سوال 10: کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے جیسا کہ شخصِ مذکور کا ماننا ہے اور اس قسم کا اعتقاد رکھنے والے شخص کے سلسلہ میں شریعتِ مطہرہ کا حکم کیا ہے۔
جواب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو صحابہ کرامؓ میں جو فضیلت اور عظمت حاصل ہے وہ اظهر من الشمس ہے وہ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ میں تھے، سیدنا ابو بکرؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا زید بن حارثہؓ کے بعد وہ چوتھے شخص تھے، جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ وہ ذو النورین تھے کہ حضور اکرمﷺ نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیوں کو ان کے نکاح میں دیا اور فرمایا (جب سیدہ امِ کلثومؓ کا انتقال ہو گیا) ”اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو انہیں یکے بعد سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دے دیتا۔“ وہ غنی تھے کہ انہوں نے اپنی ساری دولت کو دین اور ملت کی نذر کر دیا۔ اور سخت احتیاج اور ضرورت کے وقت ملتِ اسلامیہ کی کشتی کی آبیاری کی۔ ان ہی کے لیے رسولِ اکرمﷺ نے ”بیعۃ الرضوان“ لی۔ انہیں کاتبِ وحی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کو مسجد الحرام کی توسیع کرانے کی سعادت میسر آئی۔ انہوں نے تمام عالمِ اسلام کو ایک مصحف اور قرأت پر جمع کیا اور جامع القرآن کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ان کی سیرت کے غیر معمولی اوصاف کے پیشِ نظر امت نے ان کے لیے ”کامل الحیاء والایمان“ کے الفاظ استعمال کیے۔ ان کے عہد کی فتوحات تاریخِ اسلام کا ایک شاندار باب ہیں۔ انہوں نے آرمینیہ، آذربائیجان، ایشیائے کوچک، ترکستان، کابل، سندھ، قبرص اور اسپین وغیرہ میں عربوں کے سیاسی اقتدار کے لیے راہیں ہموار کر دی تھیں۔ ان ہی کے زمانے میں بحری طاقت منظم ہوئی۔
زندگی کے کتنے ہی مختلف النوع گوشے ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنی سیرت کے غیر فانی نقوش چھوڑے۔ سیدنا عثمانؓ کے زمانہ میں ملتِ اسلامیہ کو فتنوں نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا۔ سازشوں کا ہر طرف جال بچھا ہوا تھا۔ باغی آمادہ پیکار گھوم رہے تھے۔ سیدنا عثمانؓ نے تمام حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور ملت کو انتشار اور ابتری سے بچانے کے لیے نہ صرف ہر صعوبت اور اذیت کو برداشت کیا۔ بلکہ بخوشی اپنا سر دے دیا۔ باغیوں کا مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ عدم استطاعت کی بناء پر نہ تھا، بلکہ ملت کے وسیع تر مفاد کے پیشِ نظر تھا۔
اس پر سیر حاصل کلام اور معترضین کے جوابات کے لیے علماء ربانیین نے کتب تحریر فرمائی ہیں۔
نام ونسب اور خاندان:
عثمان نام، ابو عبد اللہ اور ابو عمرو کنیت، والد کا نام عفان اور والدہ کا نام ارویٰ تھا، قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مجد و شرف اور عزت و وجاہت کے اعتبار سے بنو ہاشم کے بعد انہیں کا مرتبہ تھا۔ حرب فجار (یہ جنگ قریش اور قیس کے درمیان ہوئی تھی۔ قریش کے تمام خاندانوں کے فوجی دستے الگ الگ تھے۔ آلِ ہاشم کا فوجی دستہ زبیرؓ بن عبد المطلب کے کمانڈ میں تھا اور آنحضرتﷺ اسی دستے میں شامل تھے۔ بڑے زور کا معرکہ ہوا اور آخر کار صلح پر خاتمہ ہو گیا) میں جو شخص سپہ سالارِ اعظم کی حیثیت رکھتا تھا وہ اسی خاندان کا ایک نامور سردار حرب بن امیہ تھا۔ سیدنا عثمانؓ کا سلسلہ نسب والد اور والدہ دونوں کے طرف سے پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرتﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے پھر اس پر مزید یہ کہ سیدنا عثمانؓ کی نانی ام حکیم (یا حکم) بیضاء بنت عبد المطلب آنحضرتﷺ کی پھوپھی تھیں۔
