مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض…

مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 6 از 8

ثابت ہوا کہ شیعہ کے نزدیک جو معصوم امام ہیں وہ خود حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیان کردہ حدیث رسول اللہﷺ کی تصدیق کرتے ہیں کہ انبیاء کی وراثت مال تقسیم نہیں ہوتی 
دلیل دینے کے بعد اہل سنت مناظر نے سوال کیا کہ
تمہارے نزدیک سیدہ فاطمہؓ کس سے اور کیوں ناراض ہوئی تھیں؟
خود نبی کریمﷺ سے جنہوں نے اپنے مال و دولت کی میراث تقسیم نہ کرنے کا حکم فرمایا تھا بلکہ صدقہ قرار دیا؟
شیعہ مناظر سے کوئی جواب نہ بن سکا۔
دوسرا سوال کیا یہ سیدہ کو مال کی لالچی قرار دینا ان کی توہین نہیں ہے؟
شیعہ مناظر سے اس کا جواب بھی نہ بن سکا۔
اہل سنت مناظر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیدہ تو اتنی بلند ترین تھیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے انہیں چاندی کے زیورات پہنے دیکھا اور واپس چلے گئے تو انہوں نے وہ زیورات نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں بھیج کر صدقہ کروا دیے۔
اس سے ثابت ہوا کہ سیدہ مال سے محبت نہیں رکھتی تھیں ورنہ عورت جو کم از کم اپنے زیورات کے معاملے میں بہت حساس واقع ہوتی ہیں اگر وہ مال کی محبت میں مبتلا ہوتیں تو اپنے زیورات صدقے میں نہ دیتیں۔
مناظر اہلِ سنت نے پوچھا نبی کریمﷺ کا فرمان بتانے پر کیا وہ اس لئے ناراض تھیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نبی کریمﷺ کی نافرمانی کیوں نہیں کر رہے؟
شیعہ مناظر اس کے جواب سے بھی عاجز رہا
غور کا مقام ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سیدہ نبی کریمﷺ کے فرمان کی تعمیل کرنے پر ناراض ہو جائیں؟
ہم تو کہتے ہیں کہ اپنے والد کے حکم کی تعمیل پر انہیں تو اتنی خوشی ہوئی ہوگی جو شاید کسی دوسرے کو نہ ہوئی ہو۔
شیعہ مناظر کسی دلیل کا کوئی جواب دیے بغیر اپنے ابتدائی اعتراض پر کہ یہ زہری کا مدرج کیسے ہے؟
بار بار دلائل دیکھ لینے کے بعد بھی دوہراتا رہا۔
اور اھل سنت مناظر بار بار آسان کر کے سمجھاتا رہا
مگر ایسا لگتا تھا کہ شیعہ مناظر بس میں نہ مانوں کا پیمانہ لے کر آیا تھا، کہ آسان سے آسان الفاظ میں سمجھانے کے باوجود ماننے پر تیار نہ ہوا۔

شیعہ مناظر نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور ان کے بعد زہریؒ اور امام بخاریؒ کے بارے میں باری باری جھوٹا کون ہے کہہ کر سوال قائم کرنے کی کوشش کی۔

اھل سنت مناظر نے حدیث پیش کی جس میں سیدہ فاطمہؓ کا سیدنا علیؓ سے ناراض ہونا اور نبی کریمﷺ سے ان کی شکایت کرنا کہ انہوں نے ایک کنیز سے ہمبستری کی ہے

(اس مقام پر اھل سنت مناظر نے نہایت ادب سے کہا کہ سیدہ کو غلط فہمی ہوئی تھی)

پیش کی اور پوچھا کہ اس میں دو باتیں ہیں:

اس میں سیدہ فاطمہؓ حضرت علیؓ سے ناراض بھی ہوئی ہیں۔

اور نبی کریمﷺ کو شکایت بھی کی ہے کہ حضرت علیؓ نے کنیز سے ہم بستری کی ہے۔
حالانکہ انہوں نے ہمبستری نہیں کی تھی۔
اس کے علاوہ ایک اور حدیث پیش کی جس میں ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کی زندگی میں حضرت علیؓ دوسری شادی کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
اور سیدہ فاطمہؓ ان سے ناراض ہوتی ہیں اور غصہ آتا ہے 
اھل سنت مناظر نے پوچھا کہ جو تم سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں کہہ رہے ہو تو تمہارے اس اصول پر نعوذبااللہ حضرت علیؓ سے بھی ناراض ہونا اور غصہ دلایا جانا ثابت ہے اور سیدہ فاطمہؓ کا بھی غلط فہمی میں مبتلا ہونا ثابت ہے۔
تو یہاں بتاؤ کہ کیا تم یہاں بھی یہی کہو گے کہ نبی کریمﷺ معاذاللہ حضرت علیؓ پر غضب ناک ہوئے اور معاذاللہ سیدہ نے کیوں کہ نبی کریمﷺ سے حضرت علیؓ کی کسی کنیز سے ہمبستری کی شکایت کی تھی، جوکہ درست نہیں تھی لہٰذا وہ بھی جھوٹی ہوئیں؟
شیعہ مناظر کو اس واضح بات کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ توبہ کرنی چاہیے تھی کہ انہوں نے جس اصول سے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر نبی کریمﷺ کا غضب ناک ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی اور نبی کریمﷺ کی زوجہ محترمہ جنہیں ازواج مطہرات کا مقدس مقام حاصل ہے ان کیلئے جھوٹ بولنے والی کا لفظ استعمال کیا تھا۔
مگر افسوس شیعہ مناظر کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ اس کے بنائے پیمانے پر حضرت علیؓ نعوذبااللہ مغضوب اور سیدہ فاطمہؓ نعوذبااللہ جھوٹی قرار پاتی ہیں۔

اسی طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا غلط فہمی میں مبتلا ہو کر سیدنا ہارون علیہ السلام پر غصہ ہونا اور داڑھی پکڑنا جو کہ قرآن مجید سے ثابت ہے۔

یہ بھی غلط فہمی کی وجہ سے تھا تو شیعہ کے اس اصول پر تو انہیں بھی جھوٹا کہنا لازم آتا ہے (معاذاللہ استغفر اللہ)

صفحہ 6 از 8