مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض…

مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 3 از 8

اہل تشیع مناظر ڈاکٹر سید حسن عسکری صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کسی صحابی، صحابیہ یا امہات المؤمنین کے قول سے ثابت کریں گے۔
جبکہ دلیل میں جو حدیث پیش کی اس میں ناراضگی سیدہ فاطمہؓ کا ذکر کسی صحابی، صحابیہ یا امہات المؤمنین سے مذکور ہی نہ تھا۔
نتیجہ: مناظرہ میں مدعی نے جو دعویٰ کیا اسے ثابت نہ کیا جاسکا۔
 اہل سنت مناظر نے بہترین علمی انداز سے گفتگو کی اور شیعہ مناظر کی طرف سے پیش کی گئی حدیث کی مکمل وضاحت کئی اور صحیح روایات سے پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ ناراضگی سیدہ فاطمہؓ کا ذکر امام زہری نے حدیث میں بطور تفسیر شامل کیا ہے۔
 دوران مناظرہ کئی بار شیعہ مناظر نے جاہلانہ انداز اختیار کیا اور غیر سنجیدہ رویہ اپنایا۔ پہلے دن کی سب سے بڑی جہالت یہ تھی کہ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قال سے مراد حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں!! یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ خود فرما رہے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر سے ناراض ہوگئیں، ترک کلام کیا اور وفات کی اطلاع بھی حضرت ابوبکر کو نہ دی گئی!!! ایسی عجیب منطق کو ایک عام فہم بھی تسلیم نہیں کرسکتا!!!
گفتگو کے دوسرے دن سنی مناظر کے علمی جوابات اور دلائل دیکھ کر شیعہ مناظر بےبس ہوگئے اور مجبوراً ٹیکسٹ پر ایک ہی رٹ لگا کر وقت ضائع کرتے رہے کہ ادراج ثابت کرو، ادراج ثابت کرو۔
 اہل سنت کا اصول یہ ہے کہ ثقہ کا ادراج اس وقت قبول کیا جاتا ہے جب دوسری کسی صحیح روایت کے خلاف نہ ہو۔
مدعی (شیعہ) کی طرف سے پیش کی گئی حدیث میں امام زہری کا ادراج غلط ہونے کے دلائل:
1: سنی مناظر کی طرف سے ثابت کیا گیا کہ اسی واقعہ کے متعلق دوسری کئی صحیح احادیث میں لفظ “قال” سے ناراضگی کے الفاظ شروع ہوتے ہیں۔ مطلب اس حدیث کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ ناراضگی کے الفاظ کسی مرد راوی نے ہی بیان کئے ہیں۔
2: ادراج کرتے وقت تین اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔
1- سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہوئیں۔
2- ترک کلام کرلیا۔
3- سیدہ فاطمہؓ کی وفات کی اطلاع حضرت ابوبکر کو نہ دی گئی اور خاموشی سے تدفین کردی گئی۔
 سنی مناظر کی طرف سے ناراضگی، ترک تعلق اور وفات کی اطلاع نہ دینا ان تینوں کا رد شیعہ معتبر کتب کی صحیح روایت سے کر دیا گیا، کسی ایک بات کا رد شیعہ مناظر نہ کر سکے، جس سے ثابت ہوا کہ حدیث میں امام زہری نے ادراج کرتے ہوئے جو تین باتیں ذکر کی ہیں وہ تمام باتیں حقیقت کے منافی ہیں۔

اہل سنت معتبر کتب اور اہل تشیع معتبر کتب سے بھی یہ ثابت ہے۔

الحمدللہ سنی مناظر کا پلڑہ شروع سے آخر تک بھاری رہا اور وہ اپنی وائسز میں شیعہ مناظر کو بار بار سمجھاتے رہے کہ اس حدیث میں ناراضگی دراصل امام زہری کا ادراج ہے اور وہ غلط ہے۔

 ایک موقعہ پر شیعہ مناظر کی روش سے مجبور ہو کر سنی مناظر نے بھی جارحانہ انداز اختیار کیا جو کہ انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔
جب شیعہ مناظر کی روش میں نہ مانوں جاری رہی تو تنگ آ کر سنی مناظر نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کے نزدیک ادراج کیسے ثابت ہوتا ہے؟ تو اس بات کا جواب بھی شیعہ مناظر سے نہ بن پڑا۔
 آخر میں اہل سنت مناظر محترم علی معاویہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بیشک حق ہمیشہ غالب رہتا ہے اور باطل کو مغلوب ہونا ہی پڑتا ہے۔ (ممتاز قریشی)۔

