سیدنا ابو ہریرہؓ پر خیانت کا الزام لگانے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا ابو ہریرہؓ پر خیانت کا الزام لگانے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 3

سوال 3:اس شخص کا الزام ہے کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے احادیث کے سلسلہ میں خیانت سے کام لیا اور انہوں نے ذخیرہ حدیث کا آدھا حصہ گول کر دیا (نعوذ باللہ) نیز وہ درباری مولوی تھے۔

(ایسا کہنے والے کے حق میں شریعت کیا حکم لگاتی ہے)

جواب 3:کسی ادنیٰ درجہ کے صحابیؓ پر بھی خیانت کا الزام لگانا موجب فسق، معصیت کبیرہ اور بے شک و شبہ ناجائز و حرام ہے، صحابہ کرامؓ سے بدگمانی رکھنا ان کو برا کہنا قرآن مجید کی صریح مخالفت اور شریعت الٰہیہ سے کھلی ہوئی بغاوت ہے، ایسے شخص کے کفر کا اندیشہ ہے۔(خلفاء راشدین: صفحہ 6)

اور ان پر خیانت کا الزام سراسر کذب و اہام ہے چہ جائیکہ عزت و عظمت کے پہاڑ، سرخیل اصحابِؓ صفہ، خشیتِ الٰہی، تقویٰ و پرہیزگاری، عبادت و ریاضت، اتباعِ سنت اور حبِ رسولﷺ کے پیکر پانچ ہزار تین سو بہتر احادیثِ طیبہ کے راوی ہونے کا اعزاز رکھنے والے عظیم المرتبت صحابی سیدنا ابو ہریرہؓ پر ایسا رکیک الزام لگایا جائے۔ استغفر اللہ ثم استغفر اللہ۔ صحابیؓ کی فضیلت وعظمت قرآن وحدیث میں جا بجا مذکور ہے۔ کسی ادنیٰ درجہ کے صحابیؓ سے دل میں نفرت و ناگواری و انقباض رکھنا یا ان پر نعوذ باللہ کوئی الزام تراشی کرنا دنیا و آخرت تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فضیلت صحابہؓ سے متعلق قرآن و حدیث سے کچھ باتیں یہاں نقل کر دی جائیں تاکہ ایک عام مسلمان ان کو پیشِ نظر رکھے اور صحابہ کرامؓ کے متعلق اپنے دل میں کوئی بدگمانی نہ آنے دے۔

آیت کریمہ: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ۔ وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ

ان دونوں آیتوں کے اصل مخاطب اور اولین مصداق حضرات صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ

ترجمہ:"اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی"

اس میں صحابہ کرامؓ کے دو طبقے بیان کیے گئے ہیں ایک سابقین اولین کا دوسرے بعد میں ایمان لانے والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق اعلان کر دیا گیا کہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔

علامہ ابن عبد البرؒ مقدمہ استیعاب میں فرماتے ہیں:

ومن رضی الله عنه لم يسخط عليه ابد ان شاء الله تعالىٰ 

"یعنی اللہ جس سے راضی ہو گیا پھر اس سے کبھی ناراض نہ ہو گا" 

یہ اس وجہ سے کہ اللہ کو سب اگلی اور پچھلی چیزوں کا علم ہے لہٰذا وہ راضی اس شخص سے ہو سکتے ہیں جو آئندہ زمانے میں بھی رضائے الٰہی کے خلاف کام کرنے والا نہیں ہے، اس لیے کسی کے واسطے رضائے الٰہی کا اعلان اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کا خاتمہ اور انجام بھی حالت صالحہ پر ہوگا اس سے رضائے الٰہی کے خلاف کوئی کام آئندہ بھی سرزد نہ ہوگا۔

يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ 

ترجمہ: اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ 

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آخرت میں صحابہؓ کو عذاب نہ ہوگا اور یہ کہ پیغمبرﷺ‎ کی وفات کے بعد بھی ان کا نور زائل نہ ہوگا ورنہ زائل شدہ نور ان کے کیا کام آتا۔(تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ 530)

حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو قلب محمدﷺ کو ان سب قلوب میں بہتر پایا چنانچہ اس کو اپنی رسالت کے لیے مقرر فرما لیا، پھر دوسرے قلوب پر نظر ڈالی تو اصحاب محمدﷺ کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا چنانچہ ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لیے منتخب فرما لیا، ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیﷺ کا وزیر بنا لیا، پس یہ صحابہؓ جس کام کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے اور جس کام کو برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے۔

ان اللّٰہ نظر فی قلوب العباد فوجد قلب محمد خير قلوب العباد فاصطفاه لنفسه فابتعثه برسالته ثم نظر فی قلوب العباد بعد قلب محمد فوجد قلوب اصحابه خير قلوب العباد فجعلهم وزراء نبيه يقاتلون علی دينه فما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن وما رأه سيئا فهو عند الله سيئی۔ 

(موطا امام محمد: صفحہ 112، 

البدایہ والنہایہ: جلد 10 صفحہ 328، 

اقامۃ الحجہ: صفحہ 8 ،

مجالس الابرر: صفحہ 30)

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت پر وہ سب کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آ چکا ہے، بنی اسرائیل کے بہتر فرقے ہو گئے تھے میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے وہ سب دوزخی ہوں گے مگر صرف ایک فرقہ نجات پانے والا ہوگا، صحابہؓ نے عرض کیا، وہ فرقہ کونسا ہوگا، فرمایا ما انا عليه واصحابی جس طریق پر میں اور میرے صحابہؓ ہیں(مشکوٰۃ شریف: صفحہ 30)

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے نجات پانے والی جماعت کی پہچان میں فرمایا کہ جو اس طریقہ پر ہو جس طریقہ پر میں ہوں اور میرے صحابہؓ ہیں۔

اگرچہ ظاہراً اتنا فرما دینا کافی تھا کہ جس طریقہ پر میں ہوں لیکن پھر بھی آپﷺ‎ نے اپنے ساتھ صحابہؓ‎ کا ذکر اس لیے کیا تا کہ سب جان لیں کہ جو میرا طریقہ ہے وہی میرے صحابہؓ کا طریقہ ہے اور نجات کی راہ صحابہؓ کی پیروی ہی میں منحصر ہے۔ 

(مکتوبات امام ربانی: جلد 1 صفحہ 103)

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہؓ میں سے کوئی بھی صحابیؓ جس سرزمین میں وفات پائے گا وہ قیامت کے روز اس سرزمین والوں کے لیے قائد اور نور بن کر اٹھے گا۔

ما من احد من اصحابی يموت باارض الابعث قائدا ونورا لهم يوم القيامة

(ترمذی شریف: جلد 2 صفحہ 226)

صفحہ 1 از 3