سیدنا عثمانؓ ہجرتِ مدینہ سے 47 برس قبل بمطابق 577ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ مکہ کے ان چند اور نمایاں لوگوں میں تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
قریش کا عام پیشہ تجارت تھا۔ اس میں انہوں نے بڑی ناموری حاصل کی تھی۔ قرآنِ مجید کی سورہ ایلاف میں گرمی اور سردی کے موسم میں قریش کے تجارتی قافلوں کا ذکر ہے، قریش کے اسی عام مذاق کے باعث سیدنا عثمانؓ نے بھی تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا اور ایک شیخ ربیعہ بن حارث کی شرکت میں کپڑے کا کاروبار بہت بڑے پیمانہ پر شروع کر دیا۔ اس میں انہوں نے وہ کامیابی اور شہرت حاصل کی کہ ان کا لقب ہی عثمان غنی ہو گیا۔
سیدنا عثمانؓ فطرتاً بڑے حلیم، سخی اور اعلیٰ اخلاق و فضائل کے انسان تھے۔ اسی بناء پر قریش میں نہایت معزز و محترم تھے اور قریش ان سے اتنی محبت کرتے تھے کہ وہ ضرب المثل بن گئی تھی۔ چنانچہ عرب کہا کرتے تھے
”احبک والرحمٰن حب قریش عثمان“
ترجمہ: بخدا میں تجھ سے ایسی محبت کرتا ہوں جیسی محبت قریش عثمان سے کرتے ہیں۔
سیدنا عثمانؓ فطرتاً بڑے نیک، راست باز اور ایمان دار تھے۔ شراب عرب کی گھٹی میں پڑی تھی، جو لوگ پیتے تھے فخر کرتے اور نہ پینے والے کو طعن کرتے کیونکہ ان کے نزدیک شراب نہ پینا بخل کی علامت تھا۔
لیکن اس ماحول میں دولت و ثروت کے ساتھ رہنے کے باوجود آپؓ ان چند اکابرِ قریش (مثلاً سیدنا عباسؓ، سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ وغیرہ) میں سے تھے جو سلیم الفطرت ہونے کے باعث شراب سے نفرت کرتے تھے۔ اسی طرح گانا بجانا، لہو و لعب اور زنا کاری عرب کے پسندیدہ مشاغل میں تھے۔ لیکن سیدنا عثمانؓ ان سب چیزوں سے بھی طبعاً مجتنب تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا میں نے عہدِ جاہلیت میں یا اسلام میں نہ کبھی زنا کیا ہے نہ شراب پی ہے اور نہ گانا بجایا ہے۔
طبیعت کی اس نیکی اور حق پرستی کے باعث مکہ مکرمہ میں پہلے پہل جب اسلام کا غلغلہ بلند ہوا اور یہ صدائے روح نواز فردوس گوش ہوئی تو آپؓ فوراً مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
خود ان کے بیان کے مطابق اسلام قبول کرنے والے مردوں میں ان کا نمبر چوتھا تھا۔ بڑے پیمانہ پر تجارت کے باعث دولت مند شروع سے ہی تھے۔ اس لیے وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ کے حکم کے مطابق اللہ کی نعمتوں سے استفادہ آپ کی طبیعت کا شیوہ تھا۔ چنانچہ لباس بھی عمدہ قسم کا استعمال کرتے تھے۔ اس زمانہ میں یمنی چادریں بہت وقیع اور قیمتی سمجھی جاتی تھیں۔ آپؓ انہیں اوڑھتے تھے۔ عموماً یہ چادریں زرد رنگ کی ہوتی تھیں اور ان کی قیمت سو درہم کے لگ بھگ ہوتی تھی۔ آپ اپنے لباس میں بھی سنت کا خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ آدھی پنڈلی تک لنگی باندھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے محبوبﷺ کی لنگی ایسی ہوا کرتی تھی۔
اسلام نے اس فطرت کو چمکا کر مجلیٰ اور مصفیٰ کر دیا تھا۔ اس بناء پر دینی عزتِ نفس اور خودداری آپ میں حد درجہ کی تھی کہ نازک سے نازک موقع پر بھی آپؓ میں لچک پیدا نہیں ہوتی تھی۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو۔ مبادا وہ وقت آ جائے کہ تمہارے بروں کو تم پر مسلط کر دیا جائے اور ان بروں کے خلاف نیک لوگ بد دعا کریں اور وہ قبول نہ کی جائے۔
