کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے - ردِ…

کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 3 از 4

3: تجدیدِ کعبہ کے لیے سختی کرنا:سنہ 26 ہجری میں سیدنا عثمانؓ نے حرمِ کعبہ کی تجدید اور توسیع کا حکم دیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جماعت سے کچھ زمین خریدی، جب کہ کچھ لوگوں نے اپنی زمینیں فروخت کرنے سے انکار کیا تو آپؓ نے ان کی عمارتیں گرا دیں اور ان کی قیمتیں بیت المال میں جمع کرا دیں، بعد میں ان لوگوں نے سیدنا عثمانؓ کے پاس آ کر چیخ و پکار کی تو آپؓ نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم لوگوں کو میری شرافت اور میرے حکم کی وجہ سے مجھ پر چلانے کی جسارت ہوئی ہے، جب کہ تمہارے ساتھ سیدنا عمرؓ نے اس قسم کی کارروائی کی تو تم ان پر نہیں چلاتے تھے، آخر کار عبد اللہ بن خالد بن اسید کی سفارش پر انہیں رہا کر دیا گیا۔(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 258)

4: برائی کا قلع قمع کرنا:حکیم بن عباد روایت کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں جب دنیاوی خوشحالی آئی اور لوگوں کے پاس دولت کی فراوانی ہوئی تو دولت مندی انتہاء تک پہنچی تو وہاں سب سے پہلے جو برائی رونما ہوئی تو وہ کبوتروں کو اڑانا اور مختلف چیزوں کی نشانہ بازی تھی، سیدنا عثمانؓ نے لوگوں کی اس بے راہ روی کو روکنے کی خاطر اپنی خلافت کے آٹھویں سال قبیلہ لیث کے ایک شخص کو مقرر کیا کہ وہ ان کبوتروں کے پر کاٹے اور نشانہ بازی کے مراکز کو ختم کرے۔ (تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 406)

5: اعمالِ سحر پر گرفت:محمد اور طلحہ کی روایت ہے کہ ابن ذی الحبکہ نہدی نیرنج جادو کا کام کیا کرتا تھا، جب سیدنا عثمانؓ کو اس کے اس کام کے بارے میں اطلاع ہوئی تو آپؓ نے ولید بن عقبہؓ کو لکھا کہ اس بارے میں ابن ذی الحبکہ سے پوچھا جائے اگر وہ اقرار کرے تو اسے سخت سزا دی جائے، چنانچہ ولید بن عقبہ ؓنے انہیں بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا ہاں یہ عجیب و غریب شعبدہ بازی کا کام ہے اور اقرار کیا تو ولید بن عقبہ ؓنے انہیں سزا دینے کا حکم دیا اور عوام کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کے سامنے سیدنا عثمانؓ کے خط کو پڑھ کر سنایا گیا کہ ”یہ معاملہ نہایت سنجیدہ اور سنگین ہے اس لیے تم لوگ بھی سنجیدگی اختیار کرو اور ہنسی مذاق اور دل لگی سے بچو، لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ سیدنا عثمان غنیؓ تک اس کی اطلاع کیسے پہنچی؟

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 410)

6: اہلِ بیتؓ کی تعظیم اور ان سے محبت:سیدنا قاسم بن محمدؒ کہتے ہیں سیدنا عثمانؓ نے جو بہت سے نئے قانون بنائے ان میں سے ایک قانون یہ تھا کہ ایک آدمی نے ایک جھگڑے میں سیدنا عباسؓ کے ساتھ حقارت آمیز معاملہ کیا۔

اس پر سیدنا عثمانؓ نے اس کی پٹائی کرا دی۔ کسی نے اس پر اعتراض کیا تو اس سے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ‎ تو اپنے چچا کی تعظیم فرمائیں اور میں ان کی تحقیر کی اجازت دے دوں؟ اس آدمی کی اس گستاخی کو جو اچھا سمجھ رہا ہے وہ بھی حضورﷺ کی مخالفت کر رہا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمانؓ کے اس نئے قانون کو تمام صحابہؓ نے بہت پسند کیا (کہ حضورﷺ کے چچا کے گستاخ کی پٹائی ہو گئی)

