مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض…

مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 4 از 8

 اس مناظرے میں اہل سنت مناظر معاویہ صاحب آخر تک یہ ثابت نہ کرسکے کہ بخاری کی روایت میں کہاں تک ادراج ہے۔
 معاویہ صاحب نے کہا کہ روایت میں قال کا لفظ جناب بخاری نے کہا ہے جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ کیونکہ جناب بخاری کی تاریخ ولادت 194 ھجری جبکہ زھری کی وفات 124 ھجری میں ہے۔ یعنی بخاری اپنی ولادت سے 70 سال پہلے وفات ہونے والے زہری کا قول ڈائریکٹ قال سے نقل کر رہا ہے۔
دوسری بات یہ کہ اس روایت میں بخاری اور زھری کے درمیان تین راوی ہیں یحیی بن بکیر، لیث اور عقیل۔ 

اب کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں بخاری باقی روایت میں زھری سے تین واسطوں کے ساتھ نقل کرے اور ادراج ڈائریکٹ زہری سے نقل کرے۔
 مناظرے میں ادراج کو زیر بحث قرار دیا گیا تھا کیونکہ سارا مناظرہ اسی پر موقوف تھا۔ جب اہل سنت عالم نے ادراج کا کہا تو ان کو چاہیے تھا کہ پھر ادراج ثابت کرتا۔ مگر افسوس وہ تو ادراج کا نام تک نہ لے سکے۔ فقط کہا کہ یہ زھری کا ادراج ہے۔ اب یعنی زھری نے اس روایت میں کذب سے کام لیا ہے۔ یعنی تین جھوٹ بیان کئے ہیں۔ کیا اس طرح کے جھوٹ کا روایت میں بیان کرنا ادراج ہے یا کچھ اور؟؟؟
 اہل سنت مناظر آخر تک یہ کہتا رہا کہ ادراج ثابت کر چکا ہوں۔ حالانکہ ہر صاحب علم کو پتہ ہے کہ اہل سنت مناظر نے کہیں بھی ادراج کو ثابت نہیں کیا بلکہ ادھر ادھر کے سکین لگا کر موضوع سے باہر جانے کی کوشش کرتا رہا۔
 یہاں شیعہ مناظر کی تحسین کرتے ہیں کہ انہوں نے آخر تک معاویہ کو ادراج سے باہر جانے نہیں دیا۔
اہل سنت مناظر اس کوشش میں تھا کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے مناظرے کو وراثت پر لے کر جائے۔
حالانکہ مناظرہ وراثت پر نہیں بلکہ سیدہ فاطمہؓ کے غضبناک ہونے پر تھا۔
 اہل سنت مناظر نے اس مناظرے کے دوران انتہائی گستاخانہ اور غیراخلاقی باتوں کا سہارا لیا۔ مثلا فلاں تو میرا نام سن کر اس کا پیشاب نکل جاتا ہے۔
اسی جملے سے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ اہل سنت مناظر کتنا بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے۔
سید ابوعماد حیدری

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مورخہ 22 اور 23 مارچ سنہ عیسوی 2020 کی راتوں میں
اھل سنت اور اھل تشیع کے درمیان فدک کے موضوع پر

سوشل میڈیا پر واٹس ایپ گروپ جو کہ شیعہ مکتب فکر کے ڈاکٹر حسن عسکری نے مکتب اھل بیت کے عنوان سے تشکیل دیا ہوا ہے۔

