کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے - ردِ…

کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 4

اسلام نے اس فطرت کو چمکا کر مجلیٰ اور مصفیٰ کر دیا تھا۔ اس بناء پر دینی عزتِ نفس اور خودداری آپ میں حد درجہ کی تھی کہ نازک سے نازک موقع پر بھی آپؓ میں لچک پیدا نہیں ہوتی تھی۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو۔ مبادا وہ وقت آ جائے کہ تمہارے بروں کو تم پر مسلط کر دیا جائے اور ان بروں کے خلاف نیک لوگ بد دعا کریں اور وہ قبول نہ کی جائے۔

حضورﷺ کی صحبت و تربیت نے سیدنا عثمانؓ کی سیرت کی تشکیل اور کردار کی تعمیر اس حد تک کی کہ آپ حضورﷺ کے رنگ میں رنگے گئے۔ آپؓ کی خصلات انبیاء علیہم السلام کے طرز پر تھیں۔ ابن عساکرؒ نے سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عثمانؓ سب صحابہؓ سے خلق میں مجھ سے زیادہ مشابہ ہیں۔

اگر اسلام میں ہر فعل جو احکامِ خداوندی کے ماتحت ہو اور جس کا مقصد حصولِ رضائے الٰہی ہو دینی اور مذہبی فعل ہے اور اس لیے سیدنا عثمانؓ کے تمام کارنامے دینی کارنامے ہیں۔ تاہم سب سے بڑا اور نہایت عظیم الشان دینی کارنامہ مصحفِ عثمانی کی ترتیب و تدوین ہے۔ یہی وہ کارنامہ ہے جس کے باعث قرآن جیسا نازل ہوا تھا ویسا ہی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

سیدنا عثمانؓ کو تحریر و انشاء میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ کی تحریریں خطوط کی شکل میں حدیث و تاریخ اور ادب کی کتابوں میں محفوظ ہیں (جو کہ اب اردو میں ”سیدنا عثمانؓ کے سرکاری خطوط“ مصنفہ پروفیسر خورشید احمد صدر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی کے نام سے منظرِ عام پر آ چکے ہیں) ان پر نگاه ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ کلام ما قل و دل کا مصداق ہوتا ہے۔ الفاظ مرصع اور جملے کے جملے فصاحت و بلاغت کی جان اور نہایت موثر و دلنشین ہوتے ہیں۔

سیدنا عثمانؓ نے اپنی خلافت علی منہاج النبوت پر قائم و دائم رکھی۔ مجلسِ شوریٰ بالکل اسی طرح برقرار رکھی جس طرح آپؓ سے پیشتر خلفاء کے دور میں تھی۔

اہم امور میں آپؓ تمام اکابر صحابہؓ، مشیرانِ خلافت اور ضرورت پڑنے پر امہات المؤمنینؓ سے بھی مشورہ لیتے۔

علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں۔ جب سیدنا عثمانؓ کی خلافت کا دور آتا ہے تو مشرق و مغرب کی انتہاء تک خدا کا دین پھیل جاتا ہے۔ خدائی لشکر ایک طرف اقصیٰ مشرق تک اور دوسری طرف انتہاءمغرب تک پہنچ کر دم لیتے ہیں اور مجاہدین کی آبدار تلواریں خدا کی توحید کو دنیا کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں پہنچا دیتی ہیں۔ اندلس، قیروان، سیقہ یہاں تک کہ چین تک آپ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔

دوسری طرف مدائن، عراق، خراسان، اہواز سب فتح ہوئے۔ ترکوں سے جنگِ عظیم ہوئی۔ آخر ان کا بڑا بادشاہ خاقان خاک میں مل کر ذلیل و خوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہِ خلافتِ عثمانؓ میں پہنچوائے۔ آپؓ کے زمانے کو دیکھیے اور اللہ کے رسولﷺ کی پیشین گوئی کو دیکھیے کہ آپﷺ نے فرمایا تھا "زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی ہے یہاں تک کہ میں نے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔ عنقریب میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک اس وقت مجھے دکھائی گئی ہے"

