اپنی ذات پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترجیح و افضیلت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی
علی محمد محمد الصلابیاس سلسلہ میں صراحت سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے متعدد آثار و روایات ثابت ہیں:
1۔ محمد بن الحنفیہ رحمۃاللہ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے باپ (سیدنا علیؓ) سے پوچھا: اللہ کے رسولﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ میں نے پوچھا: پھر کون؟ انھوں نے جواب دیا: عمر رضی اللہ عنہ، چونکہ میں ڈر رہا تھا کہ اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کا نام نہ لے لیں، اس لیے میں نے کہا: پھر آپ ہیں؟ انھوں نے کہا: میں مسلمانوں کا ایک فرد ہوں۔
(صحیح البخاری فضائل الصحابۃ: 3671)۔
2: ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے فرمایا: کیا میں تمھیں نبی کریمﷺ کے بعد اس امت کے افضل ترین شخص سے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر فرمایا: کیا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے بعد اس امت کے سب سے افضل ترین فرد کی خبر نہ دوں؟ وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔
(مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 106، 110) احمد شاکر نے اس حدیث کی زیادہ تر اسناد کو صحیح کہا ہے۔
3: ابووائل شفیق بن سلمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا آپ ہمارے لیے کسی خلیفہ کو نامزد نہیں کریں گے؟ سیدنا علیؓ کہنے لگے: نبی کریمﷺ نے اپنا خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا کہ میں کسی کو نامزد کر دوں، تاہم اگر اللہ نے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی تو انھیں میرے بعد اپنے سب سے بہتر بندہ پر جمع کر دے گا، جیسا کہ انھیں نبی کریمﷺ کے بعد ان کے سب سے بہتر بندہ پر متفق کردیا تھا۔
(المستدرک: جلد 2 صفحہ 79) امام حاکم نے صحیح الاسناد قرار دیا ہے اور امام ذہبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے۔
4: سیدنا علیؓ نے فرمایا: اگر میں نے کسی سے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر مجھے فوقیت دیتے ہوئے اور افضل کہتے ہوئے سنا تو اس پر تہمت کی حد جاری کروں گا۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 83) اس کی سند میں ضعف ہے۔)
5: اور حضرت ابوسفیانؓ سے حضرت علیؓ نے کہا، ہم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی کو خلافت کا زیادہ اہل سمجھا۔
علاوہ ازیں ایسے بہت سے اخبار و آثار ہیں جن سے علی اور ابوبکر رضی اللہ عنہما کے درمیان خوشگوار اور قلبی تعلقات ثابت ہوتے ہیں چند ایک کو بالاختصار یہاں نقل کیا جارہا ہے:
الف: حضرت عقبہ بن حارثؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نبی کریمﷺ کی وفات کے چند ہی دنوں بعد عصر کی نماز پڑھ کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ مسجد سے باہر نکلا، ان کے پہلو میں حضرت علیؓ چل رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) کے پاس سے گزرے اور دیکھا تو وہ محلہ کے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انھیں اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور یہ شعر پڑھنے لگے:
بِأَبِیْ شَبِیْہٌ بِالنَّبِیِّ لَیْسَ شَبِیْہًا لِعَلِیٍّ
’’میرے ماں باپ قربان ہوں، حسن نبی کریمﷺ سے زیادہ مشابہ ہیں، علی کے نہیں۔‘‘
سیدنا علیؓ یہ سن کر ہنس رہے تھے۔
(مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 170) اس کی سند صحیح ہے۔ تحقیق علامہ احمد شاکر)
ب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جو شخص ایک بالشت ہی مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوا اس نے اسلام کا پھندا اپنے گلے سے اتار پھینکا۔
(مصنف ابن أبی شیبۃ: 15، 24) ابو طارق الازدی سے مرسلاً مروی ہے، وہ صدوق ہیں اور سند کے رجال ثقہ ہیں دیکھیے: خلافۃ أبی بکر صدیقؓ: صفحہ 80)۔
حضرت علیؓ کے اس قول کے ہوتے ہوئے کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ آپؓ کے قول و فعل میں تضاد رہا ہوگا حالانکہ آپ اختلاف سے نفرت کرتے تھے اور جماعت کے حریص تھے۔
امام قرطبی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’جو شخص ابوبکر اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان صدیقی باز پرس اور مرتضوی اعتذار اور پھر اس کے نتیجہ میں بیعتِ خلافت پر اتفاق پر غور کرے گا اسے ماننا ہوگا کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی فضیلت واحترام کے قائل تھے اور باہمی محبت اور تقدس پر دونوں متفق تھے، انسانی طبیعت اگرچہ کبھی کبھی خواہشات سے مغلوب ہو جایا کرتی ہے، لیکن دین پسندی اس کا انکار کرتی ہے۔واللہ الموفق۔‘‘
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 495) ۔
جہاں تک حضرت زبیر بن عوامؓ کے پیچھے رہ جانے کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ وہ روایت بسند صحیح ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کے بالمقابل ایسی روایات ہیں جو اس قول کی تردید کرتی ہیں اور پہلے ہی مرحلہ میں آپؓ کی بیعت ثابت کرتی ہیں، انھیں میں سے ایک ابو سعیدؓ کی گزشتہ حدیث بھی ہے۔
