سوال 3:اس شخص کا الزام ہے کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے احادیث کے سلسلہ میں خیانت سے کام لیا اور انہوں نے ذخیرہ حدیث کا آدھا حصہ گول کر دیا (نعوذ باللہ) نیز وہ درباری مولوی تھے۔
(ایسا کہنے والے کے حق میں شریعت کیا حکم لگاتی ہے)
جواب 3:کسی ادنیٰ درجہ کے صحابیؓ پر بھی خیانت کا الزام لگانا موجب فسق، معصیت کبیرہ اور بے شک و شبہ ناجائز و حرام ہے، صحابہ کرامؓ سے بدگمانی رکھنا ان کو برا کہنا قرآن مجید کی صریح مخالفت اور شریعت الٰہیہ سے کھلی ہوئی بغاوت ہے، ایسے شخص کے کفر کا اندیشہ ہے۔(خلفاء راشدین: صفحہ 6)
اور ان پر خیانت کا الزام سراسر کذب و اہام ہے چہ جائیکہ عزت و عظمت کے پہاڑ، سرخیل اصحابِؓ صفہ، خشیتِ الٰہی، تقویٰ و پرہیزگاری، عبادت و ریاضت، اتباعِ سنت اور حبِ رسولﷺ کے پیکر پانچ ہزار تین سو بہتر احادیثِ طیبہ کے راوی ہونے کا اعزاز رکھنے والے عظیم المرتبت صحابی سیدنا ابو ہریرہؓ پر ایسا رکیک الزام لگایا جائے۔ استغفر اللہ ثم استغفر اللہ۔ صحابیؓ کی فضیلت وعظمت قرآن وحدیث میں جا بجا مذکور ہے۔ کسی ادنیٰ درجہ کے صحابیؓ سے دل میں نفرت و ناگواری و انقباض رکھنا یا ان پر نعوذ باللہ کوئی الزام تراشی کرنا دنیا و آخرت تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فضیلت صحابہؓ سے متعلق قرآن و حدیث سے کچھ باتیں یہاں نقل کر دی جائیں تاکہ ایک عام مسلمان ان کو پیشِ نظر رکھے اور صحابہ کرامؓ کے متعلق اپنے دل میں کوئی بدگمانی نہ آنے دے۔
آیت کریمہ: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ۔ وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ
ان دونوں آیتوں کے اصل مخاطب اور اولین مصداق حضرات صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ
ترجمہ:"اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی"
اس میں صحابہ کرامؓ کے دو طبقے بیان کیے گئے ہیں ایک سابقین اولین کا دوسرے بعد میں ایمان لانے والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق اعلان کر دیا گیا کہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔
علامہ ابن عبد البرؒ مقدمہ استیعاب میں فرماتے ہیں:
ومن رضی الله عنه لم يسخط عليه ابد ان شاء الله تعالىٰ
"یعنی اللہ جس سے راضی ہو گیا پھر اس سے کبھی ناراض نہ ہو گا"
یہ اس وجہ سے کہ اللہ کو سب اگلی اور پچھلی چیزوں کا علم ہے لہٰذا وہ راضی اس شخص سے ہو سکتے ہیں جو آئندہ زمانے میں بھی رضائے الٰہی کے خلاف کام کرنے والا نہیں ہے، اس لیے کسی کے واسطے رضائے الٰہی کا اعلان اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کا خاتمہ اور انجام بھی حالت صالحہ پر ہوگا اس سے رضائے الٰہی کے خلاف کوئی کام آئندہ بھی سرزد نہ ہوگا۔
يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ
ترجمہ: اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آخرت میں صحابہؓ کو عذاب نہ ہوگا اور یہ کہ پیغمبرﷺ کی وفات کے بعد بھی ان کا نور زائل نہ ہوگا ورنہ زائل شدہ نور ان کے کیا کام آتا۔(تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ 530)
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو قلب محمدﷺ کو ان سب قلوب میں بہتر پایا چنانچہ اس کو اپنی رسالت کے لیے مقرر فرما لیا، پھر دوسرے قلوب پر نظر ڈالی تو اصحاب محمدﷺ کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا چنانچہ ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لیے منتخب فرما لیا، ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیﷺ کا وزیر بنا لیا، پس یہ صحابہؓ جس کام کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے اور جس کام کو برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے۔