میں نے واٹس ایپ گروپ میں ہوئے اس مباحثے کو مکمل توجہ سے دیکھا اور سنا۔

اور اب میں اس تمام گفتگو کا جائزہ اور اس پر اپنا تبصرہ پیش کرتا ہوں۔
اھل سنت کی طرف سے مناظر جناب مولانا علی معاویہ صاحب
اور اھل تشیع مناظر ڈاکٹر حسن عسکری ایران سے واٹس ایپ نمبر پر تھے۔ 
دعویٰ شیعہ مناظر ڈاکٹر حسن عسکری نے کیا جو کہ ان کی اپنی تحریر میں کاپی پیسٹ کیا جارہا ہے۔
شیعہ مناظر ڈاکٹر حسن عسکری کا دعویٰ 
اہل تشیع کا دعویٰ:-
میرا دعویٰ ہے کہ حضرت ابوبکر نے فدک جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو نہ دے کر جناب سیدہ اور حتمی طور پر جناب رسالت مآبﷺ کو غصبناک کیا۔
(معاویہ صاحب کوئی بات دعویٰ میں سمجھ نہیں آئی تو پوچھ سکتے ہیں ورنہ جواب دعویٰ لکھیے۔)
اھل سنت مناظر مولانا علی معاویہ کا جواب دعویٰ:
کاپی پیسٹ 
اھل السنت کا دعویٰ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو فدک نہ دے کر شریعت کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
اور سیدہ فاطمہؓ کا ناراض ہونا خود سیدہ فاطمہؓ سے ثابت نہیں
شیعہ مناظر نے بحث کا زیادہ حصہ تحریری اور کچھ حصہ تقریری گفتگو کی۔
اور اکثر اپنا مقررہ وقت دلائل و گفتگو سے خالی ہی رکھا۔ ایک ہی قسم کی تکرار اور چند سطور کی تحریر تک اپنی باری کو رکھا۔
جب کہ سنی مناظر نے ہر باری میں شیعہ مناظر کے دعوے کے رد پر دلائل قرآن مجید کی آیات سے استدلال کر کے اور شیعہ اور سنی کتب سے باحوالہ پیش کئے۔
شیعہ مناظر نے اپنے دعوے کی بنیاد اہل سنت کی حدیث کی کتاب صحیح بخاری شریف کی ایک روایت پر رکھی تھی۔
جو امام بخاری رحمۃاللہ نے زھری عن عروہ عن عائشہ ام المؤمنینؓ کے طریق سے روایت کی ہے۔
جزو نمبر 1: شیعہ مناظر کا کہنا تھا کہ اس روایت میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے یہ فرمایا ھے کہ 
اس کے جواب میں اھل سنت مناظر نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے فرمان رسول اللہﷺ سنانے کے بعد والے الفاظ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے نہیں ہیں بلکہ حدیث کے راوی امام زہری رحمۃاللہ کے ہیں۔

سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے فدک کا مطالبہ کیا

اور جب انہیں بتایا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا! کہ
ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو مال و اسباب چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
یہ فرمان نبویﷺ سن کر
جزو نمبر 2: سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر غصہ ہوئیں۔
اھل سنت مناظر نے دلائل سے اس جزو کا رد کیا جس پر شیعہ مناظر کوئی اعتراض نہ کرسکا۔
جزو نمبر 3: حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ترک تعلق کیا۔
اھل سنت مناظر نے شیعہ سنی کتب سے دلائل دے کر اس کا رد کیا جس پر شیعہ مناظر نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
جزو نمبر 4: انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اپنی وفات تک بات چیت نہ کی (یعنی وفات تک ناراض رہیں)
اس پر بھی اہل سنت مناظر نے دلائل دیے جن پر شیعہ مناظر کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا۔
جزو نمبر 5: حضرت علیؓ نے ان کی وفات کی اطلاع بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نہیں دی۔
سنی مناظر نے اس جزو کو بھی ایسے دلائل سے رد کیا جن پر شیعہ مناظر کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔
جزو نمبر 6: حضرت علیؓ نے راتوں رات جنازہ پڑھا کر دفن کردیا۔
یہ بات بھی سنی مناظر نے ایسے دلائل سے رد کی جن کا جواب شیعہ مناظر سے نہ بن سکا۔
جزو نمبر 7: جب تک سیدہ فاطمہؓ زندہ تھیں لوگ حضرت علیؓ پر توجہ دیتے تھے۔
ان کی وفات کے بعد لوگوں نے حضرت علیؓ سے منہ پھیر لیا
سنی مناظر نے اس پر بھی ایسے دلائل دیے کہ شیعہ مناظر کے پاس جواب نہیں تھا اور مضبوط سوالات قائم کئے مثلاً ایک طرف شیعہ یہ کہتے ہیں کہ سیدہ کا گھر جلایا اور تشدد کیا بچہ ضائع کروا دیا ذلیل کیا حق نہ دیا وغیرہ۔۔

صفحہ 4 از 8