کوفی شیعوں کی بے وفائی اور غداری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کوفی شیعوں کی بے وفائی اور غداری

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

روافض کوفہ کی بے وفائی:

کوفہ کے روافض بے وفائی اور بخل میں مشہور ہیں اور ان دونوں (برائیوں) میں وہ لوگ ضرب المثل ہو گئے ہیں یہاں تک کہ کہا جا تا ہے

ابخل من كوفی 

(کوفی سے بھی زیادہ بخیل)

اور اعـذر مـن كوفی 

(کوفی سے بڑھ کر بے وفا)۔

ان کوفہ والوں کی بے وفائی کے تین واقعات مشہور ہیں۔

 1۔ ان لوگوں نے حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کے صاحب زادے حضرت حسنؓ کی خلافت کی بیعت کی۔ جب وہ حضرت معاویہؓ سے جنگ کے لئے نکلے، تو ان لوگوں نے ساباط مدائن (عراق کا ایک شہر) کے مقام پر ان سے بے وفائی اور عہد شکنی کی اور سنان جعفی نامی ایک کوفی نے ان (حضرت حسنؓ) کے پہلو میں نیزہ مارا جس سے وہ اپنے گھوڑے سے نیچے گر پڑے۔ حضرت حسینؓ نے حضرت معاویہؓ سے جو صلح کر لی اس کا ایک سبب یہی واقعہ تھا۔

2۔ اہل کوفہ نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھ کر یزید پلید (60ھ۔64ھ ) کے خلاف ان کی مدد کرنے کے وعدہ پر کوفہ آنے کی دعوت دی۔ حضرت حسینؓ نے ان لوگوں کی باتوں پر اعتبار کر لیا اور ان کے ہاں آنے کی غرض سے روانہ ہوئے۔ جب وہ کربلا پہنچے تو کوفیوں نے ان سے وعدہ خلافی اور بےوفائی کی اور ان کے خلاف عبیداللہ بن زیاد (م 67ھ) کے ساتھ مل گئے۔ یہاں تک کہ حضرت حسینؓ کربلا میں شہید ہو گئے اور ان کے خاندان کے زیادہ تر لوگ بھی شہید ہو گئے۔

3۔ اہل کوفہ کی تیسری بےوفائی یہ ہے کہ انہوں نے زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کے ساتھ عہد شکنی کی۔ یہ لوگ ان کے ہمراہ (عراق کے اموی گورنر) یوسف بن عمر ثقفی کے خلاف جنگ کی غرض سے نکلے، مگر ان کی بیعت فسخ کردی، جنگ کی شدت کے وقت ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ چنانچہ وہ شہید ہو گئے اور ان کا جو حشر ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔سیدنا حسینؓ کے قاتل کوفی شیعہ تھے جنہوں نے آپؓ کو ہزاروں خطوط لکھہ کر بلایا اور پھر دھوکہ دے کر آپ کو شہید کر دیا اللہ ان لعنتیوں کو جہنم رسید کرے۔ آمین

سیدنا حسینؓ کہ قاتلوں میں سے ایک قاتل شبث ابن ربعی بھی تھا اور سیدنا عثمان غنیؓ کو بھی شہید کرنے والے لعنتیوں میں سے یہ ایک تھا۔

معلوم ھوا کہ قاتلین عثمان غنیؓ ہی قاتلین حسینؓ تھے

کوفیوں نے حضرت حسنؓ اور امیر المؤمنین علی المرتضیٰؓ کے ساتھ فریب کیا۔ شیعہ کتاب کا حوالہ

شیعہ کتاب مجموعہ نفیسہ فی تاریخ الائمہ