ان اللّٰہ نظر فی قلوب العباد فوجد قلب محمد خير قلوب العباد فاصطفاه لنفسه فابتعثه برسالته ثم نظر فی قلوب العباد بعد قلب محمد فوجد قلوب اصحابه خير قلوب العباد فجعلهم وزراء نبيه يقاتلون علی دينه فما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن وما رأه سيئا فهو عند الله سيئی۔
(موطا امام محمد: صفحہ 112،
البدایہ والنہایہ: جلد 10 صفحہ 328،
اقامۃ الحجہ: صفحہ 8 ،
مجالس الابرر: صفحہ 30)
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت پر وہ سب کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آ چکا ہے، بنی اسرائیل کے بہتر فرقے ہو گئے تھے میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے وہ سب دوزخی ہوں گے مگر صرف ایک فرقہ نجات پانے والا ہوگا، صحابہؓ نے عرض کیا، وہ فرقہ کونسا ہوگا، فرمایا ما انا عليه واصحابی جس طریق پر میں اور میرے صحابہؓ ہیں(مشکوٰۃ شریف: صفحہ 30)
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے نجات پانے والی جماعت کی پہچان میں فرمایا کہ جو اس طریقہ پر ہو جس طریقہ پر میں ہوں اور میرے صحابہؓ ہیں۔
اگرچہ ظاہراً اتنا فرما دینا کافی تھا کہ جس طریقہ پر میں ہوں لیکن پھر بھی آپﷺ نے اپنے ساتھ صحابہؓ کا ذکر اس لیے کیا تا کہ سب جان لیں کہ جو میرا طریقہ ہے وہی میرے صحابہؓ کا طریقہ ہے اور نجات کی راہ صحابہؓ کی پیروی ہی میں منحصر ہے۔
(مکتوبات امام ربانی: جلد 1 صفحہ 103)
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہؓ میں سے کوئی بھی صحابیؓ جس سرزمین میں وفات پائے گا وہ قیامت کے روز اس سرزمین والوں کے لیے قائد اور نور بن کر اٹھے گا۔
ما من احد من اصحابی يموت باارض الابعث قائدا ونورا لهم يوم القيامة
(ترمذی شریف: جلد 2 صفحہ 226)
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی کسی صحابیؓ کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت اویس قرنیؒ اپنی تمام تر بلندی شان کے باوجود چونکہ آنحضرتﷺ کی شرف صحبت سے مشرف نہ ہو سکے اس لیے ادنیٰ صحابی کے مرتبہ کو بھی نہ پہنچ سکے۔
کسی شخص نے عبد اللہ بن مبارکؒ سے دریافت کیا کہ سیدنا معاویہؓ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبد العزيزؒ؟آپ نے جواب میں فرمایا کہ آنحضرتﷺ کی معیت میں سیدنا معاویہؓ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ بھی عمر بن عبد العزيزؒسے کئی گنا بہتر ہے۔ (مکتوبات امام ربانی: صفحہ 205)
پیرانِ پیر شیخ عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ اہلِ سنت نے اتفاق کیا ہے کہ جو اختلافات صحابہؓ کے درمیان ہوئے ہیں اس کے بارے میں سکوت اختیار کرنا اور ان کی کمزوریوں کو بیان کرنے سے باز رہنا واجب ہے اور ان کے فضائل و محاسن کو ظاہر کرنا اور ان کو بیان کرنا مناسب ہے۔ (غنیۃ الطالبین: صفحہ 54)
علامہ ابن ہمامؒ عقائد اسلامیہ پر اپنی مشہور کتاب مسامرہ میں فرماتے ہیں کہ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے اس طرح کہ ان سب کی عدالت (عدل) کو ثابت کیا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثناء بیان کی جائے جیسا کہ اللہ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔
اعتقاد اهل السنة والجماعة تزكية جميع الصحابةؓ وجوبا باثبات العدالة لكل منهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما اثنى الله سبحانه وتعالیٰ عليهم(مسامرہ : صفحہ 132)
عقائد کی مشہور کتاب شرح عقائد نسفیہ میں ہے کہ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کا ذکر بجز خیر اور بھلائی کے نہ کیا جائے۔
ويكف عن ذكر الصحابة الا بخير
(شرح عقائد نسفیہ: صفحہ 116)
