سوال 7: ان عمارا تقتله الفئة الباغية کیا اس حدیث سے سیدنا امیر معاویہؓ کا قاتل اور باغی ہونا (نعوذ باللہ) ثابت ہوتا ہے؟ کیوں کہ شخص مذکور کا دعویٰ ہے کہ سیدنا معاویہؓ کے لوگوں نے ہی حضرت عمارؓ کا قتل کیا تھا جس پر دلیل یہ حدیث ہے۔
جواب: الفئة الباغیۃ والا اعتراض بھی حاسدین، مخالفین اور معاندین کا ایک اہم اعتراض رہا ہے۔ مختلف کتابوں میں اس کے سنجیدہ علمی جوابات دیے جاتے رہے ہیں، لیکن معترضین نے کبھی ان کو انصاف کی نظر سے نہیں دیکھا۔
جس شخص کا مقصد ہی اعتراض کرنا ہو وہ کسی جواب سے مطمئن ہو بھی نہیں سکتا۔
بہر حال ان ہی جوابات میں سے ایک اطمینان بخش اور سنجیدہ جواب ہمارے رفیق مکرم جناب مولانا محمد معاویہ سعدی صاحب کا بھی ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
یہاں ایک مشہور حدیث کی وضاحت بھی ضروری ہے جو بخاری و مسلم وغیرہ میں آپﷺ سے متعدد سندوں سے مروی ہے کہ آپ نے سیدنا عمار بن ياسرؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں "الفئة الباغيۃ" قتل کرے گی، بعض طرق میں یہ اضافہ بھی ہے کہ یہ تو انہیں جنت کی طرف بلا رہے ہوں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف۔
اس حدیث میں واضح اور صاف لفظوں میں اس جماعت کو "باغی جماعت" کہا گیا ہے جس کے ہاتھوں سیدنا عمارؓ کی شہادت پیش آئے گی، اسی حدیث کی بنیاد پر جمہور اہلِ السنہ والجماعہ نے مشاجرات صحابہؓ میں سیدنا علیؓ کے موقف کو راجح قرار دیا ہے اور سیدنا امیر معاویہؓ کے اجتہاد کو خطا پر محمول کیا ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ حضرتؓ کے اس اجتہاد اور اس خطا کی بحث، آپ کے اندر اجتہادی شان تسلیم کرنے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف (3765) میں آپ کے تفقہ اور اجتہاد کے بارے میں، سیدنا ابن عباسؓ کا اعتراف بھی موجود ہے، ورنہ ہر کس و ناکس کے اس طرح کے اختلاف کو "اجتہاد" پر نہیں محمول کیا جاتا، بلکہ ایسوں کے اختلاف بلکہ انحراف کا مبنی: عموماً کم علمی، بدفہمی اور خودپسندی وغیرہ بیماریاں ہوتی ہیں۔
بہر حال! چوں کہ اہل حق کے یہاں دیگر احادیث کی بناء پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مجتہد خاطی معذور ہوتا ہے، بلکہ ایک اجر کے ذریعے ماجور (مستحق اجر) بھی ہوتا ہے، اس لیے جب وہ طلب حق کی سعی، حسنِ نیت اور جذبہ صالح کی بناء پر موردِ اجر و ثواب ٹھہر رہا ہے، تو اس پر سب وشتم اور تنقید وتبصرہ کے کیا معنیٰ؟ (مستفاداز: شرح النووی وفتح الباری)
"الباغیۃ" کی تشریح:جہاں تک بات لفظ "الباغیۃ" کی تشریح کی ہے تو اس کے سلسلے میں چند نکات قابل توجہ ہیں:
1: یہاں لفظ "باغیہ" طاعت امام سے عدول اور شقاق و نفاق کے معنیٰ میں نہیں ہے، بلکہ یہ وہ "بغاوت" ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم کی اس آیت میں ہے: وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ
ترجمہ: (اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے)
یہ آیت انصار کے ایک آپسی مناقشے کے پسِ منظر میں نازل ہوئی تھی، امام زمانہ سے بغاوت کے تناظر میں نہیں، معلوم ہوا کہ لفظ "بغاوت" کبھی آپسی تنازعات میں ناحق پر اصرار کرنے والی جماعت کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔
2: پھر سیدنا امیر معاویہؓ کے سامنے بھی مذکورہ بالا حدیث پیش کی گئی تھی اور غالباً حضرت کو اس کا علم پہلے سے تھا بھی، مگر آپ کے ذہن میں اس کا مصداق وہ جماعت تھی جس نے ایک متفقہ امیر المؤمنین (سیدنا عثمانؓ) کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کر کے، ان کو شہید کیا تھا اور پھر (یہود و روافض پر مشتمل) اہل فتنہ کا یہی سازشی گروہ، یکے بعد دیگرے جنگ جمل اور جنگ صفین کا سبب بنا تھا، تو سیدنا امیرؓ یہ سمجھ رہے تھے کہ اصل "باغی گروپ" تو وہ ہے جو ان حالات کا راست طور پر ذمہ دار ہے۔ اسی لیے جب آپ کے سامنے یہ حدیث پیش کی گئی تو آپ نے اپنے علم اور گمان ہی کی بنیاد پر یہ بات فرمائی تھی کہ عمار کو ہم نے کہاں قتل کیا ہے؟ ان کو تو ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو ان کو یہاں لے کر آئے ہیں۔ (مسند احمد: صفحہ 6499)
