چودھواں مسئلہ حضورﷺ کا وضو - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

چودھواں مسئلہ حضورﷺ کا وضو

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

ہم نے وضو کا مسنون طریقہ کی بحث میں باحوالہ حضور علیہ السلام کے وضو کا ذکر کر دیا ہے۔ یہاں ہم ان روایات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو پروفیسر غلام صابر نے ذکر کی ہیں چنانچہ انہوں نے ایک عنوان قائم کیا: رسول اللہﷺ کا وضو بروایتِ حضرت علیؓ اور اس میں انہوں نے لکھا کہ روایت میں ہے: 

و مسح راسه ورجلیه  الی الكعبین اور حوالہ مسند احمد: جلد1 صفحہ158 کا دیا ہے۔ (صفحہ 41)

پروفیسر  پر تعجب ہے کہ وہ بروایت حضرت علیؓ حضور علیہ السلام کا وضو ثابت کر رہے ہیں، تو وہ پوری روایت میں جو بیان کیا گیا ہے، اس کو حضور اکرمﷺ‏ کا وضو تسلیم کریں۔ 

اس میں ہاتھوں کا تین مرتبہ دھونا بھی مذکور ہے، جبکہ پروفیسر  لکھ چکے ہیں کہ ہاتھوں کو تین بار دھونا حرام ہے۔ اور پھر جو عبارت پروفیسر  نے پیش کی ہے اس میں ورجلیه الى الكعبین کے بعد بھی ثلاثا کے الفاظ ہیں، مگر پروفیسرنے ان الفاظ کا ذکر کرنا بھی پسند نہیں کیا۔ اس روایت سے پاؤں پر مسح کرنے کو دلیل بنانا درست نہیں، اس لیے اس میں کوئی وضاحت نہیں کہ پاؤں پر مسح کیا تھا۔ بلکہ ثلاثا کے الفاظ اس بات کا قرینہ ہیں کہ پاؤں دھوئے تھے۔ اس لیے کہ جن اعضاء کا مسح ہے ان میں تثلیث نہیں، بلکہ تثلیث (تین مرتبہ) ان اعضاء میں ہے جو دھوئے جاتے ہیں۔ جبکہ ابو مطر کے علاوہ دیگر راوی جب سیدنا علیؓ کے وضو کا بیان کرتے ہیں تو وضاحت سے و غسل قدميه ثلاثا کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ جیسا کہ عبد خیر نے روایت کرتے ہوئے کہا:

ثم صب بيده اليمنى ثلاث مرات على قدمه اليمنى ثم غسلها بيدہ اليسرى ثم صب بیده اليمنى على قدمه اليسرى، ثم غسلا بيده السرى ثلاث مرات(مسند احمد: جلد1 صفحہ135) 

ترجمہ: پھر اپنے دائیں ہاتھ سے تین مرتبہ اپنے دائیں پاؤں پر پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے اس کو تین مرتبہ دھویا۔ اور عبد خیر ہی کی روایت میں ہے: 

وغسل رجليه ثلاثا(مسند احمد: جلد1 صفحہ 139)

اور عبد خیر ہی کی روایت میں ہے: 

ثم غسل اليمنىٰ ثلاثا ورجله  الشمال ثلاثا (مسند احمد: جلد1 صفحہ154)  

ترجمہ: پھر دایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا اور بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا۔

جب ان روایات میں پاؤں دھونے کی صراحت ہے اور پروفیسر  نے جو روایت پیش کی ہے اس میں دھونے کا قرینہ موجود ہے تو اس کو بھی دھونے پر ہی محمول کیا جائے گا۔