علامہ سید شریف جرجانیؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ تمام صحابہؓ کی تعظیم کرنا اور ان پر اعتراض کرنے سے بچنا واجب ہے اس لیے کہ اللہ عظیم ہے اور اس نے ان حضرات پر اپنی کتاب کے بہت سے مقامات میں مدح و ثناء فرمائی ہے اور رسول اللہﷺ ان حضرات سے محبت فرماتے تھے اور آپﷺ نے بہت سی احادیث میں ان کی ثناء فرمائی ہے:
انہ يجب تعظيم الصحابة كلهم والكف عن القدح فيهم لان الله عظیم واثنی عليهم فی غير موضع من كتابه الیٰ والرسولﷺ قد احبهم واثنی عليهم فی الاحادیث الكثيرة (شرح مواقف)
شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے منتخب فرمایا اور میرے لیے، میرے صحابہؓ کو منتخب فرمایا اور ان کو میرا مددگار اور رشتہ دار بنایا۔
خبردار! آخر زمانے میں ایک گروہ پیدا ہوگا جو صحابہؓ کا رتبہ کم کرے گا تو تم ان کے ساتھ (میل جول نہ رکھو) نہ کھاؤ نہ پیو، نہ ان کی عورتوں سے نکاح کرو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو، ان پر خدا کی لعنت نازل ہوئی ہے۔
قال رسول اللّٰہﷺ فی رواية انس ان الله عزوجل اختارنی واختار لی اصحابی فجعلهم انصاری وجعلهم اصهاری وانه سيجئ فی آخر الزمان قوم ينقصونهم الا فلاتاكلوهم الا فلاتشاربوهم الا فلاتناكحوهـم الا فلاتصلوا معهم الا فلاتصلوا عليهم، عليهم حلت اللعنة ۔(غنیۃ الطالبین: جلد 1 صفحہ 54)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ اصحابِ محمدﷺ کو برا نہ کہو ان میں سے کسی ایک کا ایک گھڑی عبادت کرنا تم میں سے کسی کے عمر بھر عبادت کرنے سے بہتر ہے۔
لا تسبوا اصحاب محمد فلمقام احدهم ساعة خير من عمل احدكم عمره.
حضرت عدی نے ابنِ عائشہؓ سے مرفوعاً ایک روایت نقل کی ہے کہ میری امت کے بدترین افراد وہ ہیں جو میرے صحابہؓ کی برائی بیان کرنے میں بہت جری ہوں۔
حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ بندہ کا خدا سے اس حال میں ملنا کہ وہ انسانوں کے گناہوں کا گٹھر باندھ کر سر پر رکھے ہوئے ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ خدا کے دربار میں اس حال میں حاضر ہو کہ میرے صحابہؓ میں سے کسی ایک صحابیؓ کی عداوت و بغض اپنے دل میں رکھتا ہو کیوں کہ ایسے شخص کی قیامت کے دن بخشش نہ ہوگی۔
عن النبیﷺ لان يلقى الله عبد بذ ذنوب العباد خير له من ان يبغض رجلا من اصحابی فانه ذنب لا يغفر له يوم القيامة۔ (نزہۃ المجالس: جلد 2 صفحہ 243)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ اصحابِ نبیﷺ کے لیے استغفار کریں مگر لوگوں نے (بجائے استغفار کرنے کے) ان کی بدگوئی شروع کر دی یہ کہہ کر انہوں نے وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ الخ کی تلاوت فرمائی۔ (ازالۃ الخفاء: جلد 3 صفحہ 246)
حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں جو صحابہ کرامؓ سے بغض رکھے اور ان کو برا کہے تو اس کا مسلمانوں میں کوئی حق حصہ نہیں۔
من ابغض الصحابة وسبهم فليس له فی المسلمين
حضرت شیخ شبلیؒ فرماتے ہیں کہ جس نے صحابہؓ کی تعظیم نہ کی وہ حضور اکرمﷺ پر ایمان ہی نہیں لایا۔
ما آمن برسول الله من لم يوقر اصحابه
(مکتوبات امام ربانیؒ: جلد 3 صفحہ 46)
حضرت امام سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ جس نے یہ گمان کیا کہ سیدنا علیؓ حضرات شیخین سے زیادہ مستحق خلافت تھے اس نے تمام مہاجرین و انصار کو غلطی پر سمجھا اور میں نہیں سمجھتا کہ ان سب کو خطا پر سمجھنے کے بعد اس کا کوئی نیک کام آسمان تک جا سکے گا۔ (ازالۃ الخفاء فصل چہارم: صفحہ 224)
