کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں - ردِ رافضیت | دفاع…

کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 4 از 5

ابن التین اور چند دیگر علماء کا قول ہے ”سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی قرآن کو جمع کرنے میں یہ فرق ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کا جمع کرانا اس خوف سے تھا کہ مبادا حاملانِ قرآن کی موت کے ساتھ قرآن کا بھی کوئی حصہ جاتا رہے کیوں کہ اس وقت تمام قرآن ایک ہی جگہ اکٹھا نہیں تھا چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے قرآن کو صحیفوں میں اس ترتیب سے جمع کیا کہ ہر ایک سورۃ کی آیتیں حسبِ بیان رسول اللہﷺ کے یکے بعد دیگرے درج کر دیں اور سیدنا عثمانؓ کے قرآن کو جمع کرنے کی یہ شکل ہوئی کہ جس وقت وجودِ قرأت میں بکثرت اختلاف پھیل گیا اور یہاں تک نوبت آ گئی کہ لوگوں نے قرآن کو اپنی اپنی زبانوں میں پڑھنا شروع کیا اور یہ ظاہر ہے کہ عرب کی زبانیں بہت وسیع ہیں، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں سے ہر ایک زبان کے لوگ دوسری زبان والوں کو برسرِ راہ غلط بتانے لگے اور اس بارے میں سخت مشکلات پیش آنے اور بات بڑھ جانے کا خوف پیدا ہو گیا، اس لیے سیدنا عثمانؓ نے قرآن کے صحف کو ایک ہی مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا اور تمام عرب کی زبانوں کو چھوڑ کر محض قبیلہ قریش کی زبان پر اکتفا کر لی، اس بات کے لیے سیدنا عثمانؓ دلیل یہ لائے کہ قرآن کا نزول دراصل قریش ہی کی زبان میں ہوا ہے، اگرچہ ابتداء میں وقت اور مشقت دور کرنے کے لیے اس کی قرأت غیر زبانوں میں بھی کر لینے کی گنجائش دے دی گئی تھی لیکن اب سیدنا عثمانؓ کی رائے میں وہ ضرورت مٹ چکی تھی لہٰذا انہوں نے قرآن کی قرأت کا انحصار محض ایک ہی زبان میں کر دیا۔

قاضی ابوبکر اپنی کتاب الانتصار میں کہتے ہیں ”سیدنا عثمانؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی طرح قرآن کو ”مابین اللوحین“ ہی جمع کر دینے کا قصد نہیں کیا بلکہ انہوں نے تمام مسلمانوں کو ان معروف اور ثابت قرأتوں پر جمع کر دینے کا ارادہ کیا جو نبیﷺ سے منقول چلی آ رہی تھیں اور جس قدر قرأتیں ان کے سوا پیدا ہو گئی تھیں ان کو مٹا دینا چاہا، نیز انہوں نے مسلمانوں کو ایک ایسا مصحف دیا جس میں کوئی تقديم، تاخیر اور تاویل نہیں وہ تنزیل کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے۔ اس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی ہے وہ مصحف اپنے رسم کی مثبت دلیل کے ساتھ لکھا گیا ہے اور اس کی قرأت اور حفظ کے مقروض کا لحاظ کیا گیا ہے تا کہ بعد میں آنے والی نسلیں فساد اور شبہ میں نہ پڑ سکیں اور یہ خوف بالکل مٹ جائے“

