کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں - ردِ رافضیت | دفاع…

کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 3 از 5

سیدنا عمرؓ کے پاس موجود رہا۔ ابن حجرؒ کہتا ہے اور زیادہ صحیح پہلی ہی بات ہے اس لیے کہ کھال کے ٹکڑوں اور شاخِ خرما کے ڈنٹھلوں پر تو اس سے پہلے ہی قرآن لکھا ہوا تھا جب کہ وہ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں جمع کیا گیا تھا پھر ان کے عہد میں ہی قرآن کو اوراق میں جمع کیا گیا جس پر مترادف صحیح حدیثیں دلالت کر رہی ہیں۔

حاکم کا بیان ہے اور تیسری مرتبہ قرآن کا جمع کیا جانا یہ تھا کہ سیدنا عثمانؓ کے عہد میں سورتوں کی ترتیب ہوئی، بخاری نے سیدنا انسؓ سے روایت کی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن الیمانؓ سیدنا عثمانؓ کے پاس آئے اور آرمینیہ اور آذربائیجان کے فتوحات میں اہل شام عراق والوں کے ساتھ مل کر معرکہ آرائی میں شریک تھے سیدنا حذیفہؓ کو ان دونوں ممالک کے مسلمانوں کا قرأت میں اختلاف رکھنا سخت پریشان بنا چکا تھا اس لیے انہوں نے سیدنا عثمانؓ سے کہا تم امت کی اس بات سے پہلے ہی خبر لے لو جب کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح باہم اختلاف رکھنے والی بن جائے۔ سیدنا عثمانؓ نے یہ بات سن کر سیدہ حفصہؓ کے پاس کہلا بھیجا کہ جو صحیفے آپ کے پاس امانتاً رکھے ہیں انہیں بھیج دیجیے تا کہ میں ان کو مصحفوں میں نقل کرانے کے بعد پھر آپ کے پاس واپس ارسال کر دوں۔ سیدہ حفصہؓ نے وہ صحائف سیدنا عثمانؓ کو بھجوا دیے اور سیدنا عثمانؓ نے سیدنا زید بن ثابتؓ، سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ، سیدنا سعید بن العاصؓ اور عبد الرحمٰن بن الحارث بن هشام کو ان کے نقل کرنے پر مامور کیا اور تینوں قرشی صاحبوں سے کہا کہ جہاں کہیں قرآن کے تلفظ میں تمہارے اور سیدنا زید بن ثابتؓ کے مابین اختلاف آ پڑے وہاں اس لفظ کو خاص قریش ہی کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ ان چاروں صاحبوں نے مل کر سیدنا عثمانؓ کے حکم کی تعمیل کر دی اور جب وہ ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کر کے لکھ چکے تو سیدنا عثمانؓ نے وہ صحائف بدستور سیدہ حفصہؓ کے پاس واپس بھیج دیے اور اپنے لکھوائے ہوئے مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ممالکِ اسلامیہ کے ہر ایک گوشہ میں ارسال کر دیا اور حکم دیا کہ اس مصحف کے سوا اور جس قدر صحیفے یا مصحف پہلے کے موجود ہوں ان کو سوخت کر دیا جائے، سیدنا زیدؓ کہتے ہیں جس وقت ہم نے مصحف کو لکھا تو سورۃ الاحزاب کی ایک آیت ہمیں نہیں ملی جس کو میں رسول اللہﷺ کو پڑھتے سنا کرتا تھا، پھر ہم نے اس آیت کو خزیمہ بن ثابت الانصاریؓ کے پاس پایا

مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌

چنانچہ ہم نے اس آیت کو اس کی سورۃ کے اندر اپنے مصحف میں شامل کر دیا۔ ابن حجرؒ کا قول ہے یہ کارروائی 25ھ میں ہوئی تھی اور بعض ایسے لوگ جن کو ہم نے پایا ہے انہوں نے بھول کر یہ بات کہی کہ اس بات کا وقوع 03ھ کے حدود میں ہوا تھا مگر انہوں نے اپنے اس قول کا کوئی اسناد بیان نہیں کیا، ابن اشتہ نے ایوب کے طریق پر ابی قلابہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا مجھ سے انس بن مالک نامی بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ سیدنا عثمانؓ کے عہد میں قرآن کے اندر اس قدر اختلاف پڑ گیا جس کی وجہ سے پڑھنے والے بچوں اور معلم لوگوں کے مابین تلوار چل گئی سیدنا عثمانؓ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا، لوگ میرے سامنے ہی قرآن کو جھٹلانے اور اس میں غلطی کرنے لگیں گے تو غالباً جو مجھ سے دور ہوں گے وہ ان کی نسبت سے کہیں بڑھ کر جھٹلاتے اور غلطیاں کرتے ہوں گے، اے اصحابِ محمدﷺ تم مجتمع ہو جاؤ اور لوگوں کے لیے ایک امام (قرآن) لکھو، چنانچہ تمام صحابہؓ نے متفق ہو کر قرآن لکھنا شروع کیا، جس وقت کسی آیت کے بارے میں ان کے باہم اختلاف اور جھگڑا ہو پڑتا تو وہ کہتے یہ آیت رسول اللہﷺ نے فلاں شخص کو پڑھائی تھی، پھر اس کو بلوایا جاتا حالانکہ وہ شخص مدینہ سے تین دن کی مسافت پر ہوتا تھا اور جب وہ آ جاتا تو اس سے دریافت کرتے کہ فلاں آیت کی قرأت رسول اللہﷺ نے تمہیں کس طرح پر سنائی تھی وہ شخص کہتا ”یوں“ اس وقت اس آیت کو لکھ لیتے اور پہلے سے اس کی جگہ خالی رہنے دیتے تھے۔

اور ابن ابی داؤدؒ نے محمد بن سیرینؒ کے طریق پر کثیر بن افلح سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا جس وقت سیدنا عثمانؓ نے مصحفوں کے لکھوانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس غرض سے بارہ مشہور آدمی قریش اور انصار دونوں قبائل کے جمع کیے پھر قرآن کے صحیفوں کا وہ صندوق منگوایا جو سیدنا عمرؓ کے گھر میں تھا، صندوقِ مذکور آ گیا تو سیدنا عثمانؓ نے ان لکھنے والوں کی نگرانی اپنے ذمہ لی اور نقل کرنے والوں کا انداز یہ تھا کہ جب وہ کسی بات میں باہم جھگڑ پڑتے تو اسے پیچھے ڈال دیتے (یعنی اس وقت لکھتے ہی نہ تھے) محمد بن سیرینؒ کا قول ہے ”وہ لوگ اس کی کتابت میں اس لیے تاخیر کر دیتے تھے کہ کسی ایسے شخص کا انتظار دیکھیں جو ان میں سب کی نسبت کلام اللہ کے آخری دور سے قریب تر زمانہ رکھتا ہے اور پھر اس کے بیان کے مطابق جو کچھ لکھنا رہ گیا ہے اسے لکھیں۔ ابن ابی داؤدؒ ہی صحیح سند کے ساتھ سوید بن غفلہ سے روایت کرتا ہے کہ اس نے کہا سیدنا علیؓ نے فرمایا سیدنا عثمانؓ کے بارے میں بجز کلمہ خیر کے اور کچھ مت کہو کیوں کہ واللہ انہوں نے مصاحف میں جو کچھ بھی تغیر کیا ہے وہ ہماری ایک جماعتِ کثیر کی عام رائے سے کیا ہے، انہوں نے ہم سے کہا تم لوگ قرآن کی قرأت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مجھے خبر ملی ہے کہ بعض اشخاص دوسروں سے کہتے ہیں۔ میری قرأت تمہاری قرأت سے بہتر ہے اور یہ بات قریب قریب کفر کے ہے۔

ہم لوگوں نے کہا پھر تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عثمانؓ نے جواب دیا مجھ کو تو یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی مصحف پر جمع کر دیا جائے تا کہ پھر افتراق اور اختلاف پیدا نہ ہو سکے اور ہم لوگوں نے کہا، تمہاری رائے بہت اچھی ہے۔

صفحہ 3 از 5