سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ماننے کا حکم - ردِ رافضیت | دفاع…

سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ماننے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 3

5: یہ واقعہ قرطاس کہلاتا ہے، ظاہر میں لوگ اس کو پنج شنبہ کا واقعہ سمجھتے ہیں اور نتیجہ نکالنے میں غلطی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تعلق واقعہ اول ہی کی تحریر سے ہے اس کو اسی کی روشنی میں دیکھنے سے صحیح مطلب سمجھا جا سکتا ہے دشمنوں نے جو وساوس مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے چاہے ہیں اس کا جواب بعض مشہور اہلِ قلم نے یہ دیکھ کر کہ اس واقعہ سے تو سیدنا عمرؓ پر الزام الگ لگتا ہے اور نعوذ باللہ خود حضورﷺ کی ذات اقدس کے متعلق بھی شائبہ تنقیص الگ ہوتا ہے، سرے سے سیدنا ابنِ عباسؓ کی اس روایت ہی کا انکار کرنا چاہا ہے اور کہا ہے کہ اس انکار میں ہم اس وجہ سے اور بھی حق بجانب ہیں کہ اتنے اہم واقعہ کے راوی صرف ابن عباسؓ ہی ہیں جو وفات رسول اللہﷺ کے وقت اول تو خود موجود نہیں تھے دوسرے اس وقت ان کی عمر کل تیرہ (13) سال کی تھی اس لیے اس 13 سالہ نو عمر شخص جو واقعہ کے عینی شاہد بھی نہیں اگر حضورﷺ کی تنقیص اور سیدنا عمرؓ پر الزام کی روایت کریں اور تنہا روایت کریں تم ہم اس کو رد کر دینا آسان سمجھتے ہیں۔ (الفاروق علامہ شبلی: صفحہ 38)

مگر میرے نزدیک یہ بات معقول نہیں، اول تو اس وجہ سے کہ ابنِ عباسؓ حَبر امت ہیں، حضورﷺ‎ کے نظر کردہ اور دعا یافتہ ہیں، ان کی عمر چودہ، تیرہ برس ہی ہو خواہ اس سے بھی کم رہی ہو، وہ قابلِ اعتماد ہیں اور یقیناً ہیں، پھر خواہ واقعہ کے وقت وہ حضورﷺ کے پاس موجود نہ رہے ہوں وہ یقیناً ثقہ اور عادل ہیں، اور ان کی روایت یقیناً معتبر ہے۔

دوسرے ثقہ راویوں کی روایت صحیحہ کو محض اس بے وزن قیاس سے اصولاً رد نہیں کیا جا سکتا۔

تیسرے اگر ابن عباسؓ سے الزام اور تنقیص کی صرف یہی ایک روایت منقول ہوتی تب تو خیر اس حدیث کے انکار میں کچھ معقولیت بھی ہوتی لیکن ہم کو تو ابنِ عباسؓ ہی کی بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں جن میں اس الزام اور تنقیص کا مضمون سرے سے نہیں تو اس روایت کا انکار کیوں کیا جائے؟ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بخاری میں اس روایت کا ذکرمجھے پانچ جگہ چھ طرق سے ملا ہے۔


