Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسنؓ کی وفات ، حضرت امیر معاویہؓ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

سوال: اس روایت پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کے بارے میں جو اعتراض کیے جاتے ہیں اسکا جواب ارسال کریں۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ بَحِيرٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ خَالِدٍ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، ‌‌‌‌‌‏وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، ‌‌‌‌‌‏وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، ‌‌‌‌‌‏فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‌‌‌‏ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ قَالَ لَهُ:‌‌‌‏ وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ هَذَا مِنِّي، ‌‌‌‌‌‏وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ الْأَسَدِيُّ:‌‌‌‏ جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَقَالَ الْمِقْدَامُ:‌‌‌‏ أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَالَ:‌‌‌‏ يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَكَذِّبْنِي، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ أَفْعَلُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:‌‌‌‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ خَالِدٌ:‌‌‌‏ فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، ‌‌‌‌‌‏فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ:‌‌‌‏ وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ .

مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں

سند میں راوی ہے بقیہ بن ولید  

بقیہ بن ولید مدلس ھے اور یہاں تدلیس کر رھا ھے ۔۔۔ تدلیس تسویہ میں مشہور ھے۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر میں حرام کام ہوتے تھے اور آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت پر کیا افسوس نہیں کیا یعنی آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون نہیں پڑھا یا خوش ہوئے ؟

نیم روافض و سبائی جو کہ اہل سنت کے لبادے میں موجود ہیں اکثر یہ حدیث پیش کرتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہے؛

مسندِ احمد کی حدیث

Musnad Ahmed Hadees # 12410

۔ (۱۲۴۱۰)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِی کَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ تُوُفِّیَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: أَتُرَاہَا مُصِیبَۃً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاہَا مُصِیبَۃً؟ وَقَدْ وَضَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حِجْرِہِ، وَقَالَ: ((ہٰذَا مِنِّی وَحُسَیْنٌ مِنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۲۱)

سیدنا مقدام بن معدی کرب اور سیدنا عمرو بن اسود معاویہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما  کی خدمت میں گئے، سیدنا معاویہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مقدام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ   سے کہا: کیاآپ کو معلوم ہے کہ حسن بن علی  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کا انتقال ہوگیا ہے؟ یہ سن کر مقدام نے اِنَّا لِلّٰہِ وَِاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون پڑھا، سیدنا معاویہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  نے ان سے کہا: کیا آپ اس واقعہ کو مصیبت خیال کرتے ہیں؟ سیدنا مقدام نے کہا:میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں،جبکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے انہیں اپنی گودمیں بٹھایا اور فرمایا تھا:  یہ حسن میرا ہے اور حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کا ہے۔

یہ روایت سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔
اس روایت میں بقیہ بن ولید ہے اس کی روایت کو قبول کرنے کےلیے علماء نے پانچ شروط کا ذکر کیا ہے جیساکہ جرح تعديل کے عظیم عربی عالم الشیخ عبداللہ السعد اپنی کتاب الجرح والتعدیل میں اور الابانۃ کی انتہائی عظیم ترین، اور جامع ترین مقدمے میں بقیہ کے حوالے سے ان پانچ اصولوں کو بیان فرماتے ہیں ، ہم اپنی ترتیب کے ساتھ ان اصولوں کو ذکر کرتے ہوئے ان پر تفصیلی کلام کرتے ہیں.

اولا:
شيخ السعد فرماتے ہیں:

أن يكون الراوي عنه ثقة متيقِّظاً ويستحسن أن لا يكون حمصياً وذلك أن بقية قد يروي عن آخر ولا يصرح بالتحديث فيرويه الراوي عنه على أن بقية صرح بالتحديث بينه وبين شيخه وبقية لم يفعل ذلك وهذا إما أن يفعله الراوي عن بقية تعمّداً أو غفلة.

بقیہ سےبیاں کرنے والا ہوشیار (چکنہ) ثقہ راوی ہو اور مستحسن یہی ہے کہ وہ راوی حمصی نہ ہو کیونکہ بقیہ کبھی تصریح سماع کے بغیر روایت کرتا ہے اور اس سے سننے والا ( حمصی راوی) اس کو تصریح سماع سے روایت کردیتا ہے حالانکہ بقیہ نے تصریح سماع نہیں کیا ہوتا۔بقیہ سے بیان کرنے والا راوی یہ عمل یا تو جان بوجھ کر کرتا ہے یا غفلت کے بنیاد پر.
موجودہ روایت کو بقیۃ اھل حمص سے ہی بیان کر رہے ہیں اور اھل حمص سے بقیہ کی روایات کے بارے میں اصول آپ نے پڑھا کہ ، ظاہرا سماع کی صراحت ہو پھر بھی روایت مردود سمجھی جائے گی کیونکہ اھل حمص صیغہ تصریح سماع اور غیر تصریح میں فرق نہیں کرتے تھے۔ جیساکہ محدث ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ کا فرمان موجود ہے جب ان سے اس سند کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیسی ہے؟

رواه أبو تقي قال: ثني بقية قال حدثي عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع عن ابن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : " لا تبدءوا بالكلام قبل السلام فمن بدأ بالكلام قبل السلام فلا تجيبوه ".