اور حارث المحاسبی کا قول ہے۔ ”لوگوں میں یہ بات مشہور ہو رہی ہے کہ قرآن کو سیدنا عثمانؓ نے جمع کیا مگر دراصل یہ بات ٹھیک نہیں سیدنا عثمانؓ نے تو صرف یہ کیا کہ اپنے اور اپنے پاس موجود ہونے والے مہاجرین و انصار کے باہمی اتفاق رائے سے عام لوگوں کو ایک ہی وجہ سے قرأت کرنے پر آمادہ بنایا، کیونکہ ان کو اہل عراق اور اہل شام کے قرأتوں کے حروف میں باہم اختلاف رکھنے کے باعث فتنہ کا خوف پیدا ہو گیا تھا، ورنہ سیدنا عثمانؓ کے اس عمل سے پہلے جس قدر مصاحف تھے وہ تمام ایسی قرأت کی صورتوں سے مطابق تھے جن پر حروف سبعہ کا اطلاق ہوتا تھا اور ان پر قرآن کا نزول ہوا تھا اور یہ بات کہ قرآن جملہ سب سے پہلے کس نے جمع کیا؟ وہ سیدنا ابو بکر الصدیقؓ تھے اور سیدنا علیؓ کا قول ہے کہ اگر میں حکمران ہوتا تو مصاحف کے ساتھ وہی عمل کرتا جو سيدنا عثمانؓ نے کیا ہے۔

سیدنا عثمانؓ نے دنیائے اسلام کے ہر گوشہ میں جتنے مصاحف ارسال کیے تھے ان کی تعداد میں اختلاف کیا گیا ہے مشہور قول تو یہ ہے کہ وہ سب پانچ مصحف تھے اور ابن ابی داؤدؓ نے حمزه الزیات کے طریق سے یہ روایت کی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے دیگر ممالک اسلام میں چار مصحف بھیجے تھے، ابن ابی داؤدؒ کا بیان ہے میں نے ابی حاتم سجستانی سے سنا وہ کہتا تھا کہ جملہ سات مصاحف لکھے گئے تھے جن میں سے ایک ایک مصحف مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ اور کوفہ کو ارسال کیا گیا اور باقی ماندہ ایک مصحف مدینہ میں محفوظ رکھا گیا۔(الاتقان فی علوم القرآن: صفحہ 162)

قرآن کریم کی موجودہ ترتیب پر اس سے پہلے بعض مستشرقین نے بھی اعتراض کیا ہے اور یہ ان کا ایک قدیم اعتراض ہے، بہت سے حضرات علماء کرام نے اس کے جوابات تحریر فرمائے ہیں۔

شيخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں کہ موجودہ ترتیب کو معترضین کے وحی کےخلاف سمجھنے کی وجہ اسے ابتدائی زمانہ میں کتابی شکل میں لکھنے کے بجائے متفرق چیزوں پر لکھا جانا ہے، چنانچہ راڈویل نے اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ موجودہ ترتیب کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ثابتؓ نے جب متفرق تحریریں جمع کیں تو وہ انہیں جس ترتیب سے ملتی گئیں اسی ترتیب سے وہ لکھتے چلے گئے، لہٰذا اس میں کسی تاریخی یا معنوی ترتیب کا لحاظ نہیں رہ سکا۔

حالانکہ یہ تصور محض خیالی ناواقفیت پر مبنی اور واضح دلائل کے بالکل خلاف ہے اس لیے کہ آیات قرآنی کی ترتیب باتفاق وحی سے ثابت ہے، سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ ﷺ کاتبین وحی کو ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد لکھی جائے گی اور حضرات صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کو اسی ترتیب سے یاد کیا تھا، جو حضور ﷺ نے بتائی تھی۔

یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ سیدنا زیدؓ کو جس ترتیب سے آیتیں ملتی گئیں اسی ترتیب سے وہ لکھتے گئے، کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو موجودہ قرآن میں سب سے آخری آیت مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا الخ" ہونی چاہیے تھی، کیوں کہ سیدنا زیدؓ کو یہ آیت سب سے آخر میں ملی حالاں کہ یہ آیت سورۃ الاحزاب میں درج ہے، اس سے صاف طور پر واضح ہے کہ سیدنا زیدؓ اور ان کے رفقاء کے سامنے جب کوئی آیت لائی جاتی تھی تو وہ اس کو اس مقام پر لکھتے تھے جس مقام پر حضور ﷺ نے بتلایا تھا۔ البتہ سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اہل علم کی دو رائیں ہیں، بعض حضرات کہتے ہیں کہ جو بھی بذریعہ وحی بتائی گئی ہے اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ اسے حضرات صحابہ کرامؓ نے اپنے اجتہاد سے متعین کیا ہے۔

صفحہ 4 از 5