Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

الامامت والسیاست (ابن قتیبہ) شیعہ کتاب ہے!

  جعفر صادق

کیا “الامامت والسیاست” نامی کتاب ابن قتیبہ کی تصنیف ہے؟


المعارف لابن قتیبہ میں جن تصانیف ابنِ قتیبہ کا تذکرہ ہے اُن میں اس نام کی ان کی کوئی تصنیف نہی لکھی گئی، بلکہ المعارف کے مقدمہ میں اس امر کی تردید موجود ہے۔

 

 ترجمہ:

باقی رہی یہ بات کہ کتاب “الامامت والسیاست” جو ابنِ قتیبہ کی طرف منسوب ہے وہ ہرگز اس کی تصنیف نہیں۔ اور اس بارے میں کہ یہ اس کی تصنیف نہیں بہت سے دلائل ہیں۔

1: جن لوگوں نے ابنِ قتیبہ کے حالات لکھے، انہوں نے اس کی تصنیفات میں اس کتاب کا ذکر تک نہیں کیا۔

2: کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مصنف دمشق کا رہنے والا تھا، حالانکہ ابنِ قتیبہ بغداد میں رہائش پذیر تھا اور یہاں سے وہ دینور کے علاوہ کسی اور شہر میں ہرگز نہیں گیا۔

3: کتاب میں ابو لیلی کی روایات درج ہیں۔ ابو لیلی 148 ھجری میں کوفہ کا قاضی تھا یعنی ابنِ قتیبہ کی پیدائش سے 65 سال قبل۔

4:  کتاب کے مصنف نے اندلس کی فتح کا واقعہ ایک عورت کی زبانی بیان کیا ہے جو اس واقعہ میں موجود تھی، اور فتح اندلس 120 سال قبل پیدائش ابنِ قتیبہ ہوئی تھی۔

5: اس کتاب کے مؤلف نے مراکش کی فتح موسیٰ بن نظیر کے حوالے سے بیان کی ہے۔ حالانکہ مراکش کو یوسف بن تاثقین نے 455 ھجری میں آباد کیا تھا اور ابنِ قتیبہ کا انتقال 276 ھجری میں ہو چکا تھا۔

آخر “الامامتہ والسیاستہ” کا مصنف کون تھا؟

صاحب مقدمتہ المعارف نے پانچ مضبوط دلائل سے اس امر کی تردید کی ہے کہ اس کتاب کا مصنف مسلم بن قتیبہ نہیں۔ اب مسلم بن قتیبہ کو اہلِ سنت کا عالم کہہ کر پھر “الامامتہ والسیاستہ” کو اس کی تصنیف کہنا کہاں کی دانشمندی ہے؟


علامہ حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں ابنِ قتیبہ کی سیرت و تحریر پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔


 

  ابنِ قتیبہ کی طرف منسوب الامامتہ والسیاستہ” اور اس کی دوسری کتاب “المعارف” میں اس شخص نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بڑا زہر اگلا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر اس مردود و ملعون نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو اپنی تحریرات میں نشانہ بنایا ہے۔

ایسے شخص کو کون “معتبر” کہہ سکتا ہے؟


  بغض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو اہلِ تشیع کا خاص وطیرہ ہے، لیکن اس خبیث اور گندی زبان والے نے جس نبی کا کلمہ پڑھا ان کے آباء و اجداد کو بھی معاف نہیں کیا، اور کمال ڈھٹائی اور بے حیائی سے بلا سند اور بے اصل روایات کو نقل کیا، ہم اسے سنی کس طرح تسلیم کریں۔

اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے آباء اجداد حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عبداللہ تک تمام کہ تمام طیب و طاہر ہیں۔