حضورﷺ کی صحبت و تربیت نے سیدنا عثمانؓ کی سیرت کی تشکیل اور کردار کی تعمیر اس حد تک کی کہ آپ حضورﷺ کے رنگ میں رنگے گئے۔ آپؓ کی خصلات انبیاء علیہم السلام کے طرز پر تھیں۔ ابن عساکرؒ نے سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عثمانؓ سب صحابہؓ سے خلق میں مجھ سے زیادہ مشابہ ہیں۔
اگر اسلام میں ہر فعل جو احکامِ خداوندی کے ماتحت ہو اور جس کا مقصد حصولِ رضائے الٰہی ہو دینی اور مذہبی فعل ہے اور اس لیے سیدنا عثمانؓ کے تمام کارنامے دینی کارنامے ہیں۔ تاہم سب سے بڑا اور نہایت عظیم الشان دینی کارنامہ مصحفِ عثمانی کی ترتیب و تدوین ہے۔ یہی وہ کارنامہ ہے جس کے باعث قرآن جیسا نازل ہوا تھا ویسا ہی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
سیدنا عثمانؓ کو تحریر و انشاء میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ کی تحریریں خطوط کی شکل میں حدیث و تاریخ اور ادب کی کتابوں میں محفوظ ہیں (جو کہ اب اردو میں ”سیدنا عثمانؓ کے سرکاری خطوط“ مصنفہ پروفیسر خورشید احمد صدر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی کے نام سے منظرِ عام پر آ چکے ہیں) ان پر نگاه ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ کلام ما قل و دل کا مصداق ہوتا ہے۔ الفاظ مرصع اور جملے کے جملے فصاحت و بلاغت کی جان اور نہایت موثر و دلنشین ہوتے ہیں۔
سیدنا عثمانؓ نے اپنی خلافت علی منہاج النبوت پر قائم و دائم رکھی۔ مجلسِ شوریٰ بالکل اسی طرح برقرار رکھی جس طرح آپؓ سے پیشتر خلفاء کے دور میں تھی۔
اہم امور میں آپؓ تمام اکابر صحابہؓ، مشیرانِ خلافت اور ضرورت پڑنے پر امہات المؤمنینؓ سے بھی مشورہ لیتے۔
علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں۔ جب سیدنا عثمانؓ کی خلافت کا دور آتا ہے تو مشرق و مغرب کی انتہاء تک خدا کا دین پھیل جاتا ہے۔ خدائی لشکر ایک طرف اقصیٰ مشرق تک اور دوسری طرف انتہاءمغرب تک پہنچ کر دم لیتے ہیں اور مجاہدین کی آبدار تلواریں خدا کی توحید کو دنیا کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں پہنچا دیتی ہیں۔ اندلس، قیروان، سیقہ یہاں تک کہ چین تک آپ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔
دوسری طرف مدائن، عراق، خراسان، اہواز سب فتح ہوئے۔ ترکوں سے جنگِ عظیم ہوئی۔ آخر ان کا بڑا بادشاہ خاقان خاک میں مل کر ذلیل و خوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہِ خلافتِ عثمانؓ میں پہنچوائے۔ آپؓ کے زمانے کو دیکھیے اور اللہ کے رسولﷺ کی پیشین گوئی کو دیکھیے کہ آپﷺ نے فرمایا تھا "زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی ہے یہاں تک کہ میں نے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔ عنقریب میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک اس وقت مجھے دکھائی گئی ہے"
کتابتِ وحی:چونکہ سیدنا عثمانؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ لہٰذا اسلام لانے کے بعد آپؓ کو کتابتِ وحی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ سیدہ عائشہؓ کی روایت ہے کہ میں نے خود سیدنا عثمانؓ کو اس گھر میں دیکھا ہے کہ رات کے وقت گرمی کے موسم میں حضورﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے حضورﷺ حسبِ معمول گرانی محسوس کر رہے ہیں اور سیدنا عثمانؓ آپﷺ کے حکم سے وحی لکھ رہے ہیں۔ اپنا یہ مشاہدہ بیان کرنے کے بعد ام المومنینؓ نے فرمایا: ظاہر ہے رسول اللہﷺ سے اس درجہ قرب و اختصاص کا شرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو عطا فرما سکتا ہے جو اعلیٰ اخلاق و صفات کا انسان ہو۔
