سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ماننے کا حکم - ردِ رافضیت | دفاع…

سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ماننے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 3 از 3

2: جب حضورﷺ‎ کے کسی ارشاد میں خواہ وہ حالت مرض کی ہو یا حالت صحت کی، کسی ایک بات پر بھی کبھی اس کا احتمال نہ ہو سکا اور ہو سکتا بھی نہ تھا کہ آپﷺ‎ نے معاذ اللہ بے عقلی، کم عقلی، بدحواسی کی بات فرمائی ہو تو حضورﷺ‎ کے اس ارشاد پر کہ ”کاغذ قلم دوات لاؤ میں کچھ لکھوا دوں“ آخر کون سی غرابت تھی کہ معاذ اللہ بدحواسی (ہذیان) کا احتمال ہو؟ پھر تعجب ہے کہ ابنِ عباسؓ رسولﷺ‎ کے اہلِ بیتؓ حدیثی ہو کر حضورﷺ‎ کے لیے ہجر (ہذیان، بدحواسی) کا لفظ استعمال کریں۔

3: جب صحابہؓ کاغذ قلم دوات لے کر حضورﷺ‎ سے دوبارہ پوچھنے گئے اور قرینہ یہی ہے کہ یہ پوچھا ہوگا کہ ”حضورﷺ‎ ہم لوگ حسب الحکم کاغذ قلم لے آئے ہیں آپﷺ‎ جو لکھوانا چاہتے تھے ارشاد فرمائیں، ہم لکھ لیں“ اس کے جواب میں حضورﷺ‎ کا یہ ارشاد کہ ”میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے اچھی ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو“ اللہ مجھے معاف فرمائے اور مجھ پر رحم کرے، میری سمجھ میں نہیں آیا، میں صحابہؓ کی گزارش اور حضورﷺ‎ کے جواب میں کوئی جوڑ نہیں سمجھ سکا۔ بخاری کی روایت دیکھ کر اگرچہ علماء نے کوشش کی ہے کہ ان میں جوڑ اور ربط پیدا کریں مگر میں دو راز کار تاویل کا قائل نہیں، مجھے صاف یہ نظر آرہا ہے کہ یہ بے جوڑ بات حضورﷺ کے متعلق کہہ کر کسی راوی نے اس اپنے سابق لغو لفظ ہجر (ہذیان) کا ایک جواز و ثبوت بہم پہنچانا چاہا ہے، لیکن الحمد للہ کہ یہ نکارت ان چار بے غبار طرق میں نہیں ہے۔

اگر میری معروضات بالا علمی طور پر صحیح ہوں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ دشمنانِ دین کے اس وسوسہ کی طرف کچھ بھی التفات کریں جو وہ ان ایک یا دو طریق کو لے کر ہمارے دلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں جن میں سیدنا ابنِ عباسؓ کے شاگرد سعید ابنِ جبیرؒ ہیں، اس روایت کے مطلقاً (چاروں طرق کے) انکار کے مقابلہ میں ہم اس کا جواب یہ کیوں نہ دیں کہ چونکہ واقعہ قرطاس بخاری ہی کے چار طرق میں ایسے الفاظ سے بھی ہے جن میں حضورﷺ‎ کی تنقیص نہیں ہے اس لیے ہم انہیں چار کو صحیح سمجھتے ہیں اور اس ایک (یا دو) طریق کو کچھ روایۃً مشتبہ اور کچھ معنیٰ سوء ادب جان کر رد کرتے ہیں، تمہیں اگر اعتراض کرنا ہو تو بخاری کے ان چار طرق کو لے کر کوئی اعتراض کرو۔

طریق مشتبہ کا جواب:

لیکن اتمام حجت کے لیے ہم ذیل میں اس مشتبہ طریق (سعید بن جبیرؒ عن ابنِ عباسؓ) کا بھی مسکت جواب دیے دیتے ہیں، دشمنانِ دین کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ پر دو الزام ہیں:

1: حضورﷺ‎ سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانے والے تھے اسے سیدنا عمرؓ نے روک دیا۔

2: سیدنا عمرؓ نے ایسی تحریر کے لکھے جانے میں روڑا اٹکایا جس سے امت پھر نہ بھٹکنے پاتی۔

اس کا جواب یہ ہے:

1: سیدنا عمرؓ نے حضورﷺ‎ کی غایت درجہ رعایت فرمائی اور آپﷺ‎ کو راحت پہنچانے کو یہ مشورہ دیا تھا۔

