کیا حدیث سے سیدنا معاویہؓ کا قاتل اور باغی ہونا ثابت ہے -…

کیا حدیث سے سیدنا معاویہؓ کا قاتل اور باغی ہونا ثابت ہے

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 2

ب: اور اگر بعینہ یہ حدیث ثابت مان بھی لی جائے تو اس کے بارے میں شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

المراد بالدعاء الى الجنة: الدعاء الى سببها، وهو طاعة الامام، وكذلك كان عمار يدعوهم الى طاعة على، وهو الامام واجب الطاعة اذ ذاك، وكانوا هم يدعون الى خلاف ذلك، لكنهم معذورون للتاويل الذى ظهر لهم وكانوا ظانين انهم يدعون الى الجنة، وهم مجتهدون، فلا لوم عليهم فى اتباع ظنونهم(جلد 1 صفحہ 452)

(کہ یہاں "جنت کی طرف دعوت" دینے سے مراد: اس کے سبب، یعنی طاعت امام کی طرف بلانا ہے، جیسا کہ سیدنا عمارؓ ان کو سیدنا علیؓ کی طاعت کی طرف بلا رہے تھے، جو اس وقت اصل خلیفہ برحق اور امام واجب الطاعۃ تھے، جب کہ دوسری جانب کے حضرات اس کے خلاف کے داعی تھے، لیکن تاویل اور اجتہاد کی بناء پر وہ بھی معذور تھے کیوں کہ اپنے اجتہاد سے وہ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں، لہٰذا اس ظن واجتہاد کی وجہ سے ان پر کوئی طعن و تشنیع نہیں کی جائے گی۔

4: کسی بھی لفظ کا ترجمہ کرتے ہوئے اور مراد و مفہوم متعین کرتے ہوئے یہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ وہ کس کے بارے میں کہا گیا ہے؟ اور کس نے کہا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیائے کرامؑ کے بارے میں "عصى" اور "غوى" کے الفاظ کا اطلاق کیا ہے، کہیں "ضالا" کا لفظ آیا ہے، تمام مفسرین و مترجمین ایسے مواقع پر عصمتِ انبیاء کے لحاظ کے ساتھ ہی اس کی تفسیر و ترجمانی کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں بھی کوئی ایسا سخت لفظ وارد ہو تو اس کی ترجمانی ان کے شایانِ شان کی جائے گی، مثلاً سیدنا عمارؓ جس طائفے کے ہاتھوں شہید ہوئے اس میں بقول حافظ ابن حجرؒ صحابہؓ کی ایک جماعت شامل تھی۔

انہی میں فاتح مصر حضرت عمرو بن العاصؓ جیسے جلیل القدر صحابی بھی تھے، جو فتح مکہ سے پہلے اسلام لا چکے تھے، لہٰذا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ میں مذکور اول درجہ کے انعام کے مستحقین میں سے ہیں، پھر ترمذی (3844) وغیرہ میں ان کی منقبت میں بعض احادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔

ان ہی میں سیدنا امیر معاویہؓ جیسے صحابی بھی ہیں، جو کاتبینِ وحی میں سے ہیں جو اسلام کے اولین بحری بیڑے کے قافلہ سالار بن کر، خاص بشارتِ نبویﷺ کے مستحق ٹھہر چکے تھے، جنہوں نے آئندہ قیصر روم کے پایہ تخت شہر قسطنطنیہ پر حملے کے لیے پہلا اسلامی لشکر تشکیل دے کر ایک اور بشارتِ نبویﷺ‎ کا استحقاق بھی حاصل کیا۔ تو اگر خدا نخواستہ از راہِ بشریت کچھ خطائیں تھیں بھی تو سب کی سب معاف ہو کر معاملہ صاف ہو گیا۔(حرمت صحابہؓ: صفحہ 29)


صفحہ 2 از 2