سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 5 از 6

2: دوسری بات یہ ہے کہ بعض علماء نے اس حدیث کی سند پر تنقید کر کے اسے غیر صحیح قرار دیا ہے چنانچہ قاضی ابوبکر ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ هٰذا حديث لا يصح (العواصم من القواصم: صفحہ 201)

3: بعض علماء نے حدیث شریف میں وارد الفاظ ملک عاض اور ملک عضوض کے دوسرے ہی معنیٰ اختیار کیے ہیں۔ ان کے بقول جس طرح عض یعض کے ایک معنیٰ کاٹنے کے ہیں تو دوسرے معنیٰ مضبوط اور مضبوطی سے کسی چیز کو تھامنے کے بھی ہیں اس لحاظ سے ملک عضوض کے دوسرے معنیٰ مضبوط سلطنت کے بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ ان معنیٰ کا خیال کر کے حدیث شریف میں سیدنا معاویہؓ کی سلطنت و بادشاہی کی تعریف کا پہلو مراد لینا زیادہ مناسب اور ان کے حال کے مطابق ہوگا ورنہ اگر مستشرقین اور حاسدین کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر یہ مان لیا جائے کہ سیدنا علیؓ کی حیات اور ان کے دور خلافت تک تمام امور میں خیر ہی خیر غالب تھا اور سیدنا معاویہؓ کے زمام حکومت سنبھالتے ہی وہ تمام امور شر اور جبر و تشدد سے تبدیل ہو گئے جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے تو پھر حدیث شريف ثم الذين يلونهم، ثم الدين يلونهم كا کوئی 

مطلب باقی نہیں رہ جاتا۔

4:چوتھی بات یہ ہے کہ اگر ملک عاض اور ملک عضوض کو کاٹنے والی حکومت کے معنیٰ میں ہی لیا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ کاٹنے والے کے لفظ سے واقعات حرب وقتال کا پیش آنا اور ایک کا دوسرے پر حملہ کرنا مراد ہوگا، جیسا کہ یہ واقعات سیدنا معاویہؓ کے زمانہ خلافت میں بکثرت پیش آئے ان سے جبر و سرکشی اور ظلم والی حکومت مراد لینا سخت نادانی ہوگی۔

علامہ ابن حجر ہیتمیؒ نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی ایک حدیث شریف نقل فرمائی ہے اور فرماتے ہیں کہ اس حدیث شریف کے تمام راوی ثقہ ہیں اس حدیث شریف سے سیدنا معاویہؓ کے عہد حکومت کی صحیح حیثیت واضح ہو جاتی ہے اس میں وضاحت کے ساتھ یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ خلافت راشدہ ختم ہونے کے بعد جو حکومت آئے گی وہ بھی ملوکت اور رحمت ہوگی۔ اول هذا الامر نبوة ورحمة ثم يكون خلافة ورحمة ثم يكون ملكا ورحمة ثم يكون امارة ورحمة ثم يتهادمون عليها تكادم الحمير.

(تطهير الجنان على بامش الصواعق المحرقہ: صفحہ 31)

علامہ ابن حجر ہیتمیؒ ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت سفینہؓ سے جو روایت مروی ہے کہ سیدنا معاویہؓ پہلے بادشاہ ہیں اس سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ سیدنا معاویہؓ کی خلافت صحیح نہ تھی اس لیے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان کی خلافت تو صحیح تھی لیکن اس پر ملوکت کی مشابہت غالب آگئی تھی اس لیے کہ وہ بہت سے معاملات میں خلفائے راشدینؓ کے طریقوں سے قدر ے مختلف تھی، چنانچہ خلافت کی بات اس لیے صحیح ہے کہ سیدنا حسنؓ کی دست برداری اور اہل حل و عقد کے اتفاق کے بعد سیدنا معاویہ کی خلافت حق اور صحیح تھی اور ملوکت کی بات اس لیے درست ہے کہ ان کے عہد حکومت میں کچھ ایسے امور واقع ہوئے جن کا منبیٰ غلط اجتہاد تھا۔ جس کی بنیاد پر مجتہد گنہگار تو نہیں ہوتا لیکن اس کا رتبہ ان حضرات سے بہر حال گھٹ جاتا ہے جن کے اجتہادات صحیح اور واقعہ کے مطابق ہوں اور یہ حضرات خلفائے راشدینؓ اور سیدنا حسن ؓتھے۔