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد خیرِ امت سیدنا ابوبکرؓ ہیں اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ ہیں ان کے بعد سیدنا عثمانؓ ہیں اور ان کے بعد بقیہ تمام صحابہؓ خیر الناس ہیں۔ کسی کے لیے زیب نہیں ہے کہ ان کا نام ذرہ برابر برائی کے ساتھ لے یا ان پر طعن کرے یا عیب جوئی کرے اور جو یہ کام کرے حکومت اسلامی پر شرعاً واجب ہے کہ وہ ایسے خبیث کو سزا دے اور اس کو معاف نہ کرے، اس سے توبہ کرائے، اگر صدقِ دل سے توبہ کر لے تو قبول کر لی جائے گی اور اگر توبہ نہ کرے تو سزا جاری رکھے اور اس کو قید کر دے تا آنکہ توبہ کر لے یا مر جائے۔
(الصارم المسلول: صفحہ 573)
حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ فرماتے ہیں:
آئمہ کو برا کہنے سے آدمی چھوٹا رافضی ہو جاتا ہے اور صحابہؓ کی شان میں گستاخی کرنا یہ اصل رفض ہے۔
(تنقیح التنقید: صفحہ 10،
تنقید انبیاء و طعن صحابہؓ کا شرعی حکم در فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 47)
اب کچھ معروضات مختصر طور پر سیدنا ابو ہریرہؓ کے علمی مقام اور جلالت شان نیز دوسرے حضرات صحابہ کرامؓ کی نگاہ میں ان کے مرتبہ کے تعلق سے نقل کی جاتی ہیں نیز چند واقعات حضرت کے کمال احتیاط کے تحریر کیے جاتے ہیں جن کو پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ جو ناواقف سیدنا ابو ہریرہؓ جیسی محتاط شخصیت پر یہ گندے اور گھناؤنے الزام لگا رہے ہیں وہ کس قدر جسارت بیجا کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کا یہ اقدام کس قدر لائق افسوس اور ناقابل یقین ہے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ کے وسعت علم کے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ خود رسول اللہﷺ نے انہیں علم کا ظرف قرار دیا ہے چنانچہ علم کی ہر قسم کے علوم دینی (قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ وغیرہ) شامل ہیں چنانچہ آپؓ کا شمار صحابہ کرامؓ کے کبار آئمہ حدیث میں ہوتا ہے، آپؓ علم حدیث کے علاوہ دوسرے دینی علوم میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے، البتہ ان کی علمی زندگی میں روایت واشاعت حدیث کا پہلو سب سے نمایاں ہے۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے ایسی روایات سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں احادیث کو سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت کروں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ ہم سب سے زیادہ حضورﷺ کی صحبت میں رہے ہیں اس لیے ہم سب سے بڑھ کر حدیث کے عالم ہیں۔سیدنا ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ اللہ کے رسولﷺ سے وہ باتیں بھی پوچھ لیا کرتے تھے جن کے دریافت کرنے کی ہم کو جرأت نہ ہوتی تھی۔امام اعمشؒ ابو صالح السمانؒ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ تمام صحابہؓ میں سب سے بڑے حافظ حدیث تھے۔
یہی بات حضرت امام شافعیؒ، حافظ ابن عبد البر اندلسیؒ، علامہ ابن حجر عسقلانیؒ اور حافظ ابن کثیرؒ سے بھی مروی ہے۔
ذیل میں ہم چند واقعات نمونہ کے طور پر تحریر کرتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہر انصاف پسند اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہؓ پر یہ الزام کس قدر نامعقولیت و بیہودگی پر مبنی ہے۔ جس کے دل میں اس درجہ خوف خداوندی غالب ہو وہ کسی علمی خیانت کا مرتکب ہرگز نہیں ہو سکتا۔
1: پانچ لاکھ درہم بیت المال کے سپرد:
سیدنا ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ میں بحرین سے اپنے ساتھ پانچ لاکھ کی رقم لایا اور امیر المومنین سیدنا عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ رقم پیش کر دی۔ تو انہوں نے پوچھا یہ کتنا مال ہے؟ میں نے کہا پانچ لاکھ، سیدنا عمرؓ متعجب ہو کر بولے کیا تم جانتے ہو کہ پانچ لاکھ کتنے ہوتے ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں اور اس کی تفصیل بتلا دی۔
