کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے - ردِ…

کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 4

سوال 10:  کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے جیسا کہ شخصِ مذکور کا ماننا ہے اور اس قسم کا اعتقاد رکھنے والے شخص کے سلسلہ میں شریعتِ مطہرہ کا حکم کیا ہے۔

جواب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو صحابہ کرامؓ میں جو فضیلت اور عظمت حاصل ہے وہ اظهر من الشمس ہے وہ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ میں تھے، سیدنا ابو بکرؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا زید بن حارثہؓ کے بعد وہ چوتھے شخص تھے، جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ وہ ذو النورین تھے کہ حضور اکرمﷺ نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیوں کو ان کے نکاح میں دیا اور فرمایا (جب سیدہ امِ کلثومؓ کا انتقال ہو گیا) ”اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو انہیں یکے بعد سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دے دیتا۔“ وہ غنی تھے کہ انہوں نے اپنی ساری دولت کو دین اور ملت کی نذر کر دیا۔ اور سخت احتیاج اور ضرورت کے وقت ملتِ اسلامیہ کی کشتی کی آبیاری کی۔ ان ہی کے لیے رسولِ اکرمﷺ نے ”بیعۃ الرضوان“ لی۔ انہیں کاتبِ وحی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کو مسجد الحرام کی توسیع کرانے کی سعادت میسر آئی۔ انہوں نے تمام عالمِ اسلام کو ایک مصحف اور قرأت پر جمع کیا اور جامع القرآن کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ان کی سیرت کے غیر معمولی اوصاف کے پیشِ نظر امت نے ان کے لیے ”کامل الحیاء والایمان“ کے الفاظ استعمال کیے۔ ان کے عہد کی فتوحات تاریخِ اسلام کا ایک شاندار باب ہیں۔ انہوں نے آرمینیہ، آذربائیجان، ایشیائے کوچک، ترکستان، کابل، سندھ، قبرص اور اسپین وغیرہ میں عربوں کے سیاسی اقتدار کے لیے راہیں ہموار کر دی تھیں۔ ان ہی کے زمانے میں بحری طاقت منظم ہوئی۔

زندگی کے کتنے ہی مختلف النوع گوشے ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنی سیرت کے غیر فانی نقوش چھوڑے۔ سیدنا عثمانؓ کے زمانہ میں ملتِ اسلامیہ کو فتنوں نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا۔ سازشوں کا ہر طرف جال بچھا ہوا تھا۔ باغی آمادہ پیکار گھوم رہے تھے۔ سیدنا عثمانؓ نے تمام حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور ملت کو انتشار اور ابتری سے بچانے کے لیے نہ صرف ہر صعوبت اور اذیت کو برداشت کیا۔ بلکہ بخوشی اپنا سر دے دیا۔ باغیوں کا مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ عدم استطاعت کی بناء پر نہ تھا، بلکہ ملت کے وسیع تر مفاد کے پیشِ نظر تھا۔

اس پر سیر حاصل کلام اور معترضین کے جوابات کے لیے علماء ربانیین نے کتب تحریر فرمائی ہیں۔

نام ونسب اور خاندان:

عثمان نام، ابو عبد اللہ اور ابو عمرو کنیت، والد کا نام عفان اور والدہ کا نام ارویٰ تھا، قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مجد و شرف اور عزت و وجاہت کے اعتبار سے بنو ہاشم کے بعد انہیں کا مرتبہ تھا۔ حرب فجار (یہ جنگ قریش اور قیس کے درمیان ہوئی تھی۔ قریش کے تمام خاندانوں کے فوجی دستے الگ الگ تھے۔ آلِ ہاشم کا فوجی دستہ زبیرؓ بن عبد المطلب کے کمانڈ میں تھا اور آنحضرتﷺ اسی دستے میں شامل تھے۔ بڑے زور کا معرکہ ہوا اور آخر کار صلح پر خاتمہ ہو گیا) میں جو شخص سپہ سالارِ اعظم کی حیثیت رکھتا تھا وہ اسی خاندان کا ایک نامور سردار حرب بن امیہ تھا۔ سیدنا عثمانؓ کا سلسلہ نسب والد اور والدہ دونوں کے طرف سے پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرتﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے پھر اس پر مزید یہ کہ سیدنا عثمانؓ کی نانی ام حکیم (یا حکم) بیضاء بنت عبد المطلب آنحضرتﷺ‎ کی پھوپھی تھیں۔

