سیدنا ابو ہریرہؓ پر خیانت کا الزام لگانے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا ابو ہریرہؓ پر خیانت کا الزام لگانے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 3 از 3

آئمہ کو برا کہنے سے آدمی چھوٹا رافضی ہو جاتا ہے اور صحابہؓ کی شان میں گستاخی کرنا یہ اصل رفض ہے۔ 

(تنقیح التنقید: صفحہ 10،

تنقید انبیاء و طعن صحابہؓ کا شرعی حکم در فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 47)

اب کچھ معروضات مختصر طور پر سیدنا ابو ہریرہؓ کے علمی مقام اور جلالت شان نیز دوسرے حضرات صحابہ کرامؓ کی نگاہ میں ان کے مرتبہ کے تعلق سے نقل کی جاتی ہیں نیز چند واقعات حضرت کے کمال احتیاط کے تحریر کیے جاتے ہیں جن کو پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ جو ناواقف سیدنا ابو ہریرہؓ جیسی محتاط شخصیت پر یہ گندے اور گھناؤنے الزام لگا رہے ہیں وہ کس قدر جسارت بیجا کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کا یہ اقدام کس قدر لائق افسوس اور ناقابل یقین ہے۔

سیدنا ابو ہریرہؓ کے وسعت علم کے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ خود رسول اللہﷺ نے انہیں علم کا ظرف قرار دیا ہے چنانچہ علم کی ہر قسم کے علوم دینی (قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ وغیرہ) شامل ہیں چنانچہ آپؓ کا شمار صحابہ کرامؓ کے کبار آئمہ حدیث میں ہوتا ہے، آپؓ علم حدیث کے علاوہ دوسرے دینی علوم میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے، البتہ ان کی علمی زندگی میں روایت واشاعت حدیث کا پہلو سب سے نمایاں ہے۔

سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے ایسی روایات سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔

سیدنا ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں احادیث کو سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت کروں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ ہم سب سے زیادہ حضورﷺ کی صحبت میں رہے ہیں اس لیے ہم سب سے بڑھ کر حدیث کے عالم ہیں۔سیدنا ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ اللہ کے رسولﷺ‎ سے وہ باتیں بھی پوچھ لیا کرتے تھے جن کے دریافت کرنے کی ہم کو جرأت نہ ہوتی تھی۔امام اعمشؒ ابو صالح السمانؒ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ تمام صحابہؓ میں سب سے بڑے حافظ حدیث تھے۔

یہی بات حضرت امام شافعیؒ، حافظ ابن عبد البر اندلسیؒ، علامہ ابن حجر عسقلانیؒ اور حافظ ابن کثیرؒ سے بھی مروی ہے۔

ذیل میں ہم چند واقعات نمونہ کے طور پر تحریر کرتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہر انصاف پسند اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہؓ پر یہ الزام کس قدر نامعقولیت و بیہودگی پر مبنی ہے۔ جس کے دل میں اس درجہ خوف خداوندی غالب ہو وہ کسی علمی خیانت کا مرتکب ہرگز نہیں ہو سکتا۔

1: پانچ لاکھ درہم بیت المال کے سپرد:

سیدنا ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ میں بحرین سے اپنے ساتھ پانچ لاکھ کی رقم لایا اور امیر المومنین سیدنا عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ رقم پیش کر دی۔ تو انہوں نے پوچھا یہ کتنا مال ہے؟ میں نے کہا پانچ لاکھ، سیدنا عمرؓ متعجب ہو کر بولے کیا تم جانتے ہو کہ پانچ لاکھ کتنے ہوتے ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں اور اس کی تفصیل بتلا دی۔