البتہ بعد میں جمہور علماء نے حضرتؓ کے اس اجتہاد کو دیگر دلائل کی روشنی میں مرجوح سمجھا اور سیدنا علیؓ کے موقف کو راجح قرار دیا، جیسا کہ اس کی تائید مسلم شریف کی حدیث (جلد 1 صفحہ 433): "اولى الطائفتين بالحق" (حق کے زیادہ قریب) کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے، کہ سیدنا علیؓ کی جماعت کو حق کے زیادہ قریب قرار دیا جا رہا ہے، مگر دوسری جماعت کو بھی باطل نہیں کہا جا رہا ہے۔
3: اور جہاں تک بات حدیث کے بعض طرق میں موجود اس زیادتی کی ہے: يدعوهم الى الجنة، ويدعونه الى النار(بخاری: صفحہ 447)
تو اس کے بارے میں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں:
الف: حضرت مولانا محمد نافع مدنیؒ کی تحقیق کے مطابق یہ زیادتی ایک دوسری حدیث سے یہاں خلط اور مدرج ہو گئی ہے، دراصل یہاں دو حدیثیں الگ الگ ہیں۔
مکہ مکرمہ میں کفار مکہ کے ظلم و ستم کے زمانے میں کسی موقع پر آپﷺ نے سیدنا عمارؓ پر رحم کھاتے ہوئے ان کی حمایت میں فرمایا تھا: "مالهم ولعمار؟! يدعوهم الى الجنة، ويدعونه الى النار، وذاك داب الاشقياء الفجار" (فضائل الصحابۃؓ لاحمد: صفحہ 1598)
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت، یا غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے، سیدنا عمار بن یاسرؓ دو دو اینٹیں ایک ساتھ ڈھو رہے تھے، اس وقت آپﷺ نے فرمایا تھا: "ويح عمار، تقتله الفئة الباغية" (مسلم: صفحہ 2915)
تو راوی حدیث حضرت عکرمہؒ سے ان دونوں حدیثوں میں خلط ہو گیا اور انہوں نے دونوں کو ایک ساتھ ملا کر بیان کر دیا، اس دعویٰ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ "تقتلک الفئة الباغية" والامضمون تیس کے قریب صحابہؓ سے مروی ہے، مگر کسی بھی صحابیؓ کی روایت میں یہ زیادتی نہیں پائی جاتی، بظاہر اسی لیے امام مسلمؒ نے بھی اس کی تخرج نہیں فرمائی۔
ب: اور اگر بعینہ یہ حدیث ثابت مان بھی لی جائے تو اس کے بارے میں شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
المراد بالدعاء الى الجنة: الدعاء الى سببها، وهو طاعة الامام، وكذلك كان عمار يدعوهم الى طاعة على، وهو الامام واجب الطاعة اذ ذاك، وكانوا هم يدعون الى خلاف ذلك، لكنهم معذورون للتاويل الذى ظهر لهم وكانوا ظانين انهم يدعون الى الجنة، وهم مجتهدون، فلا لوم عليهم فى اتباع ظنونهم(جلد 1 صفحہ 452)
(کہ یہاں "جنت کی طرف دعوت" دینے سے مراد: اس کے سبب، یعنی طاعت امام کی طرف بلانا ہے، جیسا کہ سیدنا عمارؓ ان کو سیدنا علیؓ کی طاعت کی طرف بلا رہے تھے، جو اس وقت اصل خلیفہ برحق اور امام واجب الطاعۃ تھے، جب کہ دوسری جانب کے حضرات اس کے خلاف کے داعی تھے، لیکن تاویل اور اجتہاد کی بناء پر وہ بھی معذور تھے کیوں کہ اپنے اجتہاد سے وہ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں، لہٰذا اس ظن واجتہاد کی وجہ سے ان پر کوئی طعن و تشنیع نہیں کی جائے گی۔
4: کسی بھی لفظ کا ترجمہ کرتے ہوئے اور مراد و مفہوم متعین کرتے ہوئے یہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ وہ کس کے بارے میں کہا گیا ہے؟ اور کس نے کہا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیائے کرامؑ کے بارے میں "عصى" اور "غوى" کے الفاظ کا اطلاق کیا ہے، کہیں "ضالا" کا لفظ آیا ہے، تمام مفسرین و مترجمین ایسے مواقع پر عصمتِ انبیاء کے لحاظ کے ساتھ ہی اس کی تفسیر و ترجمانی کرتے ہیں۔
اسی طرح اگر حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں بھی کوئی ایسا سخت لفظ وارد ہو تو اس کی ترجمانی ان کے شایانِ شان کی جائے گی، مثلاً سیدنا عمارؓ جس طائفے کے ہاتھوں شہید ہوئے اس میں بقول حافظ ابن حجرؒ صحابہؓ کی ایک جماعت شامل تھی۔
انہی میں فاتح مصر حضرت عمرو بن العاصؓ جیسے جلیل القدر صحابی بھی تھے، جو فتح مکہ سے پہلے اسلام لا چکے تھے، لہٰذا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى میں مذکور اول درجہ کے انعام کے مستحقین میں سے ہیں، پھر ترمذی (3844) وغیرہ میں ان کی منقبت میں بعض احادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔
ان ہی میں سیدنا امیر معاویہؓ جیسے صحابی بھی ہیں، جو کاتبینِ وحی میں سے ہیں جو اسلام کے اولین بحری بیڑے کے قافلہ سالار بن کر، خاص بشارتِ نبویﷺ کے مستحق ٹھہر چکے تھے، جنہوں نے آئندہ قیصر روم کے پایہ تخت شہر قسطنطنیہ پر حملے کے لیے پہلا اسلامی لشکر تشکیل دے کر ایک اور بشارتِ نبویﷺ کا استحقاق بھی حاصل کیا۔ تو اگر خدا نخواستہ از راہِ بشریت کچھ خطائیں تھیں بھی تو سب کی سب معاف ہو کر معاملہ صاف ہو گیا۔(حرمت صحابہؓ: صفحہ 29)