(خلافۃ أبی بکر الصدیق: عبدالعزیز سلیمان: صفحہ 81)۔
ج: امام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’سیدنا علیؓ سے بسند تواتر ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا، اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد سب سے افضل شخص ابوبکر، پھر عمر رضی اللہ عنہما ہیں، یہ روایت بہت سی سندوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہا گیا ہے کہ اس کی تقریباً اَسّی (80) اسناد ہیں اور ایسے ہی حضرت علیؓ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ آپ فرماتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی لایاگیا جو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما پر مجھے فضیلت دیتا ہوگا تو میں اس پر تہمت کی حد نافذ کروں گا۔‘‘
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 162) ۔
حضرت علیؓ نے یہ بات کبھی نہیں کہی کہ میں حضرت ابوبکرؓ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں، بلکہ کسی نے بھی کسی خاص فرد کے سلسلہ میں یہ نہیں کہا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہیں۔ خانوادۂ رسول کے ساتھ اختصاصِ خلافت کا وہی شخص قائل ہو سکتا ہے جس میں جاہلیت کے آثار باقی ہوں، خواہ وہ عربی النسل ہو، یا فارسی کیونکہ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں سرداروں ہی کے خانوادے کو قیادت کے لیے مقدم کرتے تھے۔ ایسے ہی اہل فارس بھی شاہِ عجم کے خانوادے کو آگے رکھتے تھے، پس خانوادۂ نبوت کے بارے میں بھی ایسی باتیں کسی سے منقول ہیں تو اس کا اشارہ اسی طرف ہے۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 269، مرویات ابی مخنف: صفحہ 309)۔
د: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ’’صدیق‘‘ کا لقب، اور ان کی بہادری و سبقت الی الخیرات کی شہادت:
یحییٰ بن حکیم بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو حَلفیہ کہتے ہوئے سنا: ’’اللہ کی قسم! ابوبکر کا صدیق لقب اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا ہے۔‘‘
(المعجم الکبیر: الطبرانی: جلد 1 صفحہ 55) حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں۔ دیکھیے: فتح الباری)
صلہ بن زفرالعبسیؓ کا قول ہے کہ جب کبھی حضرت علیؓ کے پاس حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ذکر ہوتا تو فرماتے: سبقت لے جانے والے کی بات کرتے ہو، ا س ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کبھی ہم نے خیر کے کاموں میں حصہ لیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ اس میں ہم سے آگے نکل گئے۔
(المعجم الاوسط: الطبرانی: جلد 7 صفحہ 207، 208) اس کی سند ضعیف ہے۔)
محمد بن عقیل بن ابی طالب سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا، اور فرمایا: اے لوگو! بتاؤ کون سب سے بہادر ہے؟ ہم نے کہا: آپ اے امیر المؤمنین، حضرت علیؓ نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ غزوۂ بدر کے موقع پر جب ہم اللہ کے رسولﷺ کے لیے سائبان لگارہے تھے تو ہم نے کہا: کون ہے جو آپﷺ کی حفاظت کے لیے رہے گا تاکہ کوئی مشرک آپﷺ کو تکلیف نہ دے سکے؟ اس وقت صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے یہ ذمہ داری قبول کی تھی، ننگی تلوار سونتے نبی کریمﷺ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوگئے، جب کوئی بھی دشمن آپﷺ سے قریب آتا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تلوار لے کر اس کی طرف دوڑتے، میں نے وہ منظر دیکھا ہے کہ جب قریش نے رسول اللہﷺ کو خانۂ کعبہ کے پاس پکڑ لیا تھا، آپ کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہہ رہے تھے: ’’تم نے کئی معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟ ‘‘اس وقت صرف سیدنا صدیقِ اکبرؓ آپﷺ کی مدد کے لیے آگے بڑھے تھے، ان کے بالوں کی دو لٹیں تھیں، وہ رسول اللہ کو بچاتے ہوئے کبھی اپنے دائیں والوں کو گھونسے مارتے اور کبھی بائیں والوں کو اور کہتے: ’’کیا تم لوگ اس آدمی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہے، وہ تمھارے رب کے پاس سے تمھارے لیے نشانیاں لے کر آیا ہے۔‘‘اس اٹھا پٹک میں ابوبکر کی ایک لٹ بھی کٹ گئی، پھر سیدنا علیؓ نے پوچھا: میں تمھیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، ذرا بتاؤ کہ آلِ فرعون کا وہ مرد مومن (جس نے موسیٰ علیہ السلام سے تعاون کیا تھا) بہتر تھا یا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں؟ کسی نے کوئی جواب نہ دیا، پھر آپ نے خود ہی کہا: اللہ کی قسم! ابوبکر کا وہ ایک دن آل فرعون کے مرد مومن سے کہیں بہتر ہے، اس مرد مومن نے اپنے ایمان کو چھپائے رکھا، تو اللہ نے اس کی تعریف کی جب کہ یہ ابوبکر ہیں جنھوں نے اپنے جسم وجاں کو اللہ کے راستہ میں قربان کردیا۔
(المستدرک: حاکم: جلد 3 صفحہ 67) امام حاکمؒ نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم کے شرط پر ہے، اور امام ذہبیؒ نے حاکم کی موافقت کی ہے۔)
