حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃاللہ و دیگر مفتیانِ خیر…

حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃاللہ و دیگر مفتیانِ خیر المدارس ملتان کا فتویٰ


شیعوں کے ذبیحہ کا حکم:

سوال:  ایک امام و خطیب نے شیعہ فرقہ کے ساتھ وسیع تعلقات قائم کر رکھے ہیں، یہاں تک کہ خود بھی ان کی شادیوں میں شریک ہوتا ہے اور ان رافضیوں تبرائیوں کو بھی اپنے بچوں کی شادی میں بلاتا ہے۔ اہلِ محلہ جب اعتراض کرتے ہیں تو شرعی جواز پیش کرنے سے عاجز آ کر ادھر ادھر کی باتیں کرتا ہے یا یہ کہہ دیتا ہے کہ شیعہ لوگ میری امداد کرتے ہیں۔ بعض اہلِ محلہ اس کی دینی بے حمیتی تدہن کی بناء پر اس کے پیچھے نماز پڑھنا نہیں چاہتے۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ اہلِ تشیع سے اپنے جملہ تعلقات منقطع کر دیں اور اعلان کرے کہ میں آئندہ اہلِ تشیع سے کسی قسم کے مراسم نہیں رکھوں گا۔ کیونکہ شیعوں سے مراسمِ اسلامیہ رکھنا اور ان کی غمی، شادی میں شریک ہونا ناجائز ہے۔ اس پر وہ لوگ (اہلِ محلہ) امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃ اللہ کا ایک مستند اور جامع فتویٰ پیش کرتے ہیں، جس کو 30 علمائے دیوبند کی تائید حاصل ہے۔

جن عبارات سے اہلِ تشیع سے مقاطعت پر استدلال کیا جاتا ہے، وہ عبارات و اقتباسات پیش کرتا ہوں تاکہ مسئلہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے اور فتویٰ کے بعد کسی فریق کو کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔

سوال 1: ایک تو اس فتویٰ کا نام ہی ہے: شیعہ اثناء عشریہ کے کفر و ارتداد کے متعلق علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ۔ جب اثناء عشریہ مرتد ہیں تو مرتدین سے اسلامی مراسم قائم رکھنا کیسے جائز ہے؟

سوال 2: اس فتویٰ کی ضرورتِ اشاعت کے متعلق امامِ اہلِ سنت لکھتے ہیں کہ بعض برادرانِ اسلامی کو دیکھ کر صدمہ ہوا کہ اہلِ سنت والجماعت بوجہِ ناواقفیت کے شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ مناکحت تک سے پرہیز نہیں کرتے، بالآخر جن کے تلخ ترین نتائج سوہانِ روح ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہی مسلمان شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کا ذبیحہ استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا بعض حضرات کا اصرار ہوا کہ علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ شیعوں کے متعلق شائع کیا جائے تاکہ فسادات کا سدِباب ہو۔ عقیدہ تحریفِ قرآن کے ظاہر ہونے کے بعد شیعوں کی تکفیر میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا، اور یہ ظاہر ہے کہ تحریفِ قرآن کا قائل کافر ہے۔ امید ہے کہ برادرانِ اسلام اس مختصر مگر مستند فتویٰ کو دیکھنے کے بعد شیعہ اثناء عشریہ رافضیہ سے تمام مراسمِ اسلامیہ، بالخصوص مناکحت، ذبیحہ، شرکتِ جنائز سے پرہیز کریں گے۔

سوال 3:  الاستفتاء ہمارے ملک میں جو فرقہ شیعہ اثناء عشریہ ہے، یہ مسلمان ہے یا کافر؟ ان کے ساتھ مناکحت جائز ہے یا نہیں؟ ان کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا یا اپنے جنازے میں شریک کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر شیعہ مسجد کی تعمیر کے لیے پیسے دینا چاہیں تو وصول کیے جائیں یا نہیں؟