ان طرق میں سے صرف دو طریق ایسے ہیں جن میں یہ الزام و تنقیص کا مضمون ہے وہ طرق وہ ہیں جن میں بخاری کے استاذ قریب قبیصہ اور قتیبہ ہیں اور استاذ بعید سعید بن جبیر ہیں ورنہ بقیہ چار طرق جن میں حضرت ابنِ عباسؓ کے شاگرد عبید اللہ ہیں ان میں یہ لغو مضمون سرے سے نہیں، تو ہم بخاری کے چار استادوں (ابن وہب، علی بن عبد اللہ، ابراہیم بن موسیٰ اور عبد اللہ بن محمد) کی روایتوں کو آخر کس جرم میں رد کر دیں؟ کیا صرف اس جرم میں کہ اسی قصہ قرطاس کے دو طرق میں ”الزام و تنقیص“ کا لغو مضمون موجود ہے؟ ابن عباسؓ کی روایت کے مطلقاً انکار کر دینے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس کے ہر طریق میں ”الزام تنقیص“ کا قابل اعتراض اور لائق احتراز مضمون موجود ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس کے اکثر طرق کا مضمون بے غبار بھی ہے پس واقعہ قرطاس اور روایت ابن عباس کے مطلقاً انکار کے مقابلہ میں ہم یہ کیوں نہ کریں کہ اس کے چار بے غبار طرق کو تو صحیح مانیں اور صرف انہی دو طرق کا انکار کریں جن میں بخاری کے استاد قریب قبیصہ اور قتیبہ اور استاد بعید سعید بن جبیر ہیں، اگر خود حضرت ابن عباسؓ سے یہ واقعہ اس ”الزام و تنقیص“ کے لغو مضمون کے ساتھ مروی ہوتا تو اسے ان کے ہر شاگرد کی روایت میں ہونا چاہیے تھا مگر یہ کیا راز ہے کہ چار طرق میں تو کہیں اس مضمون کا پتہ نہیں صرف دو ہی طرق میں ہے؟ اور اس میں بھی اگر کوئی ماہر جرح و تعدیل اور فن رجال کا واقف عالم دین ذرا نظر تحقیق سے کام لے تو ہو سکتا ہے کہ یہ انکشاف (فتح الباری: جلد 6 باب جوائز الوفد میں مل گیا قتیبہ دراصل سفیان ثوریؒ کے شاگرد ہیں، انہی سے روایت بھی کرتے ہیں سفیان ابن عبیدؒ سے بجز بخاری کی اس روایت کے کوئی اور روایت ہی نہیں اور فربری کے شاگرد ابن السکن کی روایت میں قبیصہ کی بجائے قتیبہ ہی کا نام ہے۔ الحمد للہ)ہو کہ وہ دراصل ایک ہی طریق ہے اور کسی راوی کی کسی مخفی غرض نے اسے دو بنا دیا ہے خیر یہ کام تو فن رجال کے کسی عالم کا ہے لیکن مجھے اس طریق کے خود مضمون میں بھی کچھ نکارت معلوم ہوتی ہے۔ آپ بھی سن لیجیے:

”ابن عباسؓ نے فرمایا: ہائے جمعرات! ارے کیسی کچھ تھی وہ جمعرات: حضورﷺ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپﷺ‎ نے فرمایا میرے پاس آؤ میں تم کو ایک ایسی تحریر لکھ (لکھوا) دوں کہ تم اس کے بعد پھر کبھی بہک نہ سکو گے تو اہلِ بیتؓ آپس میں جھگڑنے لگے حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہ تھا تو کچھ لوگوں نے یہ کہہ دیا۔ ”یہ حضورﷺ‎ کی کیا حالت ہے؟ کیا آپ نے ہذیان کہا ہے؟ ذرا آپ سے پھر تو پوچھ لو تو لوگ آپ کے پاس آپ کی بات دوبارہ پوچھنے گئے، تو آپ نے فرمایا: تم سب مجھے چھوڑ دو، میں اس حالت میں اس سے اچھا ہوں جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو، پھر آپ نے ان کو تین وصیتیں فرمائیں، ایک یہ فرمایا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، ایک یہ کہ وفود کو اسی طرح انعام اور تحائف دینا جیسے میں دیتا تھا، تیسری بات پر وہ چپ ہو گئے یا یہ کہ میں ہی بھول گیا

(باب مرض النبی: جلد 2 صفحہ 638، 

باب جوائز الوفد: جلد 1 صفحہ 429) 

میں بھی تقریباً یہی مضمون ہے صرف اتنا فرق ہے کہ ”کیسی کچھ تھی وہ جمعرات‘‘ کے بعد اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”پھر ابنِ عباسؓ اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہو گئیں اور کیا آپ نے ہذیان کہا ہے؟ کے بعد ”پھر تو پوچھ لو“ کا لفظ نہیں ہے۔ اچھا اب اس نکارت کا حال سنیے:

1: امت میں بعد کے اختلافات دیکھ کر صرف ابن عباسؓ کا رونا اور اتنا رونا کہ چہرہ ریش مبارک دامن وغیرہ سے گزر کر زمین کے کنکر پتھروں کا بھیگ جانا کچھ جی کو نہیں لگتا، بے غبار روایت میں ”ان الرزیۃ کل الرزیۃ“ کا لفظ آیا ہے یعنی انہوں نے فرمایا کہ اجی ساری مصیبت تو یہی ہوئی کہ لوگ اختلافات کرنے لگ گئے اور تحریر نہ لکھی جا سکی، تحریر آج ہوتی تو یہ اختلافات نہ ہوتے، معلوم ہوتا ہے کہ اسی مضمون کو غیر ضروری مبالغہ کے ساتھ کسی راوی نے بیان فرما دیا ہے۔

صفحہ 2 از 3