کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے - ردِ…

کیا سیدنا عثمانؓ دوسروں کے دباؤ میں فیصلے لیتے تھے

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 4 از 4

لیکن اس رشتہ داری اور قرابت کے باوجود جب سیدنا عثمانؓ کو اس کا علم ہوا کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی امانت داری سے ادا نہیں کر رہے ہیں اور اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بازار کی بعض اشیاء انہوں نے اپنے لیے مخصوص کر لی ہیں تو سیدنا عثمانؓ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فوراً معزول کر دیا۔(سیدنا عثمانؓ ذو النورین: صفحہ 135، بحوالہ تاریخ الخمیس: جلد 2 صفحہ 268)

10: منصب کے لیے اہلیت و استعداد پرکھنا:سیدنا ابو حذیفہؓ قریش کے عالی نسب سرداروں میں سے تھے، سابقینِ اولین کے زمرہ مقدسہ میں شامل ہیں، محمد بن ابی حذیفہ اس عظیم باپ کا بیٹا تھا، ابھی نو عمر ہی تھے کہ سایہ پدری سے محروم ہو گئے۔ سیدنا عثمانؓ اسے منہ بولا بیٹا بنا کر اس کے کفیل اور مربی ہو گئے، جب آپ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو اسے کسی منصب اور عہدہ کی توقع تھی، لیکن یہ نوجوان جیسا کہ راویوں کا بیان ہے کہ دیانت داری پر مکمل کاربند نہ تھا، ایک روز اس نے سیدنا عثمانؓ سے مطالبہ کیا کہ اسے کسی منصب پر متعین کیا جائے۔ سیدنا عثمانؓ نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر مجھے تم میں اہلیت نظر آتی تو کہیں حاکم مقرر کر دیتا لیکن تم اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ جس پر یہ ناراض ہو کر چلا گیا (اور اس نے ان کے خلاف شورش کی اور سیدنا ابوبکرؓ کے چھوٹے بیٹے محمد بن ابی بکرؓ وغیرہ کو بھڑکایا)۔

(سیدنا عثمانؓ خلیفہ مظلوم: صفحہ 128)


صفحہ 4 از 4