(حیاۃ الصحابہؓ: جلد 2 صفحہ 571 بحوالہ منتخب الکنز: جلد 5 صفحہ 213)

7: صحیح مسئلہ بتانے کا اہتمام:حضرت سعید بن سفیان قاریؒ کہتے ہیں میرے بھائی کا انتقال ہو گیا اور اس نے وصیت کی سو دینار اللہ کے راستہ میں خرچ کیے جائیں۔ میں سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر سیدنا عثمانؓ سے میں نے عرض کیا اے امیر المومنین! میرے بھائی کا انتقال ہو گیا اور اس نے وصیت کی کہ اللہ کے راستہ میں سو دینار خرچ کیے جائیں۔ آپؓ ارشاد فرمائیں کہ میں اس کی وصیت کس طرح پوری کروں؟ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا کیا تم نے مجھ سے پہلے کسی اور سے یہ بات پوچھی ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو انہوں نے فرمایا اگر تم مجھ سے پہلے کسی اور سے یہ پوچھتے اور وہ یہ جواب نہ دیتا جو میں دینے لگا ہوں تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا (کہ تم نے اس جاہل سے کیوں پوچھا؟) اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کا حکم دیا تو ہم سب اسلام لے آئے اور (اللہ کا شکر ہے کہ) ہم سب مسلمان ہیں۔

پھر اللہ نے ہمیں ہجرت کا حکم دیا تو ہم نے ہجرت کی، چنانچہ ہم اہلِ مدینہ مہاجر ہیں۔ پھر اللہ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا تو (اس زمانے میں) تم نے جہاد کیا تو تم اہل شام مجاہد ہو۔ تم یہ سو دینار اپنے اور اپنے گھر والوں پر اور آس پاس کے ضرورت مندوں پر خرچ کر لو۔ کیوں کہ اگر تم ایک درہم لے کر گھر سے نکلو اور پھر اس کا گوشت خریدو اور پھر اسے تم بھی کھالو اور تمہارے گھر والے بھی کھا لیں تو تمہارے لیے سات سو درہم کا ثواب لکھا جائے گا (ضرورت کے وقت گھر والوں پر خرچ کرنے پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اسراف پر پکڑ ہو گی۔(حیاۃ الصحابہؓ: جلد 2 صفحہ 464 بحوالہ ابن عساكر: جلد 1 صفحہ 53)

8: عام مسلمانوں کی رائے کا خیال رکھنا:سیدنا عثمانؓ نے عبد اللہ بن ابی سرحؓ سے وعدہ کیا کہ افریقہ کی فتح کے صلہ میں مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ ان کو انعام دیا جائے گا۔ اس لیے (فتح کے بعد) عبد اللہ بن ابی سرحؓ نے اس وعدہ کے مطابق اپنا حصہ لے لیا لیکن عام مسلمانوں نے سیدنا عثمانؓ کی اس فیاضی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا سیدنا عثمانؓ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے عبد اللہ بن ابی سرحؓ سے اس رقم کو واپس کرا دیا اور فرمایا کہ میں نے بے شک وعدہ کیا تھا لیکن مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرتے (اس لیے مجبوری ہے) 

(خلفائے راشدینؓ: صفحہ 188 بحوالہ طبری: صفحہ 815)

9: خیانت پر داماد کو معزول کرنا:

سیدنا عثمانؓ نے اپنے چچازاد بھائی اور داماد کو محتسب مقرر کیا تھا یعنی ان کا کام یہ تھا کہ بازار میں اشیائے خرید و فروخت، ان کی قیمتوں اور دکان داروں کے باٹوں، پیمانوں اور سکوں کی نگرانی رکھیں تا کہ بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدار) کسی کو شکایت کا موقع نہ ہو۔

صفحہ 3 از 4