تبصرہ مناظرہ فدک
شیعہ مناظر نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں سیدہ فاطمہؓ سے ناراض ہونے پر کوئی دلیل پیش نہیں کی۔
اپنے دعویٰ پر بخاری سے انہوں نے دلیل پیش کی اور ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ ناراضگی والے الفاظ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔
اھل السنت مناظر نے اس کا رد دو طرح سے کیا:
1: کہ یہ قول قال سے شروع ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول کسی مرد کا ہے نہ کہ عورت کا۔
2: اس روایت میں موجود امام زہریؒ کی عادت تھی کہ وہ روایات میں اپنے الفاظ بطورِ تفسیر کے اضافہ کرتے تھے اور حدیث کے الفاظ اور اپنی تفسیر میں فرق نہیں کرتے تھے۔
اس کا کوئی جواب شیعہ مناظر نے نہیں دیا۔
پھر شیعہ مناظر نے قال کی جگہ پر قالت کے الفاظ مسند ابی بکر سے دکھائے کہ یہ سیدہ عائشہؓ کا قول ہے۔
جواب میں اھل السنت مناظر نے میزان الاعتدال سے دکھایا کہ
 عبد الرزاق معمر سے روایت بیان کرنے میں خطاء کرتے ہیں
اور خطاء کے ثبوت میں سنن کبری للبیھقی سے اسی عبدالرزاق کی معمر سے روایت دکھائی جس میں قال تھا نہ کہ قالت.
 بخاری کی روایت میں جہاں قال کے لفظ ہیں وہاں عبد الرزاق نہیں۔
تو یہ دو دلائل تھے شیعہ کی پیش کردہ قالت والی روایت کے۔
پھر شیعہ مناظر نے ایک کم عقلی والی بات کی کہ "قال کے الفاظ سیدہ عائشہؓ کے ہیں اور وہ کسی مرد سے روایت بیان کررہی ہیں"
جس پر اھل السنت مناظر نے شیعہ مناظر سے سوال کیا کہ اگر سیدہ عائشہؓ نے کسی مرد کے الفاظ نقل کیے ہیں تو بتائیں یہ مرد کون ہے؟ 
عروہ تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ وہ تو خود سیدہ عائشہؓ سے روایت لے رہا ہے۔
اگر تم اس کو حضرت ابوبکرؓ کے الفاظ کہو تو یہ بھی بات نہیں بنتی، کیونکہ حضرت ابوبکرؓ خود اپنے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ فاطمہ ابوبکر سے ناراض ہوگئی، فاطمہ نے چھ مہینے ابو بکر سے بات نہیں کی، فاطمہ کا جنازہ علی نے اکیلے ہی پڑھایا اور ابوبکر کو نہیں بتایا۔
تو شیعہ کی یہ بات بھی ناکام رہی۔
ساتھ میں اھل السنت مناظر نے یہ بھی کہا کہ اگر بالفرض اس کو سیدہ عائشہؓ کا قول مان بھی لیں تو بھی اس قول کی ہر ہر بات کا رد شیعہ اور سنی دونوں کتب کی واضح روایات کی روشنی میں کر چکا ہوں، لیکن ان میں سے کسی حوالے کا جواب شیعہ مناظر نہ دے سکا۔
اھل السنت مناظر نے یہ بھی کہا کہ بالفرض یہ سیدہ عائشہؓ کے رائے ہو بھی تو ان کی یہ رائے حقیقت کے خلاف ہے۔
پھر مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام کے خیال کے خلاف واقع ہونے کے دو واقعات اور سیدہ فاطمہؓ کا سیدنا علیؓ کے بارے میں اپنی کنیز سے ہم بستری والا خلاف واقع بات یہ شکایت جا کر نبی کریمﷺ سے کرنا بھی بتایا۔
لیکن شیعہ مناظر نے کسی کو بھی ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں کی۔
مطلب یہ کہ شیعہ اپنے دعویٰ ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا۔ عابد خان فاروقی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

صفحہ 3 از 8