سیدنا ابو ہریرہؓ پر خیانت کا الزام لگانے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا ابو ہریرہؓ پر خیانت کا الزام لگانے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 3

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی کسی صحابیؓ کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت اویس قرنیؒ اپنی تمام تر بلندی شان کے باوجود چونکہ آنحضرتﷺ کی شرف صحبت سے مشرف نہ ہو سکے اس لیے ادنیٰ صحابی کے مرتبہ کو بھی نہ پہنچ سکے۔

کسی شخص نے عبد اللہ بن مبارکؒ سے دریافت کیا کہ سیدنا معاویہؓ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبد العزيزؒ؟آپ نے جواب میں فرمایا کہ آنحضرتﷺ کی معیت میں سیدنا معاویہؓ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ بھی عمر بن عبد العزيزؒسے کئی گنا بہتر ہے۔ (مکتوبات امام ربانی: صفحہ 205)

پیرانِ پیر شیخ عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ اہلِ سنت نے اتفاق کیا ہے کہ جو اختلافات صحابہؓ کے درمیان ہوئے ہیں اس کے بارے میں سکوت اختیار کرنا اور ان کی کمزوریوں کو بیان کرنے سے باز رہنا واجب ہے اور ان کے فضائل و محاسن کو ظاہر کرنا اور ان کو بیان کرنا مناسب ہے۔ (غنیۃ الطالبین: صفحہ 54)

علامہ ابن ہمامؒ عقائد اسلامیہ پر اپنی مشہور کتاب مسامرہ میں فرماتے ہیں کہ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے اس طرح کہ ان سب کی عدالت (عدل) کو ثابت کیا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثناء بیان کی جائے جیسا کہ اللہ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔

اعتقاد اهل السنة والجماعة تزكية جميع الصحابةؓ وجوبا باثبات العدالة لكل منهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما اثنى الله سبحانه وتعالیٰ عليهم(مسامرہ : صفحہ 132)

عقائد کی مشہور کتاب شرح عقائد نسفیہ میں ہے کہ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کا ذکر بجز خیر اور بھلائی کے نہ کیا جائے۔ 

ويكف عن ذكر الصحابة الا بخير 

(شرح عقائد نسفیہ: صفحہ 116)

علامہ سید شریف جرجانیؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ تمام صحابہؓ کی تعظیم کرنا اور ان پر اعتراض کرنے سے بچنا واجب ہے اس لیے کہ اللہ عظیم ہے اور اس نے ان حضرات پر اپنی کتاب کے بہت سے مقامات میں مدح و ثناء فرمائی ہے اور رسول اللہﷺ ان حضرات سے محبت فرماتے تھے اور آپﷺ‎ نے بہت سی احادیث میں ان کی ثناء فرمائی ہے:

انہ يجب تعظيم الصحابة كلهم والكف عن القدح فيهم لان الله عظیم واثنی عليهم فی غير موضع من كتابه الیٰ والرسولﷺ‎ قد احبهم واثنی عليهم فی الاحادیث الكثيرة (شرح مواقف)

شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے منتخب فرمایا اور میرے لیے، میرے صحابہؓ کو منتخب فرمایا اور ان کو میرا مددگار اور رشتہ دار بنایا۔

خبردار! آخر زمانے میں ایک گروہ پیدا ہوگا جو صحابہؓ کا رتبہ کم کرے گا تو تم ان کے ساتھ (میل جول نہ رکھو) نہ کھاؤ نہ پیو، نہ ان کی عورتوں سے نکاح کرو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو، ان پر خدا کی لعنت نازل ہوئی ہے۔

قال رسول اللّٰہﷺ‎ فی رواية انس ان الله عزوجل اختارنی واختار لی اصحابی فجعلهم انصاری وجعلهم اصهاری وانه سيجئ فی آخر الزمان قوم ينقصونهم الا فلاتاكلوهم الا فلاتشاربوهم الا فلاتناكحوهـم الا فلاتصلوا معهم الا فلاتصلوا عليهم، عليهم حلت اللعنة ۔(غنیۃ الطالبین: جلد 1 صفحہ 54)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ اصحابِ محمدﷺ کو برا نہ کہو ان میں سے کسی ایک کا ایک گھڑی عبادت کرنا تم میں سے کسی کے عمر بھر عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

لا تسبوا اصحاب محمد فلمقام احدهم ساعة خير من عمل احدكم عمره.