یہ بات پہلے عرض کی جا چکی ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ سے بدگمانی رکھنا، ان کو برا کہنا قرآنِ مجید کی صریح مخالفت اور شریعتِ الٰہیہ سے کھلی ہوئی بغاوت ہے اور ایسے شخص کے کفر کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ جو بد باطن شخص خلیفہ راشد اور دامادِ رسول سیدنا عثمانؓ کے بارے میں زبان طعن دراز کرے وہ اس وعید کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہو گا۔
طبیعت کا سخت و نرم ہونا ایک فطری، طبعی اور غیر اختیاری امر ہے، اس بناء پر کسی کو بھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ چنانچہ ذیل کے چند واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپؓ نے امورِ سلطنت میں قطعاً کسی نرمی، تساہل اور جانب داری سے کام نہیں لیا، جو لوگ آپؓ پر کیچڑ اچھال کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں وہ ان واقعات کو عبرت کی نگاہ سے پڑھیں اور انصاف کی نظر سے فیصلہ کریں۔
1: امارت سے استغناء:سیدنا طلحہؓ اس دن (سفر سے) تشریف لائے جس دن سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تھی، اس موقع پر لوگوں نے کہا کہ تم بھی بیعت کر لو تو وہ پوچھنے لگے کہ تمام اہل قریش نے ان کی حمایت کی ہے؟ وہ بولے ہاں اس کے بعد وہ سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا عثمانؓ نے ان سے فرمایا: تمہیں اس معاملہ کا اختیار ہے اگر تم انکار کرو گے تو میں اس معاملہ کو لوٹا دوں گا۔
وہ بولے کیا آپؓ لوٹا دیں گے؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں، پھر پوچھا کہ کیا تمام لوگوں نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں، اس پر وہ بولے: میں بھی بیعت کرنے پر رضا مند ہوں اور میں لوگوں کے متفقہ فیصلہ سے الگ رہنا نہیں چاہتا یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی۔(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 245)
2: دوسروں سے نصیحت چاہنا:حمران بن ابان روایت کرتے ہیں کہ خلافت کی بیعت کے بعد امیر المومنین سیدنا عثمانؓ نے مجھے سیدنا عباسؓ کی طرف بھیجا کہ انہیں بلا کر لاؤں، جب وہ تشریف لائے تو سیدنا عثمانؓ نے ان سے فرمایا: مجھے آپؓ کی نصیحت کی آج سخت ضرورت ہے۔ سیدنا عباسؓ نے فرمایا آپؓ مندرجہ ذیل پانچ باتوں پر سختی کے ساتھ عمل کریں تو قوم آپؓ کی کبھی مخالفت نہیں کرے گی، آپؓ نے فرمایا وہ کیا ہیں؟ سیدنا عباسؓ نے فرمایا:
1: قتل سے صبر کرنا
2: لوگوں سے محبت کرنا
3: لوگوں سے درگزر کا معاملہ کرنا
4: نرمی اختیار کرنا
5: راز کو پوشیدہ رکھنا۔
(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 408)
3: تجدیدِ کعبہ کے لیے سختی کرنا:سنہ 26 ہجری میں سیدنا عثمانؓ نے حرمِ کعبہ کی تجدید اور توسیع کا حکم دیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جماعت سے کچھ زمین خریدی، جب کہ کچھ لوگوں نے اپنی زمینیں فروخت کرنے سے انکار کیا تو آپؓ نے ان کی عمارتیں گرا دیں اور ان کی قیمتیں بیت المال میں جمع کرا دیں، بعد میں ان لوگوں نے سیدنا عثمانؓ کے پاس آ کر چیخ و پکار کی تو آپؓ نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم لوگوں کو میری شرافت اور میرے حکم کی وجہ سے مجھ پر چلانے کی جسارت ہوئی ہے، جب کہ تمہارے ساتھ سیدنا عمرؓ نے اس قسم کی کارروائی کی تو تم ان پر نہیں چلاتے تھے، آخر کار عبد اللہ بن خالد بن اسید کی سفارش پر انہیں رہا کر دیا گیا۔(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 258)