سیدنا عثمانؓ ہجرتِ مدینہ سے 47 برس قبل بمطابق 577ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ مکہ کے ان چند اور نمایاں لوگوں میں تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

قریش کا عام پیشہ تجارت تھا۔ اس میں انہوں نے بڑی ناموری حاصل کی تھی۔ قرآنِ مجید کی سورہ ایلاف میں گرمی اور سردی کے موسم میں قریش کے تجارتی قافلوں کا ذکر ہے، قریش کے اسی عام مذاق کے باعث سیدنا عثمانؓ نے بھی تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا اور ایک شیخ ربیعہ بن حارث کی شرکت میں کپڑے کا کاروبار بہت بڑے پیمانہ پر شروع کر دیا۔ اس میں انہوں نے وہ کامیابی اور شہرت حاصل کی کہ ان کا لقب ہی عثمان غنی ہو گیا۔

سیدنا عثمانؓ فطرتاً بڑے حلیم، سخی اور اعلیٰ اخلاق و فضائل کے انسان تھے۔ اسی بناء پر قریش میں نہایت معزز و محترم تھے اور قریش ان سے اتنی محبت کرتے تھے کہ وہ ضرب المثل بن گئی تھی۔ چنانچہ عرب کہا کرتے تھے

”احبک والرحمٰن حب قریش عثمان“

ترجمہ: بخدا میں تجھ سے ایسی محبت کرتا ہوں جیسی محبت قریش عثمان سے کرتے ہیں۔

سیدنا عثمانؓ فطرتاً بڑے نیک، راست باز اور ایمان دار تھے۔ شراب عرب کی گھٹی میں پڑی تھی، جو لوگ پیتے تھے فخر کرتے اور نہ پینے والے کو طعن کرتے کیونکہ ان کے نزدیک شراب نہ پینا بخل کی علامت تھا۔

لیکن اس ماحول میں دولت و ثروت کے ساتھ رہنے کے باوجود آپؓ ان چند اکابرِ قریش (مثلاً سیدنا عباسؓ، سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ وغیرہ) میں سے تھے جو سلیم الفطرت ہونے کے باعث شراب سے نفرت کرتے تھے۔ اسی طرح گانا بجانا، لہو و لعب اور زنا کاری عرب کے پسندیدہ مشاغل میں تھے۔ لیکن سیدنا عثمانؓ ان سب چیزوں سے بھی طبعاً مجتنب تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا میں نے عہدِ جاہلیت میں یا اسلام میں نہ کبھی زنا کیا ہے نہ شراب پی ہے اور نہ گانا بجایا ہے۔

طبیعت کی اس نیکی اور حق پرستی کے باعث مکہ مکرمہ میں پہلے پہل جب اسلام کا غلغلہ بلند ہوا اور یہ صدائے روح نواز فردوس گوش ہوئی تو آپؓ فوراً مشرف بہ اسلام ہو گئے۔

خود ان کے بیان کے مطابق اسلام قبول کرنے والے مردوں میں ان کا نمبر چوتھا تھا۔ بڑے پیمانہ پر تجارت کے باعث دولت مند شروع سے ہی تھے۔ اس لیے وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ کے حکم کے مطابق اللہ کی نعمتوں سے استفادہ آپ کی طبیعت کا شیوہ تھا۔ چنانچہ لباس بھی عمدہ قسم کا استعمال کرتے تھے۔ اس زمانہ میں یمنی چادریں بہت وقیع اور قیمتی سمجھی جاتی تھیں۔ آپؓ انہیں اوڑھتے تھے۔ عموماً یہ چادریں زرد رنگ کی ہوتی تھیں اور ان کی قیمت سو درہم کے لگ بھگ ہوتی تھی۔ آپ اپنے لباس میں بھی سنت کا خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ آدھی پنڈلی تک لنگی باندھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے محبوبﷺ کی لنگی ایسی ہوا کرتی تھی۔

صفحہ 1 از 4