امیر المومنین نے کہا (شاید) تم پر بے خوابی کے اثرات ہیں، اس وقت جاؤ، صبح پھر آنا۔ چنانچہ دوسرے دن صبح کو میں دوبارہ حاضر ہوا اور کہا امیر المومنین مجھ سے یہ مال لے لیجیے، حضرت عمرؓ نے دوبارہ پھر پوچھا یہ کتنا مال ہے؟ میں نے کہا پانچ لاکھ، سیدنا عمرؓ نے پوچھا کیا یہ تمام رقم حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہے؟ میں نے کہا میرے علم کے مطابق یہ تمام مال حلال کی آمدنی ہے، پھر امیر المومنین نے (یہ رقم بیت المال کے لیے قبول کرتے ہوئے) اعلان کرا دیا کہ اے لوگو! اس وقت ہمارے پاس کثیر مال آیا ہے۔ 

(کتاب الخراج لقاضی ابو یوسفؒ: صفحہ 48)

2: امارت قبول کرنے سے انکار:

ایک مرتبہ امیر المؤمنین سیدنا عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں سیدنا ابو ہریرہؓ کو کسی جگہ کا امیر بنانا چاہا مگر سیدنا ابو ہریرہؓ نے انکار کر دیا۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا آپ امارت کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ یوسف علیہ السلام نے اس کے لیے اپنی خواہش ظاہر کی تھی، جو آپ سے بہتر تھے یہ سن کر سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہا یوسف علیہ السلام نبی ابن نبی تھے اور میں اُمیہ کا بیٹا ابو ہریرہ ہوں۔ (طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 61)

3: فکرِ آخرت:

آپؓ مرض الوفات میں محاسبہ آخرت کا خیال کر کے بہت روتے تھے لوگوں نے پوچھا کہ آپؓ روتے کیوں ہیں، تو فرمایا میں اس دنیا کی دل فریبیوں کی چھوٹ جانے پر نہیں روتا میں تو اس لیے روتا ہوں کہ سفر طویل ہے اور زاد راہ کم۔ میں اس وقت جنت اور دوزخ کے نشیب و فراز میں ہوں، معلوم نہیں کس راستہ پر جانا پڑے۔ 

(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 937)

4: آخرت میں محاسبہ کا خوف:

ایک مرتبہ آپؓ کی ایک حبشی خادمہ نے آپؓ کو بہت غصہ دلایا آپؓ نے غصہ میں آ کر اس کو مارنے (اور تادیب) کے لیے چابک اٹھایا لیکن خوف آخرت غالب آگیا، چابک ہاتھ سے رکھ کر فرمانے لگے اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ قیامت کے دن مجھ سے بدلہ لیا جائے گا، تو میں اس چاہک سے تیری پٹائی کر دیتا۔ جا میں نے تجھے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آزاد کر دیا۔ (سیر الصحابہؓ: جلد 3)

5: خوف آتش جہنم سے لرزاں:

ایک مرتبہ آپؓ کی بیٹی نے عرض کیا کہ ابا جان لڑکیاں مجھے طعنے دیتی ہیں کہ تمہارے والد تمہیں زیور کیوں نہیں پہناتے؟ آپؓ نے اپنی بیٹی سے فرمایا بیٹی! ان سے کہنا میرا باپ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کو جہنم کی آگ میں نہ جلنا پڑے۔ (البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 937)

شیعہ مذہب نے آنحضرتﷺ کے رفقاء اور آپﷺ‎ کے جانشینوں پر حملہ کر کے خود اسلام اور آنحضرتﷺ کی ذات اقدس پر ایک ایسا حملہ کیا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

تفسیر مظہری میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کے استاذ امام شعبیؒ کا قول ہے کہ اگر یہودیوں سے پوچھا جائے کہ تمہاری امت میں سب سے افضل کون لوگ ہوتے ہیں؟ تو وہ فوراً کہیں گے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفقاء اور ان کے صحابی اور اگر عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ تمہاری جماعت میں سب سے بزرگ تر کون لوگ ہیں، تو وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری۔

لیکن اگر شیعوں سے پوچھا جائے کہ امت محمدیہﷺ‎ میں سب بدترین مخلوق کون ہے تو ان کا جواب ہوگا کہ محمدﷺ کے صحابہؓ

نعوذ باللہ، استغفر اللہ


صفحہ 3 از 3