4: برائی کا قلع قمع کرنا:حکیم بن عباد روایت کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں جب دنیاوی خوشحالی آئی اور لوگوں کے پاس دولت کی فراوانی ہوئی تو دولت مندی انتہاء تک پہنچی تو وہاں سب سے پہلے جو برائی رونما ہوئی تو وہ کبوتروں کو اڑانا اور مختلف چیزوں کی نشانہ بازی تھی، سیدنا عثمانؓ نے لوگوں کی اس بے راہ روی کو روکنے کی خاطر اپنی خلافت کے آٹھویں سال قبیلہ لیث کے ایک شخص کو مقرر کیا کہ وہ ان کبوتروں کے پر کاٹے اور نشانہ بازی کے مراکز کو ختم کرے۔ (تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 406)
5: اعمالِ سحر پر گرفت:محمد اور طلحہ کی روایت ہے کہ ابن ذی الحبکہ نہدی نیرنج جادو کا کام کیا کرتا تھا، جب سیدنا عثمانؓ کو اس کے اس کام کے بارے میں اطلاع ہوئی تو آپؓ نے ولید بن عقبہؓ کو لکھا کہ اس بارے میں ابن ذی الحبکہ سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرے تو اسے سخت سزا دی جائے، چنانچہ ولید بن عقبہ ؓنے انہیں بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا ہاں یہ عجیب و غریب شعبدہ بازی کا کام ہے اور اقرار کیا تو ولید بن عقبہ ؓنے انہیں سزا دینے کا حکم دیا اور عوام کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کے سامنے سیدنا عثمانؓ کے خط کو پڑھ کر سنایا گیا کہ ”یہ معاملہ نہایت سنجیدہ اور سنگین ہے اس لیے تم لوگ بھی سنجیدگی اختیار کرو اور ہنسی مذاق اور دل لگی سے بچو، لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ سیدنا عثمان غنیؓ تک اس کی اطلاع کیسے پہنچی؟
(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 410)
6: اہلِ بیتؓ کی تعظیم اور ان سے محبت:سیدنا قاسم بن محمدؒ کہتے ہیں سیدنا عثمانؓ نے جو بہت سے نئے قانون بنائے ان میں سے ایک قانون یہ تھا کہ ایک آدمی نے ایک جھگڑے میں سیدنا عباسؓ کے ساتھ حقارت آمیز معاملہ کیا۔
اس پر سیدنا عثمانؓ نے اس کی پٹائی کرا دی۔ کسی نے اس پر اعتراض کیا تو اس سے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ تو اپنے چچا کی تعظیم فرمائیں اور میں ان کی تحقیر کی اجازت دے دوں؟ اس آدمی کی اس گستاخی کو جو اچھا سمجھ رہا ہے وہ بھی حضورﷺ کی مخالفت کر رہا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمانؓ کے اس نئے قانون کو تمام صحابہؓ نے بہت پسند کیا (کہ حضورﷺ کے چچا کے گستاخ کی پٹائی ہو گئی)
(حیاۃ الصحابہؓ: جلد 2 صفحہ 571 بحوالہ منتخب الکنز: جلد 5 صفحہ 213)
7: صحیح مسئلہ بتانے کا اہتمام:حضرت سعید بن سفیان قاریؒ کہتے ہیں میرے بھائی کا انتقال ہو گیا اور اس نے وصیت کی سو دینار اللہ کے راستہ میں خرچ کیے جائیں۔ میں سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر سیدنا عثمانؓ سے میں نے عرض کیا اے امیر المومنین! میرے بھائی کا انتقال ہو گیا اور اس نے وصیت کی کہ اللہ کے راستہ میں سو دینار خرچ کیے جائیں۔ آپؓ ارشاد فرمائیں کہ میں اس کی وصیت کس طرح پوری کروں؟ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا کیا تم نے مجھ سے پہلے کسی اور سے یہ بات پوچھی ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو انہوں نے فرمایا اگر تم مجھ سے پہلے کسی اور سے یہ پوچھتے اور وہ یہ جواب نہ دیتا جو میں دینے لگا ہوں تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا (کہ تم نے اس جاہل سے کیوں پوچھا؟) اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کا حکم دیا تو ہم سب اسلام لے آئے اور (اللہ کا شکر ہے کہ) ہم سب مسلمان ہیں۔