2: سیدنا عمرؓ چونکہ مزاجِ رسالت کو ابن عباسؓ، علیؓ، عباسؓ وغيرہم سے کچھ زیادہ ہی سمجھتے تھے چنانچہ سیدنا عمرؓ کے بعض مشوروں کے مطابق وحی الٰہی بھی نازل ہوئی جو موافقاتِ عمرؓ کے نام سے مشہور ہے، اس لیے انہیں یقین تھا کہ اگر وہ مضمون جسے حضورﷺ‎ لکھانا چاہتے تھے، کسی واقعی دینی ضرورت کے متعلق ہوتا تو ناممکن ہے کہ حق تعالیٰ حضورﷺ‎ کی حیات ہی میں اس کی تکمیل نہ فرما دی ہو۔

3: حضورﷺ‎ نے سیدہ عائشہؓ سے بھی تحریر لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا پھر اسے خود ہی ملتوی فرما دیا اس سے سیدنا عمرؓ سمجھ گئے کہ اس تحریر کا نہ لکھا جانا ہی منشاء نبویﷺ‎ بلکہ منشاء الٰہی ہے، سیدنا ابن عباسؓ چونکہ اس سر الٰہی کو نہیں سمجھ سکے اس لیے انہوں نے رو رو کر کنکریاں تر کر دیں۔

4: سیدنا عمرؓ نے جو حسبنا کتاب اللہ فرمایا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کے ہادی کامل ہونے پر ان کا کس درجہ قوی ایمان تھا کہ اس نازک موقع پر بھی ان کے ایمان میں کمی نہیں ہونے پائی۔

5: حسبنا کتاب اللّٰہ فرماکر سیدنا عمرؓ نے اپنی صلاحیت قرآن فہمی اور اپنی ہمت کا بھی اظہار فرما دیا۔

6: سیدنا عمرؓ نے اس وقت ایک مشورہ ہی تو دیا تھا، اگر انہوں نے غلطی کی تھی تو حضرت عباسؓ اور حضرت ابن عباسؓ نے اور خاص کر سیدنا علیؓ نے کہ ایک روایت میں کاغذ لانے اور لکھنے کا حکم انہیں کو تو حضورﷺ‎ نے دیا تھا اس وقت یا بعد میں حضورﷺ‎ سے اس معاملہ کو صاف کیوں نہیں کر لیا؟

7: اگر سیدنا عمرؓ کا یہ مشورہ غلط تھا تو اہلِ بیتؓ نے سیدنا عمرؓ کی موافقت ہی کیوں کی؟

8: پھر جب کچھ اہلِ بیتؓ نے بھی سیدنا عمرؓ کی موافقت کی تو لوگوں کی یہ کتنی بددیانتی ہے کہ اس مشورہ کا سارا الزام اور طعن صرف سیدنا عمرؓ کو دیا جائے حالانکہ اس میں الزام کی بات سرے سے نہیں تھی۔

9: اس وقت بھی حضورﷺ‎ نے یہ فرما کر کہ ”اچھا میرے پاس سے ہٹ جاؤ“ یہ ظاہر فرما دیا کہ وہ تحریر ضروری نہیں تھی، نہ بھی لکھی جائے تو کچھ حرج نہ ہوگا

انتباہ ضروری:

واقعہ قرطاس میں ترک تحریر کے مشورہ میں اہلِ بیتؓ کا لفظ بھی آیا ہے، میں جانتا ہوں کہ اس کے معنیٰ یہاں ذوات اربع کے نہیں بلکہ اس جگہ ”حجرہ میں موجود کل صحابہؓ“ کے ہیں۔ لیکن چونکہ علماء کی عام روش یہ ہے کہ اہلِ بیتؓ چاہے جہاں بھی آئے اس سے حضورﷺ‎ کے داماد اور نواسے اور صاحبزادی ہی کو مراد لیتے ہیں، حتیٰ کہ قرآن کے لفظ اہلِ بیت سے بھی مراد اور مصداق انہیں ذوات اربع کو لیتے ہیں حالانکہ وہاں سو فیصدی ازواجِ رسول اُمہات المومنینؓ مراد ہیں اس لیے میں نے تشریح میں مجمل اہلِ بیت ہی کہا ہے۔ اس حدیث میں لفظ اہلِ بیت جس وسیع معنیٰ میں استعمال ہوا ہے اسے دیکھ کر تو سیدنا ابوبکرؓ، عمرؓ کو بھی بے تکلف اہلِ بیت رسولﷺ‎ کہا جا سکتا ہے کیونکہ وہ چودہ سو برس سے آج تک بیت رسولﷺ‎ میں مقیم ہیں۔(وفات سرور کائنات: صفحہ 30)


صفحہ 3 از 3