حضرت عدی نے ابنِ عائشہؓ سے مرفوعاً ایک روایت نقل کی ہے کہ میری امت کے بدترین افراد وہ ہیں جو میرے صحابہؓ کی برائی بیان کرنے میں بہت جری ہوں۔

حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ بندہ کا خدا سے اس حال میں ملنا کہ وہ انسانوں کے گناہوں کا گٹھر باندھ کر سر پر رکھے ہوئے ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ خدا کے دربار میں اس حال میں حاضر ہو کہ میرے صحابہؓ میں سے کسی ایک صحابیؓ کی عداوت و بغض اپنے دل میں رکھتا ہو کیوں کہ ایسے شخص کی قیامت کے دن بخشش نہ ہوگی۔

عن النبیﷺ‎ لان يلقى الله عبد بذ ذنوب العباد خير له من ان يبغض رجلا من اصحابی فانه ذنب لا يغفر له يوم القيامة۔ (نزہۃ المجالس: جلد 2 صفحہ 243)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ اصحابِ نبیﷺ‎ کے لیے استغفار کریں مگر لوگوں نے (بجائے استغفار کرنے کے) ان کی بدگوئی شروع کر دی یہ کہہ کر انہوں نے وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ الخ کی تلاوت فرمائی۔ (ازالۃ الخفاء: جلد 3 صفحہ 246)

حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں جو صحابہ کرامؓ سے بغض رکھے اور ان کو برا کہے تو اس کا مسلمانوں میں کوئی حق حصہ نہیں۔

من ابغض الصحابة وسبهم فليس له فی المسلمين

حضرت شیخ شبلیؒ فرماتے ہیں کہ جس نے صحابہؓ کی تعظیم نہ کی وہ حضور اکرمﷺ‎ پر ایمان ہی نہیں لایا۔

ما آمن برسول الله من لم يوقر اصحابه 

(مکتوبات امام ربانیؒ: جلد 3 صفحہ 46)

حضرت امام سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ جس نے یہ گمان کیا کہ سیدنا علیؓ حضرات شیخین سے زیادہ مستحق خلافت تھے اس نے تمام مہاجرین و انصار کو غلطی پر سمجھا اور میں نہیں سمجھتا کہ ان سب کو خطا پر سمجھنے کے بعد اس کا کوئی نیک کام آسمان تک جا سکے گا۔ (ازالۃ الخفاء فصل چہارم: صفحہ 224)

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد خیرِ امت سیدنا ابوبکرؓ ہیں اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ ہیں ان کے بعد سیدنا عثمانؓ ہیں اور ان کے بعد بقیہ تمام صحابہؓ خیر الناس ہیں۔ کسی کے لیے زیب نہیں ہے کہ ان کا نام ذرہ برابر برائی کے ساتھ لے یا ان پر طعن کرے یا عیب جوئی کرے اور جو یہ کام کرے حکومت اسلامی پر شرعاً واجب ہے کہ وہ ایسے خبیث کو سزا دے اور اس کو معاف نہ کرے، اس سے توبہ کرائے، اگر صدقِ دل سے توبہ کر لے تو قبول کر لی جائے گی اور اگر توبہ نہ کرے تو سزا جاری رکھے اور اس کو قید کر دے تا آنکہ توبہ کر لے یا مر جائے۔ 

(الصارم المسلول: صفحہ 573)

حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ فرماتے ہیں:

صفحہ 2 از 3