سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 6 از 6

علماء نے پہلی قسم کے لیے خلافت علی منہاج النبوۃ برقدم نبوت، خلافتِ راشدہ خاصہ کی اصطلاحیں مقرر کی ہیں مگر حدیث میں اس کو خلافت نبوت اور بعض جگہ خلافتِ رحمت کہا ہے ۔  اس کا نمونہ حضرات سیدنا ابوبکر، عمر ،عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافتیں ہیں اسی کے لیے حضورﷺنے مدینہ میں ہونے کی قید بھی لگا دی ہے۔ ان تینوں خلافتوں میں کیڑے نکالنے اور برا کہنے کی کوشش خالص زندقہ و بددینی ہے کیونکہ وہ معاذاللہ نبوت ہی میں کیڑے نکالنے کے برابر ہے، اس قسم میں جب خود حضورﷺ نے انہیں تین حضرات کا نام متعین فرما دیا ہے اور بقول شاہ ولی اللہ ؒ ایسے ارشادات رسول ﷺحد تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں تو کیا حق ہے کسی کو کہ اس قسم میں کسی اور کا بھی اضافہ کرے۔ ان تینوں حضرات کا یہ اعزاز اسی لیے ہے کہ ان کے دربار خلافت میں اسی مسجد نبویﷺ لگتے رہے جس کے ایک گوشہ میں خود حضرت ختمی مرتبتﷺ اپنی قوی ترین حیات برزخی کے ساتھ آرام فرما ہیں گویا خود حضورﷺ پس پردہ تشریف رکھ کر اپنی اعلیٰ روحانیت کے برکات و تصرفات سے ان تینوں حضرات سے یکے بعد دیگرے اپنی نگرانی میں کام لے رہے تھے اور مناسب ہدایات دے رہے تھے ۔

دوسری قسم کے لیے اہل علم نے خلافت راشدہ مطلقہ خلافتِ محضہ،ملوکت نبویہ، خلافتِ راشدہ کی اصطلاحیں مقرر کیں، مگر حدیث میں اس کو کہیں خلافت کے مقابل میں ملک اور کہیں خلافت سے بھی تعبیر کیا گیا ہے اس کا نمونہ حضرات سیدنا علی، سیدنا  معاویہ،سیدنا حسن، ابن زبیر رضی اللہ عنہم کی خلافتیں ہیں یہ خلافتیں راشدہ تو اس لیے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ہیں اور تمام صحابہؓ خطاب قرآنی  ھم  الراشدون،بالیقین مصداق ہیں مگر راشدہ مطلقہ ہیں، راشدۂ خاصہ نہیں اس لیے کہ مدینہ کی قید خاص سے محروم ہیں خلافت اس لیے کہ وہ صحابیؓ ہیں اور آپﷺ کی جانشینی دوسرے مقامات میں کر رہے ہیں اور ملک اس لیے کہ وہ ملوکت نبویہ کا نمونہ ہیں۔

تیسری قسم کے لیے اہل علم نے ملوکت عادلہ و ملوکت رحیمہ کی اصطلاحیں بنائیں اس لیے کہ احادیث میں ثم ملک و رحمة کا لفظ تھا اس کا نمونہ حضرات عمر بن عبدالعزيزؒ، سلطان شمس الدين التمشؒ، سلطان محمود گجراتیؒ، سلطان صلاح الدينؒ،سلطان ناصر الدینؒ، سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ اور بہت سے نیک متبع اسلامی بادشاہ تھے۔

اس قسم کے بادشاہوں کے زمانوں کو خلافت راشدہ میں شامل کرنا غیر صحابی کو صحابی کے برابر بنانا ہے۔

