خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کو (معاذاللہ) منافق کہنے والے…

خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کو (معاذاللہ) منافق کہنے والے روافض اور ان کے ذبیحہ کا حکم


سوال 1: اس بارے میں شرع کیا ہے کہ جو روافض قرآنِ پاک کو محرف نہیں سمجھتے، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحبت سے انکار نہیں کرتے اور نہ قائلِ افک ہوں، لیکن بعض تاویلاتِ فاسدہ اور روایاتِ کتبِ شیعہ کی بناء پر خلفائے ثلاثہؓ کو منافق سمجھتے ہیں اور نصوص و فضائلِ خلفائے ثلاثہؓ میں تاویل کرتے ہیں۔ تو ایسے رافضی کو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کو منافق کہنے کی بناء پر محققین علمائے اہلِ سنت کے نزدیک کفر و ارتداد کا حکم دیا جائے گا یا نہیں؟

2:  زید کہتا ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ کو منافق کہنے والا کافر و مرتد ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس لیے کہ محقق اہلِ سنت کے نزدیک بھی نصِ قطعی کا منکر کافر و مرتد ہے۔ اور خلفائے ثلاثہؓ کا ایمان نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ اس لیے خلفائے ثلاثہؓ کے ایمان کا منکر اور ان کے نفاق کا قائل بالاتفاق کافر و مرتد ہے۔ اس کی بیوی کو طلاق لیے بغیر دوسرے فرد سے نکاح کرنا جائز ہے اور اس کا ذبیحہ حرام ہے۔ کیا یہ قول زید کا درست ہے؟

جواب: 1:  حضرت صدیقِ اکبرؓ کو صحابی تسلیم کرنے کے باوجود ان کو منافق سمجھنا صریح تضاد اور انتہائی تلبیس ہے۔ اس قسم کے شیعہ ایمان سے خارج ہیں۔

2:  یہ شیعہ ایمان سے خارج ہیں۔ اگر اس نے ایمانِ صحیح اختیار کرنے کے بعد یہ مذہب اختیار کیا ہے تو اس کی سابقہ بیوی کا نکاح فسخ ہو گیا اور دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، طلاق کی ضرورت نہیں۔ اور اس کا ذبیحہ درست نہیں، اس لیے کہ ذبح کرنے والے میں ایک شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو۔  

(فتاویٰ محمودیہ: جلد  21 صفحہ  100)