( الصواعق المحرقہ: صفحہ 131)

علامہ عبدالعزیز فرہا ریؒ جو شرح عقائد کے مشہور محقق شارح ہیں تحریر فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ اگرچہ خلفاء راشدینؓ کے درجے میں نہیں تھے لیکن ان کی برابری نہ کر سکنا ان کے لیے کسی قدح کا موجب نہیں۔

ولم یکن فی درجۃ الخلفاء الرشيدین فی اداء حقوق الخلافۃ لکن عدم المساواۃ بھم لا یوجب قدحا فیہ۔

 (النبراس على شرح العقائد: صفحہ 510)

علامہ ابن تیمیہؒ نے اس سلسلے میں بہت قیمتی بات ارشاد فرمائی ہے فرماتے ہیں کہ مسلمان بادشاہوں میں سے کوئی بھی سیدنا معاویہ ؓسے بہتر نہیں ہوا اور اگر ان کے زمانے کا مقابلہ بعد کے زمانوں سے کیا جائے تو عوام کسی بادشاہ کے زمانے میں اتنے بہتر نہیں رہے جتنے سیدنا معاویہؓ کے زمانے میں رہے ہاں اگر ان کے زمانے کا مقابلہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمر ؓسے کیا جائے تو فضیلت کا فرق بہرحال ظاہر ہو جائے گا۔ (منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 185)

یہ فرق جو عقائد و کلام کے ان بزرگوں نے بیان فرمایا ہے جو تاریخی تدریج کے مطابق بھی ہے اہل السنۃ کے عقائد کو بھی اس سے ٹھیس نہیں لگتی تاریخ سے بھی ثابت ہے اور حضرت صحابہ کرام ؓکے شایانِ شان بھی ہے۔

(شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ، حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ 150)

اس موقع پر سیدنا معاویہؓ کے عہد خلافت کی حیثیت کو مزید واضح کرنے کے لیے اور بیجا اعتراضات کے سبب ان کی شبیہ پر پڑھنے والے گرد کو قلوب و اذہان سے صاف کرنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولانا سراج الحقؒ مچھلی شہری کا یہ بیش قیمت اور حقیقت کشا مضمون بھی پڑھ لیا جائے ۔

علماء نے (نبوت کے بعد )ملوکت و بادشاہی کی چار قسمیں کی ہیں اور ایک دوسرے سے خاصی ممتاز بھی۔

1: وہ  ملوکت و بادشاہی جس کو نبی کے صحابی نے تعلیمات نبی کے مطابق ہی انجام دی ہو اور ہوبہو اور موبمو اس کے مقاصد عالیہ کی تکمیل اس کے مرکز اور سجاد ےپر رہ کر کی ہو، بہ الفاظ دیگر یہ کہ نبی نے اسے مرکز میں رہنے کے ساتھ مقید بھی کر دیا ہو۔

2: وہ ملوکت و بادشاہی جسے نبی کے صحابی نے تعلیمات نبی کے مطابق ہی انجام دی ہو اور نبی ہی کے مقاصد عالیہ کی تکمیل کی ہو مگر مرکز سے ہٹ کر کسی دوسری جگہ دربار خلافت لگایا ہو ۔

3: وہ ملوکت و بادشاہی جو غیر صحابی یعنی کسی نیک نیت، مربع سنت، مخلص امتی کے ذریعہ ہوئی ہو۔

4: وہ ملوکت و بادشاہی جو کوئی نفس پرست خودغرض انسان کسی نبی کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر کے بلکہ اس سے منحرف اور عذاب دوزخ سے بےپرواہ ہو کر انجام دے ۔

صفحہ 5 از 6