کیا حدیث اصحابی کالنجوم محدثین کے نزدیک قابل اعتبار نہیں -…

کیا حدیث اصحابی کالنجوم محدثین کے نزدیک قابل اعتبار نہیں

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

سوال 8:  کیا حدیث "اصحابی كالنجوم" محدثین کے نزدیک قابل اعتبار نہیں جیسا کہ شخص مذکور کا کہنا ہے؟

جواب: یہ حدیث شریف "اصحابی كالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم" درج ذیل کتابوں میں مذکور ہے۔

(میزان الاعتدال: صفحہ 1511، 2299،

لسان المیزان لابن حجر: جلد 2 صفحہ 488، 594،

كشف الخفاء للعجلونی: جلد 1 صفحہ 174،

اتحاف السادة المتقين: جلد 2 صفحہ 223،

تلخيص الحبير: جلد 4 صفحہ 190،

الكاف الشاف فی تخريج احاديث الكشاف: صفحہ 94)

کچھ لوگ صحیح روایات سے صرف نظر کر کے کمزور اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے عام مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب میں کوئی صحیح روایت وارد نہیں اور وہ معیارِ حق لائق اقتداء نہیں ہیں۔

بعض ناواقف مسلمان ان کے دھوکے اور فریب میں آ کر صحابہ کرامؓ کے متعلق بدگمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور راہِ راست سے بھٹک جاتے ہیں، مگر علم اور دینی شعور رکھنے والے مسلمان ان ہفوات و خرافات کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے اس لیے کہ قرآنی آیات اور صحیح احادیث رسولﷺ‎ میں صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب اس قدر کثرت سے مذکور ہیں کہ ان کا انکار کسی باشعور مسلمان سے متصور نہیں ہو سکتا۔

حديث شریف کی تقریباً ہر کتاب میں کتاب المناقب کے عنوان سے صحابہ کرامؓ کے مجموعی وانفرادی مناقب و فضائل ہیں۔

یہ حدیث مختلف كتبِ حدیث میں کئی صحابہؓ سے متعدد طرق سے مروی ہے مثلاً سیدنا عمر بن الخطابؓ، سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ، سیدنا انس بن مالکؓ، سیدنا جابر بن عبد اللہؓ، سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ وغیرہ سے الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ نقل کی گئی ہے اگر کسی کو تفصیل مطلوب ہو تو ابن عدی کی "الكامل" بیہقی کی "المدخل" ابن عبد البر کی "جامع بيان العلم و فضلہ" خطیب بغدادی کی "الكفايہ فی علم الروايہ" اور "الفقيہ والمتفقہ" زیلعی کی "الكاف الشاف فی تخريج احاديث الكشاف" اور ابن حجر کی "المطالب العاليہ" اور "اتحاف الخيرة المہرة بزوايد المسانيد العشرة" وغیرہ كتبِ حدیث کی مراجعت کرنی چاہیے۔

اس حدیث شریف کو رزین نے بھی "تجرید الاصول" میں ذکر کیا ہے اور رزين ہی کے حوالہ سے ابن الاثیر نے "جامع الاصول" میں اور صاحب مشكوٰة نے باب مناقب الصحابہؓ میں نقل کیا ہے۔

حافظ ابنِ حجرؒ اور علامہ ابن الہمامؒ کے شاگرد مشہور محدث قاسم بن قطلوبغا حنفی (متوفى 879ھ) اس حدیث کے متعلق اپنی رائے کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ نفس مضمون کو دیگر احادیث کے مضامین سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔

وفی اسانيدها مقال لكن يشد بعضها بعضا

(اقامۃ الحجۃ لعبد الحی اللكنوی: صفحہ 51)

علامہ حسن بن محمد صاغانی (متوفی 650ھ) اور علامہ عبد الحی لکھنوی (متوفی 1304ھ) نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ کثرت طرق کی وجہ سے یہ حدیث درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہے۔

اس کے متن میں صحابہ کرامؓ سے متعلق دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔

1: ایک تو حضرات صحابہ کرامؓ کو ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے یہ بالکل صحیح مضمون ہے چنانچہ مسلم شریف کی ایک روایت میں بھی وارد ہوا ہے:

النجوم امنة للسماء واصحابی أمنة لامتی

2: دوسرا مضمون ہر ہر صحابیؓ کے ہادی ہونے اور لائق اقتداء ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔

چنانچہ یہ مضمون بھی درست ہے اور مراد و مفہوم یہ ہے کہ مجتہد فیہ مسائل میں اگر صحابہؓ کا باہم اختلاف ہو جائے تو اس وقت مختلف فریقوں میں سے جس کسی صحابیؓ کی بھی اقتداء کر لی جائے تو وہ ہدایت ہی کا راستہ ہے۔

اس تفصیل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی اصل ثابت ہے اور اس کو بے اثر کہنا روایت و درایت کے خلاف اور محدثین کے اصول اور اقوال کے منافی ہے۔