اگر جانور مر رہا ہو تو شیعہ کا ذبح کرنا - فتاویٰ جات | دفاع…

اگر جانور مر رہا ہو تو شیعہ کا ذبح کرنا


سوال:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک بیل پر ہل چلاتے وقت اچانک موت ہو گئی تو اس وقت میں شیعہ مذہب کے علاوہ کوئی ایسا شخص مسلمان موجود نہیں تھا جس کو ذبح کرنے کا طریقہ آتا ہو، اور بوجہِ جہالت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ شیعہ مذہب سے ذبح کروانا نامناسب ہے۔ تو حالتِ اضطراری میں بوجہِ مجبوری اس سبّی شیعہ سے وہ بیل ذبح کرایا گیا۔ اس بیل کا کھانا حلال ہے یا حرام؟

جواب:  واضح رہے کہ جو شیعہ ضروریاتِ دین میں سے کسی مسئلہ ضروریہ کا منکر ہو، یعنی شیعہ غالی ہو، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت کا منکر ہو، یا افکِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قائل ہو، یا الوہیتِ سیدنا علیؓ کا قائل ہو وغیرہ ذالک، یا شیعہ تبرائی سبّی ہو جو سبِّ صحابہ کرامؓ کو جائز اور کارِ خیر سمجھتا ہو، تو ایسے شیعہ کافر ہیں۔ اس کا ذبیحہ حرام ہے۔ اور جو اس قسم کا غالی شیعہ نہ ہو، یعنی امورِ دین میں سے کسی مسئلہ ضروریہ کا منکر نہ ہو اور سبِّ صحابہؓ کو کارِ خیر نہ سمجھتا ہو، تو وہ مسلمان ہے اور اس کا ذبیحہ حلال ہے۔ ھکذا فی الشامیة۔ اس سے آپ کو صورتِ مسئولہ کا حکم معلوم ہو جائے گا۔  

(فتاویٰ مفتی محمود: جلد 9 صفحہ 545)