پھر اللہ نے ہمیں ہجرت کا حکم دیا تو ہم نے ہجرت کی، چنانچہ ہم اہلِ مدینہ مہاجر ہیں۔ پھر اللہ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا تو (اس زمانے میں) تم نے جہاد کیا تو تم اہل شام مجاہد ہو۔ تم یہ سو دینار اپنے اور اپنے گھر والوں پر اور آس پاس کے ضرورت مندوں پر خرچ کر لو۔ کیوں کہ اگر تم ایک درہم لے کر گھر سے نکلو اور پھر اس کا گوشت خریدو اور پھر اسے تم بھی کھالو اور تمہارے گھر والے بھی کھا لیں تو تمہارے لیے سات سو درہم کا ثواب لکھا جائے گا (ضرورت کے وقت گھر والوں پر خرچ کرنے پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اسراف پر پکڑ ہو گی۔(حیاۃ الصحابہؓ: جلد 2 صفحہ 464 بحوالہ ابن عساكر: جلد 1 صفحہ 53)
8: عام مسلمانوں کی رائے کا خیال رکھنا:سیدنا عثمانؓ نے عبد اللہ بن ابی سرحؓ سے وعدہ کیا کہ افریقہ کی فتح کے صلہ میں مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ ان کو انعام دیا جائے گا۔ اس لیے (فتح کے بعد) عبد اللہ بن ابی سرحؓ نے اس وعدہ کے مطابق اپنا حصہ لے لیا لیکن عام مسلمانوں نے سیدنا عثمانؓ کی اس فیاضی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا سیدنا عثمانؓ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے عبد اللہ بن ابی سرحؓ سے اس رقم کو واپس کرا دیا اور فرمایا کہ میں نے بے شک وعدہ کیا تھا لیکن مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرتے (اس لیے مجبوری ہے)
(خلفائے راشدینؓ: صفحہ 188 بحوالہ طبری: صفحہ 815)
9: خیانت پر داماد کو معزول کرنا:
سیدنا عثمانؓ نے اپنے چچازاد بھائی اور داماد کو محتسب مقرر کیا تھا یعنی ان کا کام یہ تھا کہ بازار میں اشیائے خرید و فروخت، ان کی قیمتوں اور دکان داروں کے باٹوں، پیمانوں اور سکوں کی نگرانی رکھیں تا کہ بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدار) کسی کو شکایت کا موقع نہ ہو۔
لیکن اس رشتہ داری اور قرابت کے باوجود جب سیدنا عثمانؓ کو اس کا علم ہوا کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی امانت داری سے ادا نہیں کر رہے ہیں اور اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بازار کی بعض اشیاء انہوں نے اپنے لیے مخصوص کر لی ہیں تو سیدنا عثمانؓ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فوراً معزول کر دیا۔(سیدنا عثمانؓ ذو النورین: صفحہ 135، بحوالہ تاریخ الخمیس: جلد 2 صفحہ 268)
10: منصب کے لیے اہلیت و استعداد پرکھنا:سیدنا ابو حذیفہؓ قریش کے عالی نسب سرداروں میں سے تھے، سابقینِ اولین کے زمرہ مقدسہ میں شامل ہیں، محمد بن ابی حذیفہ اس عظیم باپ کا بیٹا تھا، ابھی نو عمر ہی تھے کہ سایہ پدری سے محروم ہو گئے۔ سیدنا عثمانؓ اسے منہ بولا بیٹا بنا کر اس کے کفیل اور مربی ہو گئے، جب آپ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو اسے کسی منصب اور عہدہ کی توقع تھی، لیکن یہ نوجوان جیسا کہ راویوں کا بیان ہے کہ دیانت داری پر مکمل کاربند نہ تھا، ایک روز اس نے سیدنا عثمانؓ سے مطالبہ کیا کہ اسے کسی منصب پر متعین کیا جائے۔ سیدنا عثمانؓ نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر مجھے تم میں اہلیت نظر آتی تو کہیں حاکم مقرر کر دیتا لیکن تم اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ جس پر یہ ناراض ہو کر چلا گیا (اور اس نے ان کے خلاف شورش کی اور سیدنا ابوبکرؓ کے چھوٹے بیٹے محمد بن ابی بکرؓ وغیرہ کو بھڑکایا)۔
(سیدنا عثمانؓ خلیفہ مظلوم: صفحہ 128)