پروفیسر لکھتے ہیں کہ اہلِ سنت وضو میں پاؤں دھوتے ہیں جبکہ شیعہ پاؤں کا مسح کرتے ہیں، یا پاؤں دھونے سے ان کا وضو باطل ہو جاتا ہے۔ (صفحہ 11)
اہلِ سنت جو وضو میں پاؤں دھوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے طہارت کے لیے کیے گئے وضو میں پاؤں کو دھویا ہے۔ جبکہ پاؤں ننگے ہوں اور موزے پہنے ہوئے ہوں تو ان پر مسح کیا ہے۔ طہارت کے لیے کیے گئے وضو میں کسی ایک دفعہ بھی ننگے پاؤں ہونے کی صورت میں حضور اکرمﷺ سے پاؤں پر مسح ثابت نہیں ہے۔ اور اہلِ سنت قرآن کریم کے مفہوم کی عملی تفسیر وہی معتبر سمجھتے ہیں جو نبی کریمﷺ سے ثابت ہو۔
حضورﷺ کے وضو میں پاؤں دھونے کی روایات بے شمار ہیں۔ ان میں سے حضرت عمر بن عبسہؓ کی روایت ہے جس میں ہے کہ انہوں نے حضورﷺ سے وضو کا طریقہ دریافت کیا تھا، تو اس روایت میں ہے:
ثم يغسل قدميه الى الكعبين كما امره اللّٰه
(تفسیر ابنِ کثیر: جلد2 صفحہ 27)
ترجمہ: پھر ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ اور حضرت کعب بن مرہؓ سے بھی اس قسم کی روایت تفسیر ابنِ کثیر: جلد 2 صفحہ 29 میں ہے۔ اور حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:
اغسلوا الاقدام اى الكعبین(تفسیر طبری: جلد 6 صفحہ126)
ترجمہ: ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوؤ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، ان میں سے عبد خیر نے جو روایت کی ہے اس میں ہے:وغسل رجليه(مسند احمد: جلد1 صفحہ123)
اور عبد خیر ہی سے ایک روایت میں ہے:
ثم غسل قدمیه ثلاثاثلاثا (مسند احمد: جلد1 صفحہ125)
اور ان ہی سے ایک روایت میں ہے:
ثم غسل قدمیه ثلاثا ثلاثا (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 154)
ترجمہ: اور اپنے پاؤں کو تین مرتبہ دھویا۔
اور حضرت عثمانؓ نے جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے: وغسل قدمیه ثلاثا" (مسند احمد: جلد1 صفحہ61)
اور ایک روایت میں ہے:
ثم غسل رجليه الى الكعبين ثلاث مرات(مسند احمد: جلد1 صفحہ68)
ترجمہ: پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین مرتبہ دھوئے۔
اور حضرت رفاعہ بن رافع اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک دیہاتی کو تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ويغسل رجليه
(احکام القرآن للجصاص: جلد2 صفحہ 236)
ترجمہ: اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ اور پاؤں دھونے کی روایات تقریباً تمام حدیث کی کتابوں میں ہیں۔