کتابتِ وحی:چونکہ سیدنا عثمانؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ لہٰذا اسلام لانے کے بعد آپؓ کو کتابتِ وحی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ سیدہ عائشہؓ کی روایت ہے کہ میں نے خود سیدنا عثمانؓ کو اس گھر میں دیکھا ہے کہ رات کے وقت گرمی کے موسم میں حضورﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے حضورﷺ حسبِ معمول گرانی محسوس کر رہے ہیں اور سیدنا عثمانؓ آپﷺ کے حکم سے وحی لکھ رہے ہیں۔ اپنا یہ مشاہدہ بیان کرنے کے بعد ام المومنینؓ نے فرمایا: ظاہر ہے رسول اللہﷺ سے اس درجہ قرب و اختصاص کا شرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو عطا فرما سکتا ہے جو اعلیٰ اخلاق و صفات کا انسان ہو۔

یہ بات پہلے عرض کی جا چکی ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ سے بدگمانی رکھنا، ان کو برا کہنا قرآنِ مجید کی صریح مخالفت اور شریعتِ الٰہیہ سے کھلی ہوئی بغاوت ہے اور ایسے شخص کے کفر کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ جو بد باطن شخص خلیفہ راشد اور دامادِ رسول سیدنا عثمانؓ کے بارے میں زبان طعن دراز کرے وہ اس وعید کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہو گا۔

طبیعت کا سخت و نرم ہونا ایک فطری، طبعی اور غیر اختیاری امر ہے، اس بناء پر کسی کو بھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ چنانچہ ذیل کے چند واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپؓ نے امورِ سلطنت میں قطعاً کسی نرمی، تساہل اور جانب داری سے کام نہیں لیا، جو لوگ آپؓ پر کیچڑ اچھال کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں وہ ان واقعات کو عبرت کی نگاہ سے پڑھیں اور انصاف کی نظر سے فیصلہ کریں۔

1: امارت سے استغناء:سیدنا طلحہؓ اس دن (سفر سے) تشریف لائے جس دن سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تھی، اس موقع پر لوگوں نے کہا کہ تم بھی بیعت کر لو تو وہ پوچھنے لگے کہ تمام اہل قریش نے ان کی حمایت کی ہے؟ وہ بولے ہاں اس کے بعد وہ سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا عثمانؓ نے ان سے فرمایا: تمہیں اس معاملہ کا اختیار ہے اگر تم انکار کرو گے تو میں اس معاملہ کو لوٹا دوں گا۔

وہ بولے کیا آپؓ لوٹا دیں گے؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں، پھر پوچھا کہ کیا تمام لوگوں نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں، اس پر وہ بولے: میں بھی بیعت کرنے پر رضا مند ہوں اور میں لوگوں کے متفقہ فیصلہ سے الگ رہنا نہیں چاہتا یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی۔(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 245)

2: دوسروں سے نصیحت چاہنا:حمران بن ابان روایت کرتے ہیں کہ خلافت کی بیعت کے بعد امیر المومنین سیدنا عثمانؓ نے مجھے سیدنا عباسؓ کی طرف بھیجا کہ انہیں بلا کر لاؤں، جب وہ تشریف لائے تو سیدنا عثمانؓ نے ان سے فرمایا: مجھے آپؓ کی نصیحت کی آج سخت ضرورت ہے۔ سیدنا عباسؓ نے فرمایا آپؓ مندرجہ ذیل پانچ باتوں پر سختی کے ساتھ عمل کریں تو قوم آپؓ کی کبھی مخالفت نہیں کرے گی، آپؓ نے فرمایا وہ کیا ہیں؟ سیدنا عباسؓ نے فرمایا:

1: قتل سے صبر کرنا 

2: لوگوں سے محبت کرنا 

3: لوگوں سے درگزر کا معاملہ کرنا 

4: نرمی اختیار کرنا 

5: راز کو پوشیدہ رکھنا۔ 

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 408) 

صفحہ 2 از 4