روزہ افطار کا صحیح وقت اور روافض شیعہ کے اعتراض کا جواب…

روزہ افطار کا صحیح وقت اور روافض شیعہ کے اعتراض کا جواب (اہل سنت و اہل تشیع کتب کی روشنی میں)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

روزہ جلد افطار كرنا سنت ہے وہ اس طرح كہ غروب شمس كے فوراً بعد روزہ افطار كر لينا چاہيے بلكہ ستارے نظر آنے تک روزہ افطار كرنے ميں تاخير كرنا تو يہوديوں كا فعل ہے اور رافضى و غالى قسم كے شيعہ بھى انہيں كے پيچھے چلتے ہوئے تاخير سے افطارى كرتے ہيں اس ليے عمداً جان بوجھ كر افطارى ميں تاخير نہيں كرنى چاہيے كہ اچھى طرح رات ہو جائے اور نہ ہى اسے اذان كے آخر تک مؤخر كرنا چاہيے كيونكہ يہ سب كچھ نبى كريمﷺ كے طريقہ كے مخالف ہے۔

سیدنا سہل بن سعدؓ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريمﷺ نے فرمايا:

جب تک لوگ افطارى ميں جلدى كرتے رہيؤ گے تو ان ميں خير و بھلائى رہے گى۔ (صحيح بخارى حديث نمبر 1856 صحيح مسلم حديث نمبر 1098)۔

امام نووىؒ كہتے ہيں:

اس حديث ميں غروبِ آفتاب كا ثبوت ملنے كے فوراً بعد جلد افطارى كرنے پر ابھارا گيا ہے اور ا سكا معنىٰ يہ ہے كہ: اس وقت تک امت كا معاملہ منظم رہے گا اور بہترى ہو گى جب تک وہ اس سنت پر عمل كرتے رہيں گے اور جب وہ افطارى ميں تاخير كريں گے تو يہ ان ميں فساد و خرابى پيدا ہونے كى علامت ہو گى۔

(ديكھيں: شرح مسلم للنووى: جلد، 7 صفحہ، 208)

اور سیدنا ابنِ ابو عوفىؓ بيان كرتے ہيں كہ ميں نبى كريمﷺ كے ساتھ سفر ميں تھا تو آپﷺ نے روزہ ركھا اور جب شام ہوئى تو آپﷺ نے ايک شخص كو كہا: اتر كر ميرے ليے ستو تيار كرو تو وہ كہنے لگا: اگر آپ تھوڑا انتظار كريں حتىٰ كہ شام ہو جائے تو رسول كريمﷺ نے پھر فرمايا اتر كر ميرے ليے ستو تيار كرو جب تم ديكھو كہ اس طرف سے رات آ گئى ہے تو روزہ دار كا روزہ افطار ہو گيا۔ (صحيح بخارى: حديث نمبر، 1857صحيح مسلم: حديث نمبر، 1101)

اور سیدنا ابو عطيہؓ بيان كرتے ہيں كہ ميں اور سیدنا مسروقؓ سیدہ عائشہؓ كے پاس گئے اور عرض كيا: اے ام المؤمنينؓ محمدﷺ كے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ميں سے دو شخص ہيں ايک تو افطارى بھى جلد كرتا ہے اور نماز بھى جلد ادا كرتا ہے اور دوسرا افطارى ميں تاخير كرتا ہے اور نماز بھى تاخير سے ادا كرتا ہے تو سیدہ عائشہؓ كہنے لگيں: كون ہے جو افطارى بھى جلد كرتا ہے اور نماز كى ادائيگى ميں بھى جلدى كرتا ہے؟ تو ہم نے عرض كيا: سیدنا عبداللہؓ يعنى سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ تو وہ فرمانے لگيں: رسول كريمﷺ بھى ايسے ہى كيا كرتےتھے۔ (صحيح مسلم: حديث نمبر، 1099)

 سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر (غزوہ فتح مکہ) میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ تھے آپ نے ایک آدمی ( سیدنا بلالؓ سے فرمایا کہ اتر اور میرے لیے ستو گھول وہ کہنے لگا! یا رسول اللہﷺ ابھی تو سورج کی روشنی ہے آپﷺ نے فرمایا اتر اور میرے لیے ستو گھول سیدنا بلالؓ پھر کہنے لگے! یا رسول اللہﷺ ابھی تو سورج کی روشنی ہے آپﷺ نے پھر تیسری بار فرمایا: اتر اور میرے لیے ستو گھول آخر وہ اترے اور ستو گھولا آپﷺ نے پی لیے پھر آپﷺ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا۔ (بخاری: کتاب الصوم باب الصوم فی السفر والافطار)

شیعہ کتب:

سب سے پہلے فروع کافی کی ایک صحیح روایات سے نمازِ مغرب کا صحیح وقت بیان کرتے ہیں۔

علامہ باقر مجلسی نے روایت 5 حسن اور روایت 7 کو صحیح کہا ہے یہاں تک یہ بات کلیئر کردی گئی ہے کہ اہلِ تشیع کے ہاں نمازِ مغرب کا وقت غروبِ آفتاب یعنی سورج کے چھپنے کے فوراً بعد ہے یعنی رات کا اندھیرا ہو جانے کا وقت نماز مغرب سے کوئی تعلق نہیں ہے اب ہم اہلِ تشیع کی ایک اور قابلِ حجت روایت سے نماز مغرب پڑھنے سے پہلے روزے کی افطاری ثابت کرتے ہیں نماز مغرب سے پہلے افطار کرنے کی اجازت قول امام سے ثابت کرتے ہیں۔ 

اس روایت کو علامہ باقر مجلسی نے حسن کا درجہ دیا ہے الحمدللہ یہ بات شیعہ کتب سے بھی ثابت ہوگئی کہ نماز مغرب کا وقت اندھیرا ہونے کے بجائے سورج غروب ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور سورج کا غروب ہونا ہی درحقیقت رات کا شروع ہونا ہے اس کے علاوہ خود امام معصوم سے ثابت ہے کہ نمازِ مغرب سے پہلے یعنی سورج غروب ہونے کے فوراً بعد افطاری کرنا چاہئے۔

 شیعہ کی اصولِ اربعہ کی ایک اور کتاب من لا یحضر الفقیہ میں بھی فرمان امام سے سورج غروب ہونے کے بعد نمازِ مغرب اور افطاری کا وقت بیان ہوا ہے۔

 شیعہ کی کتاب انوار النجف میں بھی سورج غروب ہونے کا یقین ہونے کے بعد روزہ افطار کرنے کا بیان ہوا ہے۔

وسائل الشیعہ میں بھی مختلف روایات کے مطابق سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

چوتھی روایت میں یہ بات صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ دور نبویﷺ میں نمازِ مغرب روشنی کے وقت ہی پڑھی جاتی تھی شیعہ کی مشہور زمانہ تفسیر مجمع البیان میں سورج غروب ہونے کے بعد والے وقت کو لیل کہا گیا ہو اور مغرب کی نماز کا وقت اور افطار کا وقت ایک ہی ہے جیسا کہ نہج البلاغہ میں لکھا ہے یعنی جب روزہ دار افطار کرتا ہے تو نماز مغرب پڑھائی جاتی ہے ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ سورج کی ٹکیہ غائب ہو جائے تو مغرب کا وقت آگیا اور وقتِ مغرب ہی روزہ افطار کرنا چاہئے۔

شیعوں کا رات کے اندھیرے میں روزہ افطار کرنا بغیر عذر کے نہ صرف مکروہ ہے بلکہ خود ان کے اماموں کے اقوال کے سخت خلاف ہے۔











































صفحہ 3 از 3