کی تاثیر اور اس کے وجود کی نفی کی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو چیز معدوم ہے آپﷺ نے اس سے پناہ کیسے مانگی؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جس ’’ہَامَّۃٍ‘‘سے آپﷺ نے پناہ مانگی ہے اس سے موذی جانور مراد ہیں اور اس کے میم کو تشدید کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اورجس ’’ہَامَّۃٍ‘‘کے وجود اور اس کی تاثیر کی نفی کی ہے اس سے اُلو کی بولی مراد ہے، کہ جس سے اہل عرب زمانہ جاہلیت میں کسی کی موت کا فال لیتے تھے، اس کے میم کو مخفف پڑھا جاتا ہے، لہٰذا دونوں دو چیزیں ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔

(شرح مشکل الآثار: جلد 7 صفحہ 330)