مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض…

مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 5 از 8

جن سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ کے نزدیک خود سیدہ کی عزت نہیں ہوتی تھی تو حضرت علیؓ کی ان کی وجہ سے کیا عزت کرتے۔
جزو نمبر 8 حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی سیدہ فاطمہؓ کی زندگی میں بیعت نہیں کی تھی بلکہ ان کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ بنے چھ ماہ ہو چکے تھے لوگوں میں اپنی وقعت کم ہونے کی وجہ سے صلح اور بیعت کی۔
اس جزو کو بھی اھل سنت مناظر نے دلائل دے کر رد کرتے ہوئے ثابت کیا کہ جس دن حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی اسی دن حضرت علیؓ نے بیعت کی تھی جس کا شیعہ مناظر نے کوئی رد نہیں کیا۔

روایت کے ساتھ شیعہ مناظر نے ایک اور روایت پیش کی اور اس سے استدلال کیا
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں انہیں جس نے غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا۔
اہل سنت مناظر نے دلائل دے کر سیدہ کا حضرت علیؓ پر غصہ ہونا اور دوسری دلیل میں غصے میں نبی کریمﷺ سے حضرت علیؓ کی سخت شکایت کرنا ثابت کر کے سوال کیا کہ تم اب حضرت علیؓ سے نبی کریمﷺ کا ناراض ہونا مانتے ہو تو بتاؤ۔
اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ
شیعہ مناظر کے مطابق کیوں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے یہ بتایا ہے:
کہ سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر غصہ ہوئی تھیں
اور نبی کریمﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ انہیں جس نے غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا تو شیعہ مناظر کے نزدیک نبی کریمﷺ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ثابت ہوئے۔
اھل سنت مناظر نے کہا کہ اس روایت کے مرکزی راوی امام زہریؒ ہیں۔
اور اھل سنت کی کتب رجال میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے اپنی رائے بھی حدیث کے ساتھ بیان کرنے کے عادی تھے۔ اور مرفوع حدیث جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبی کریمﷺ سے سیدہ فاطمہؓ کے سامنے پیش کی ہے۔
وہاں تک سیدہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے الفاظ میں بیان ہوئے ہیں۔
اور اس کے بعد لفظ قال ہے 
قال کے بعد والی باتیں امام زھریؒ کے قول کی مد میں ہیں
اھل سنت مناظر نے اس کی دلیل میں اہل سنت کی کتب سے دلائل دیے جہاں مرفوع حدیث کے بعد لفظ قال لکھا ہوا پایا گیا۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ سیدہ کے مطالبے پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبی کریمﷺ کی مرفوع حدیث پیش کی ہے۔
اور اس کے بعد لفظ قال لکھا ہوا ہے۔
تو یہ قال کس کیلئے استعمال ہوا ہے۔؟
قال واحد مذکر کیلئے مستعمل ہوتا ہے یعنی جب کوئی کسی مرد کے کہنے کا ذکر کرے تو عربی میں لفظ قال آتا ہے۔
اور جب کسی خاتون کے کہنے کا ذکر ہو تو عربی میں قال نہیں بلکہ قالت استعمال ہوتا ہے۔
اہل سنت مناظر مولانا علی معاویہ نے شیعہ مناظر کو یہی بات بتائی کہ قال مرد کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
غور کریں: اس گفتگو میں اس جگہ تین لوگ ہی واضح ہو رہے ہیں۔
ان تین میں مرد صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں۔
اور یہ واحد مذکر (قال) لفظ ان کیلئے تو ہونا ممکن نہیں ہے
ان کے علاوہ دو خواتین ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ فاطمہؓ
ان دونوں کیلئے (واحد مذکر) لفظ قال استعمال کرنا عربی قواعد کے خلاف ہے۔
لہٰذا اس گفتگو کے موقع پر موجود تینوں شخصیات پر یہ لفظ (قال) فٹ نہیں ہوتا۔
اس سے ثابت ہوا کہ کم از کم ( قال) کے بعد والے الفاظ ان تینوں کے نہیں ہو سکتے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ثابت ہوا کہ موقع پر موجود لوگوں میں سے یہ الفاظ کسی کے نہیں ہیں تو یہ الفاظ کس کے ہو سکتے ہیں؟
تو عقل بھی یہی کہتی ہے کہ سند کے راوی اپنے اُستادوں میں سے کسی مرد استاد سے مرفوع حدیث کے بعد ان کی رائے (قال) یعنی میرے استاد نے کہا بیان کر رہے ہیں۔
قرائن بتاتے ہیں جو اہلِ سنت مناظر نے پیش کئے کہ زہریؒ کی عادت تھی۔
کہ وہ مرفوع حدیث کے ساتھ اپنا قول بھی شاگردوں کو بتاتے تھے۔
لہٰذا یہاں بھی یہی معاملہ ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے نبی کریمﷺ کی مرفوع حدیث بیان کرنے کے بعد جب انہوں نے اس پر اپنا قول بتایا تو شاگرد نے مرفوع حدیث اور استاد کے قول میں فرق کرنے کیلئے لفظ قال استعمال کیا اور اپنے استاد امام زہریؒ کا قول بھی بیان کردیا۔
لہٰذا مرفوع حدیث کے بعد قال لفظ واضح طور پر امام زہریؒ کا قول ثابت ہوتا ہے۔
اہل سنت مناظر نے کتب اہل سنت کے بعد کتب اہل تشیع سے ان کے نزدیک معصومین کے اقوال سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیان کردہ مرفوع حدیث کا ثبوت دیا۔
جس پر شیعہ مناظر کوئی اعتراض نہیں کرسکا۔

صفحہ 5 از 8