امیر المومنین نے کہا (شاید) تم پر بے خوابی کے اثرات ہیں، اس وقت جاؤ، صبح پھر آنا۔ چنانچہ دوسرے دن صبح کو میں دوبارہ حاضر ہوا اور کہا امیر المومنین مجھ سے یہ مال لے لیجیے، حضرت عمرؓ نے دوبارہ پھر پوچھا یہ کتنا مال ہے؟ میں نے کہا پانچ لاکھ، سیدنا عمرؓ نے پوچھا کیا یہ تمام رقم حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہے؟ میں نے کہا میرے علم کے مطابق یہ تمام مال حلال کی آمدنی ہے، پھر امیر المومنین نے (یہ رقم بیت المال کے لیے قبول کرتے ہوئے) اعلان کرا دیا کہ اے لوگو! اس وقت ہمارے پاس کثیر مال آیا ہے۔
(کتاب الخراج لقاضی ابو یوسفؒ: صفحہ 48)
2: امارت قبول کرنے سے انکار:
ایک مرتبہ امیر المؤمنین سیدنا عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں سیدنا ابو ہریرہؓ کو کسی جگہ کا امیر بنانا چاہا مگر سیدنا ابو ہریرہؓ نے انکار کر دیا۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا آپ امارت کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ یوسف علیہ السلام نے اس کے لیے اپنی خواہش ظاہر کی تھی، جو آپ سے بہتر تھے یہ سن کر سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہا یوسف علیہ السلام نبی ابن نبی تھے اور میں اُمیہ کا بیٹا ابو ہریرہ ہوں۔ (طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 61)
3: فکرِ آخرت:
آپؓ مرض الوفات میں محاسبہ آخرت کا خیال کر کے بہت روتے تھے لوگوں نے پوچھا کہ آپؓ روتے کیوں ہیں، تو فرمایا میں اس دنیا کی دل فریبیوں کی چھوٹ جانے پر نہیں روتا میں تو اس لیے روتا ہوں کہ سفر طویل ہے اور زاد راہ کم۔ میں اس وقت جنت اور دوزخ کے نشیب و فراز میں ہوں، معلوم نہیں کس راستہ پر جانا پڑے۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 937)
4: آخرت میں محاسبہ کا خوف:
ایک مرتبہ آپؓ کی ایک حبشی خادمہ نے آپؓ کو بہت غصہ دلایا آپؓ نے غصہ میں آ کر اس کو مارنے (اور تادیب) کے لیے چابک اٹھایا لیکن خوف آخرت غالب آگیا، چابک ہاتھ سے رکھ کر فرمانے لگے اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ قیامت کے دن مجھ سے بدلہ لیا جائے گا، تو میں اس چاہک سے تیری پٹائی کر دیتا۔ جا میں نے تجھے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آزاد کر دیا۔ (سیر الصحابہؓ: جلد 3)
5: خوف آتش جہنم سے لرزاں:
ایک مرتبہ آپؓ کی بیٹی نے عرض کیا کہ ابا جان لڑکیاں مجھے طعنے دیتی ہیں کہ تمہارے والد تمہیں زیور کیوں نہیں پہناتے؟ آپؓ نے اپنی بیٹی سے فرمایا بیٹی! ان سے کہنا میرا باپ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کو جہنم کی آگ میں نہ جلنا پڑے۔ (البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 937)
شیعہ مذہب نے آنحضرتﷺ کے رفقاء اور آپﷺ کے جانشینوں پر حملہ کر کے خود اسلام اور آنحضرتﷺ کی ذات اقدس پر ایک ایسا حملہ کیا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
تفسیر مظہری میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کے استاذ امام شعبیؒ کا قول ہے کہ اگر یہودیوں سے پوچھا جائے کہ تمہاری امت میں سب سے افضل کون لوگ ہوتے ہیں؟ تو وہ فوراً کہیں گے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفقاء اور ان کے صحابی اور اگر عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ تمہاری جماعت میں سب سے بزرگ تر کون لوگ ہیں، تو وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری۔
لیکن اگر شیعوں سے پوچھا جائے کہ امت محمدیہﷺ میں سب بدترین مخلوق کون ہے تو ان کا جواب ہوگا کہ محمدﷺ کے صحابہؓ
نعوذ باللہ، استغفر اللہ