روافض کا ذبیحہ مجبوری میں کھانے کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع…

روافض کا ذبیحہ مجبوری میں کھانے کا حکم


سوال: علاقہ لداخ کے اندر مسلمانوں کے مقابلے میں روافض کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ہوٹل روافض کے ہیں، جن کی وجہ سے ان کے ہوٹلوں پر کھانا کھانا پڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے تیار کردہ گوشت کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہیں؟

جواب:  اگر ان کے متعلق یہ تحقیق نہیں کہ ان کے عقائد قرآنِ کریم کے خلاف ہیں تو ان کے ہوٹل میں اور ان کا ذبیحہ کھانے کی گنجائش ہے۔ 

البتہ اگر ان کے عقائد نصوصِ قطعیہ کے خلاف ہوں، مثلاً قذفِ سیدہ عائشہ صدیقہؓ، تحریفِ قرآن اور الوہیتِ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہوں تو وہ کافر ہیں اور ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔  

(فتاویٰ محمودیہ: جلد 17 صفحہ 236)