رہی چوتھی قسم تو وہ بدترین قسم کی بادشاہی و ملوکت ہے بلکہ وہ سرے سے بادشاہی نہیں ہاں ننگ بادشاہی ہے رہزنی ہے، نفس پرستی ہے، دنیا داری ہے، خود غرضی اور خود رائی ہے وہ شیطان کی پیروی اور کفار کی مشابہت ہے ان چاروں قسموں میں پہلی قسم کی ملوکت و بادشاہی نبوی ﷺ بادشاہی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے اور دوسری قسم کی ملوکت و بادشاہی بھی نبوی ﷺ بادشاہی کا دوسرا نمونہ ہے اور تیسری قسم کی ملوکت و بادشاہی زیادہ سے زیادہ اسلامی احکام کے مطابق ہے، ان تینوں میں قانون صرف کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ کا چلتا ہے، اس لیے یہ تینوں ہی قسمیں ظل اللہ ہیں مخلوق پر خدا کا سایہ ہیں اس لیے کہ ان کے سربراہ کار علی اختلاف مراتبهم صحابی یا دین دار امتی احکام شریعہ ہی کا اجرا کرتا اور خدا کی نافرمانی اور دوزخ کے عذاب سے ڈرتا رہتا ہے۔

پہلی دو قسموں کے سربراہ کاروں سے بشریت کی بناء پر سہو و خطاء ہو سکتی ہے مگر ان سے عمداً خلاف شرع کام ہونا اس حفاظت الٰہی سے مستبعد اور تقریباً ناممکن ہے جو اولیاء امت کو حاصل رہتی ہے۔ ہاں تیسری قسم کے سربراہ کار سے عمداً خلاف شریعت کام ہوسکتا ہے اور نہ اس کی اطاعت سے کوئی مسلمان سرتابی کر سکتا ہے، حضور ﷺ نے اس کی بغاوت و نافرمانی سے منع فرمایا ہے اور اس کے لیے دعائے خیر و صلاح کرتے رہنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ چوتھی قسم کی بادشاہی میں قانون حکومت خود بادشاہ بناتا اور اپنی مرضی کے مطابق حکومت کرتا ہے وہ قانون سازی سے لے کر احکام کے اجرا وا نفاذ تک کسی مرحلہ میں بھی کسی بالا دست اقتدار کے ماتحت رہنا اور اپنے کسی فعل میں اپنے کو دنیا کے (بلکہ نعوذ باللہ خدا کے)سامنے جواب دہ ہونا نہیں چاہتا۔

یہاں اتنی بات اور یاد رکھنی چاہیے کہ ہر نبی نے اپنے بعد اپنے بہترین صلاحیت رکھنے والے صحابیوں کو امت کا کام سنبھالنے کی برابر وصیت کی ہے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے بعد (حضرات يوشع، كالب، يوساقوس) کو یکے بعد دیگرے خلافت کی وصیت فرمائی تھی۔

(خلافت و ملوکیت کی حقیقت صفحہ21)

سیدنا امیر معاویہ کے لیے باغی طاغی و غیره نازیبا كلمات استعمال کرنے اور ان کے لیے حدیث شریف سے استدلال کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص حضرت آدم علیہ السلام کے لیے نعوذباللہ نافرمان کا لفظ استعمال کرنے لگے، اور قرآن پاک کی آیت وَعَصَیٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَی کو استدلال میں پیش کرے یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے ظالم کا لفظ استعمال کرے اور دلیل کے طور پر قرآن پاک کی آیت  رَبِّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْلِیْ(سورة قصص) پیش کرے۔

یا اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے کاذب اور جھوٹے کا لفظ استعمال کرے اور جب اس کو روکا جائے تو جسارت کے ساتھ ہفوات بکنے لگے کہ یہ تو حدیث شریف سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ کہہ کر شفاعت کرنے سے انکار فرما دیں گے:

انی كذبت ثلاث كذبات

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سلف نے بھی سیدنا معاویہ ؓکے لیے باغی کالفظ اپنی کتابوں میں استعمال کیا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن اسلاف نے خطاء اجتہادی کی بنا پر یہ لفظ استعمال کیا ہے انہیں حضرات اکابر نے کف لسان و قلم کا بھی تو حکم دیا ہے۔

و ان كنت لا تدرى فتلك مصيبة

و ان كنت تدرى فالمصيبة اعظم

امیر شام کا دشمن علی کا ہو نہیں سکتا

جو دشمن ہو صحابہ کا حسینی ہو نہیں سکتا

خدا جس سے ہوا راضی وہ طاغی ہو نہیں سکتا

وحی کا لکھنے والا کوئی باغی ہو نہیں سکتا


صفحہ 6 از 6