شیعہ کے ذبیحہ کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کے ذبیحہ کا حکم


صفحہ 2 از 2

اس انتہائی مکار، عیار، تخریب کار، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت مصروفِ کار، دغابازی و فریب دہی کے فن میں ہر زمانے میں پوری دنیا میں اول نمبر مشہور اور ماہر یہود نژاد قوم کو، جس کے مذہب کی بنیاد ہی مکر و فریب اور اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف بغض و عناد و تخریب کاری پر ہے، اور ایسی شاطرانہ، رو بہ صفت نسل کو اپنے بچوں کی ذہنی تربیت اور ان کے دل و دماغ میں اپنے مذہب کی بنیادیں اُتارنے کی کوشش و محنت میں مسلمانوں سے کم سمجھنا صرف سادہ لوحی ہی نہیں بلکہ پرلے درجے کی حماقت اور انتہائی فریب خوردگی ہے۔

ان مردودوں کے دین و ایمان کی بنیاد ہی تقیہ پر ہے۔ اس لیے اگر کوئی شیعہ قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو یقیناً وہ تقیہ کر رہا ہے۔ اس کی مثالیں خود ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ 

جب ان پر ان کی کتابیں پیش کی جاتی ہیں تو جواب دیتے ہیں کہ: ہم میں سے ہر شخص مجتہد ہے، اس لیے جس مصنف نے تحریفِ قرآن کا قول کیا ہے وہ اس کا اپنا اجتہاد ہے جو ہم پر حجت نہیں۔

ایسی صورت میں ان کے تقیہ کا پول کھولنے کے دو طریقے ہیں:

پہلا طریقہ:

عقیدہ تحریفِ قرآن اصولِ کافی میں بھی موجود ہے۔ اور اس کتاب کے بارے میں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ امامِ مہدی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ لوگ امام مہدی کی تصدیق اس کتاب کے سرورق کی پیشانی پر چھاپتے ہیں۔ اور ان کے عقیدے کے مطابق ان کا ہر امام غلطی سے معصوم اور عالم الغیب ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی افضل ہے۔ اس لیے ان کا اصولِ کافی کے فیصلے سے انکار کرنا اپنے امام کی عصمت اور اس کے علمِ غیب سے انکار کرنا ہے۔

دوسرا طریقہ:

ان کے جن مصنفین نے تحریفِ قرآن کا قول کیا ہے، یہ ان سب کو کافر کہیں اور ایسی تمام کتابیں جلا ڈالیں، پھر اپنے اس قول و فعل کا اخباروں میں اشتہار دیں۔

میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی شیعہ بھی اس پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ جو شخص بھی چاہے اس کا تجربہ کر کے دیکھ لے۔ 

میں نے کئی شہروں میں خاص طور پر ان مردودوں کے محلوں میں، ان کے امام باڑوں کے سامنے جا کر بڑے بڑے جلسوں میں بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ: 

جو شیعہ اصولِ کافی کو مجمع میں پھاڑ کر جلائے اور اس کے مصنف کو کافر کہے، پھر اپنے اس قول و فعل کا اخباروں میں اشتہار دے تو میں اسے ایک لاکھ روپے دوں گا۔ جتنے شیعہ بھی اعلان کرتے جائیں گے ہر ایک کو ایک لاکھ روپے دیتا جاؤں گا۔ مگر آج تک کوئی ایک شیعہ بھی ایسا پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہو سکتا ہے۔

کیا اس کے بعد بھی کسی کو اس حقیقت میں کسی قسم کے تأمل کی کوئی گنجائش نظر آ سکتی ہے کہ بلا استثناء شیعہ کا ہر فرد کافر اور زندیق ہے؟  

(احسن الفتاویٰ: جلد 10 صفحہ 36)


صفحہ 2 از 2