مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض…

مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 7 از 8

اہلِ سنت مناظر نے بار بار شیعہ مناظر کو ان نصوص کی طرف توجہ کروائی مگر شیعہ مناظر نے پرواہ نہ کی۔
شیعہ مناظر اس کے باوجود ابتدائی اعتراض دوہرا کر وقت ضائع کرتا رہا۔ اور اھل سنت مناظر مزید دلائل دیتا رہا۔
شیعہ مناظر آخر میں بالکل بوکھلاہٹ میں مبتلا معلوم ہوا۔ کافی بدزبانی اور زبان میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔
اور اس نے ایک سطحی سوال کیا جس سے معلوم ہوا کہ وہ علم سے بالکل کورا ہی ہے۔
انہوں نے یہ پوچھا کہ قال کس کا قول ہے۔
اسے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ قال کے بعد والے قول کا قائل زہری اور کا قال (زہری) سے روایت کرنے والا نیچے کا راوی مراد ہے۔
شیعہ کتب سے اصول اہل سنت مناظر نے پیش کیا
جس میں ہے کہ روایت اس کی درست ہوگی جو مضبوط راوی روایت میں بیان کردہ بات کا خود گواہ بھی ہو۔
زہریؒ نے نہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پایا نہ سیدہ فاطمہؓ کو نہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو۔
تو زہری کی اپنی بات اس مقام پر شیعہ اصول سے بھی اس قابل نہیں بنتی کہ وہ دلیل کہلا سکے۔
شیعہ مناظر نے ایک مطالبہ یہ کیا کہ زہری کا مدرج ہونے کی قطعی دلیل دو۔
قرائن وغیرہ جو زہریؒ کا قول ثابت کرتے ہیں احتمال کے درجے میں ہیں۔
احتمال کی بنیاد پر استدلال نہیں ہو سکتا۔
سنی مناظر نے کہا کہ تمہارا احتمال مان لینا ہی تمہارے استدلال کو بھی باطل کرتا ہے۔
اس اصول کو جیسے میرے لئے تم کہہ رہے ہو ویسے یہ تمہارے لئے بھی ثابت ہوا۔
اور کیوں کہ شیعہ اس قول کے سہارے ہی پوری عمارت قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو محض شیعہ کا احتمال مان لینا بھی اس کے استدلال کی عمارت زمین بوس کرنے کیلئے کافی ہے۔
تم نے احتمال مان لیا اب یہ روایت شیعہ کے لئے اس اصول پر دلیل بن ہی نہیں سکتی۔
آخر میں اہل سنت مناظر نے یہ بات کی کہ بالفرض یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ الفاظ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے ہی ہیں۔ (جو کہ دلائل سے ثابت ہو چکا کہ ان کے الفاظ نہیں ہیں)
تو بھی جب پیغمبروں کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اور (تمہارے نزدیک معصومہ) سیدہ فاطمہؓ کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
تو بالفرض (محال) ام المؤمنین کو بھی غلط فہمی ہو جائے تو اس سے بھی تمہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
جس پر شیعہ مناظر بالفرض (فرضی اور خیالی) بات کو حقیقت سمجھ کر کہنے لگا کہ....
سنی مناظر نے مان لیا کہ الفاظ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے ہیں۔
جو شیعہ مناظر کی اگر کم علمی نہیں تو دھوکہ دہی ضرور ہے۔
اھل سنت مناظر نے تمام گفتگو میں مقدسات کے احترام کا مکمل مظاہرہ کیا۔
جب کہ شیعہ مناظر نے نبی کریمﷺ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں تمہاری ام المؤمنین کہہ کر خود کو مؤمنین سے ہی الگ کیا۔
یا ان کو نبی کریمﷺ کی زوجہ محترمہ کے شایانِ شان احترام نہیں دیا اور انداز بھی طنزیہ تھا ان کے صدیقہ ہونے اور ام المؤمنین ہونے کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔
جب اہل سنت مناظر نے شیعہ مناظر کے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے بارے میں توہین آمیز انداز کی وجہ سے اپنا فقط تھوڑا سا انداز تبدیل کر کے گفتگو کی اور شیعہ مناظر کو تُو کہہ کر مخاطب کیا
تو شیعہ مناظر جو کہ پہلے سے ہی سنی مناظر سے گفتگو میں غیر مہذب انداز اختیار کر رہا تھا۔
اور پھر مقدسات کا مذاق اڑانے کی کوشش بھی کی تھی
تُو کہنے پر اسے تُو تڑاک اور شکست کی دلیل کہنے لگا
اس اصول سے دیکھا جائے تو اس گفتگو میں شیعہ مناظر بہت پہلے ہی شکست کھا چکا تھا۔
اس بات سے شیعہ مناظر کی شکست اقراری بھی بن گئی۔
اھل سنت کا اصول ہے کہ حدیث کے مقابلے میں کسی کی کوئی بات حجت نہیں جو حدیث کے خلاف ہو۔
زہریؒ کے (غلط فہمی پر مبنی) قول سنی مناظر کی پیش کردہ صحیح احادیث کے مقابلے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتے 
بلکہ شیعہ اصول پر بھی وہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتے جیسا کہ سنی مناظر نے شیعہ کتب سے ثابت کیا۔
سنی مناظر نے شیعہ سنی دونوں کتب سے ثابت کیا کہ انبیاء کرام مال و دولت کی وراثت نہیں چھوڑتے لہٰذا جب وراثت ہی نہیں تو فدک پر شیعہ کا دعویٰ بھی خارج قرار پاتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ اہل سنت مناظر کا جواب دعویٰ شیعہ مناظر جسے اپنی دلیل سمجھ کر لایا تھا اس حدیث سے بھی ثابت ہوا۔
اھل سنت مناظر نے شیعہ مناظر کی دلیل زہریؒ کے قول کی ایک ایک جزو کو غلط ثابت کیا اور شیعہ مناظر ایک کا بھی دفاع نہ کر سکا۔ 
شیعہ مناظر نے جو دعویٰ کیا تھا وہ اپنے دعوے کو دلائل سے ثابت کرنے میں سو فیصد ناکام رہا۔
جبکہ سنی مناظر نے جو جواب دعویٰ لکھا تھا باوجود مدعی علیہ ہونے کے خود دلائل دے کر ثابت کیا۔
میرے نزدیک یہ مناظرہ اہل سنت مناظر مولانا علی معاویہ صاحب نے واضح طور پر جیت لیا ہے۔
اور شیعہ مناظر اپنے دعوے اور دلائل میں پیش کردہ ایک ایک جزو میں شکست فاش سے دوچار ہوئے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو حق بات کہنے اور قبول کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور زبانی کلامی ایمان کے بجائے نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر اور اس شریعت کو ہم تک پہنچانے کا سبب بننے والے تمام لوگوں بالخصوص ازواجِ نبیﷺ جو کہ تمام ایمان والوں کی مائیں قرار دی گئی ہیں اور اولادِ نبیﷺ اور اصحابِ نبیﷺ جو ہمارے محسن ہیں ان کا ادب اور احترام کرنے اور حقیقی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
مبصر سید ذاکر علی شاہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

صفحہ 7 از 8