جواب:  شیعہ اثناء عشریہ رافضیہ قطعاً خارج از اسلام ہے۔ تمام محققین ان کی تکفیر پر متفق ہو گئے ہیں۔ ضروریاتِ دین کا انکار قطعاً کفر ہے اور قرآنِ شریف ضروریاتِ دین میں سے اعلیٰ اور ارفع چیز ہے۔ اور شیعہ بلا اختلاف، ان کے مقدّمین اور متأخرین سب کے سب تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔

لہٰذا شیعوں سے مناکحت ناجائز، ان کا ذبیحہ حرام، اور ان کا چندہ لینا جائز نہیں۔ اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازے میں شریک کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ سنی جنازہ میں یہ لوگ میت کے لیے بددعا کرتے ہیں۔

4: شیعوں کا حضرت صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہونا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر قذف کرنا کفر ہے۔

علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ فتاویٰ شامی: جلد 3 صفحہ 294 پر لکھتے ہیں:  

لَا شَكَّ فِی تَكْفِيرِ مَنْ قَذَفَ السَّيِّدَةَ عَائِشَةَ أَوْ أَنْكَرَ صُحْبَةَ الصِّدِّيقِ

دوسری جگہ علامہ ابن عابدین شامیؒ فتاویٰ شامی: جلد، 2 صفحہ، 683 پر لکھتے ہیں کہ: جو کلام اللہ کی تحریف کا قائل ہو وہ مرتد اور کافر ہے، اہلِ کتاب نہیں۔ ان سے مناکحت اور تعلقات رکھنا سخت حرام ہے۔ لہٰذا شادی و غمی میں شرکت نہ کی جائے۔ ایسے عقیدے کے لوگ کافر ہی نہیں بلکہ ملحد ہیں۔

5:  عقائدِ مذکورہ فی السوال کے روافض صرف مرتد اور کافر خارج از اسلام ہی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بھی اس درجے کے ہیں کہ دوسرے فرقے اسلام دشمنی میں شیعوں سے کم نکلیں گے۔ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے مراسمِ اسلام ترک کرنا چاہیے۔

6:  شیعہ روافض کے متعدد فرقے ہیں، اور ان کے مختلف عقائد اور ظنونِ باطل ہیں۔ بعضوں کی تکفیر واجب ہے جیسے اثناء عشریہ ہیں۔ اس لیے ان سے مناکحت ناجائز بلکہ تمام اسلامی مراسم کا ترک کرنا ضروری ہے۔

7:  شیعہ اپنے عقائد کی بناء پر اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ لہٰذا ان سے اسلامی مراسم مثلاً: مناکحت، قربانی و ذبیحہ استعمال کرنا، جنازہ پڑھنا، اور ان کو اپنے جنازے میں شریک کرنا، ان کو اپنے نکاحوں میں گواہ بنانا، مسجد کے لیے چندہ لینا وغیرہ کا ترک واجب ہے۔ جو شخص شیعوں سے ترکِ مراسم نہیں کرتا وہ اسلام سے خارج ہے اور ان ہی جیسا کافر ہے۔ 

8: شیعہ واقعی کافر ہیں، کیونکہ وہ قذفِ اُمّ المؤمنینؓ اور سبِّ شیخینؓ کے علاوہ تحریفِ فی القرآن کے قائل ہیں۔

بناء بر اختصار ان عبارات پر اکتفاء کیا جاتا ہے اب یہ صادر فرمائیں کہ اہلِ محلہ کا مطالبہ صحیح ہے یا غلط؟

جواب:  پہلے تشیع سے امام صاحب کا اس قدر میل جول کسی صورت درست نہیں۔ اہلِ محلہ کا مطالبہ صحیح ہے۔ جب تک امام صاحب کے بارے میں اطمینان نہ ہو جائے، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتیاط کی جائے۔ جو ضروریاتِ دین کا منکر ہو، اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔  

(خیر الفتاویٰ: جلد 2 صفحہ 365)