اس سند میں بقیہ نے( حدثنی) کہا ہے۔
لیکن اس سند کے بارے میں ابو زرعہ رحمه اللہ فرماتے ہیں :

قال أبو زرعة: هذا حديث ليس له أصل ، لم يسمع بقية هذا الحديث من عبد العزيز إنما هـو عن أهل حمص وأهل حمص لا يميزون هذا. (العلل لابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ 2/331-332/ دوسرا نسخہ ج 6 ص2527 مسئلہ نمبر:2517 علل واخبار رویت فی الآداب والطب)

اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے،کیونکہ بقیہ نے اس حدیث کو عبدالعزیز سے نہیں سنا ،بیشک اسکی یہ روایت اھل حمص سے ہے اور اھل حمص صیغہ سماع کی تمیز نہیں کرتے( یعنی اھل حمص جب روایت کرتے ہیں توعدم سماع کےلیے بھی سماع والے صیغے ذکر کر دیتے ہیں).

ثانیاً::
شیخ السعد فرماتے ہیں:

إذا صرِّح بينه وبين شيخه بالتحديث۔

اپنے شیخ سے تصریح سماع کرے اور یہاں وہ نہیں ہے 
اگرچہ مسند احمد میں وہ موجود ہے لیکن بے فائدہ ہے کیونکہ وہاں بھی اس سے بیان کرنے والاعثمان الحمصی راوی ہی ہے اور اھل حمص کا بقیہ سے تصریح سماع بھی مردود ہے۔

ثالثاً:
شیخ السعد فرماتے ہیں:

إذا صرّح بالتحديث بين شيخه وشيخ شيخه لأنه أحياناً يدلّس تدليس التسوية.

اس کی روایت اس وقت قبول ہوگی جب وہ اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ کے درمیان صیغہ تصریح سماع ذکر کرے۔ (اور آگے پوری سند میں تصریح سماع ہو) کیونکہ وہ کبھی کبھار تدلیس تسویہ بھی کرتا تھا۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کے بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا تدلیس تسویہ کا مقصد یہ ہے کہ کوئی راوی ایک روایت اپنے ثقہ استاد سے سنے اور اس نے وہ روایت ضعیف سے سنی ہو اور اس ضعیعف کا استاد ثقہ ہو تو یہ راوی بیچ سے ضعیف کو گرا کر سند کو ایسے بنا دیتا ہے ثقہ سے ثقہ روایت کر رہا ہے اب پڑھنے سننے والا سند صحیح سمجھ لیتا کیونکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس ثقہ نے دوسرے ثقہ سے سنا ہوتا ہے لیکن یہ راوایت نہیں سنی ہوتی۔  

نوٹ : قدیم علماء کے ہاں اسکا نام تجوید تھا کہتے تھے جودہ فلان، سب سے پہلے علامہ ابن القطان الفاسی نے اسکا نام تدلیس تسویہ متعارف کرایا۔ قالہ السخاوی فی (فتح المغیث:ج ،1 ص 193/194)

بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا اس حوالے سے کئی علماء کے اقوال موجود ہیں، ہم چند کو ذکر کرتے ہیں۔

(1)ابو حاتم الرازي رحمه الله ایک کی سند پر بحث فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

فكان بقية ابن الوليد كني عبيد الله بن عمرو ونسبه الى بني أسد لكي لا يفتن به حتى اذا ترك اسحاق بن ابي فروۃ من الوسط لا يهتدي له وكان بقية من افعل الناس لهذا.
( العلل لابن ابی حاتم الرازی ج5 ص251 الرقم:1957)

مفہوم:
گویا کہ بقیہ بن ولید نے اس میں عبید اللہ بن عمرو کی کنیت بیان کی ہے اور اسے بنو اسد ( قبیلہ ) کی طرف منسوب کیا ہے تاکہ اسے پہچان نہ لیا جائے یہاں تک کہ اسحاق بن ابی فروہ کو درمیان سے گرا دیا ہے تاکہ اس کے بارے میں پتہ نہ چلے،اور بقیہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ یہ کام کرتا تھا۔
ابو حاتم رحمہ اللہ نے دلیل کے ساتھ بقیہ پر تدلیس کا حکم لگایا بلکہ کہا (افعل الناس) افعل صیغہ تفضیل ہے یعنی اس کا یہ کام بڑھ چڑھ کر ہوتا تھا ۔

نوٹ: مذکورہ سند میں جس راوی اسحاق کو اس نے گرایا ہے وہ سخت ضعیف ہے بلکہ بعض نے اسے کذاب اور متروک الحدیث تک کہا ہے، جو شخص درمیان سے ایسے کمزور شخص کو گرا سکتا ہے تاکہ لوگ اس کی روایت کو صحیح سمجھیں تو ایسے راوی کی پوری روایت میں تصریح سماع کی شرط لگانا ضروری ہے۔

(2)علامہ بدرالدین الزرکشی رحمۃ اللہ علیہ تدلیس تسویہ کا ذکر کرتےفرماتے ہیں:

ومن من اشتهر بهذا بقية بن الوليد.
( النکت علی ابن الصلاح ص193)

(3) حافظ محدث عبد الرحیم العراقی رحمہ اللہ بھی اس کو تدلیس تسویہ کرنے والوں میں ذکر کرتے ہیں۔

( فتح المغیث شرح الالفیہ للعراقی ص98)

(4) حافظ عمر بن علی المشھور بابن الملقن۔
اس کو تدلیس تسویہ کرنے والوں میں ذکر کرتے ہیں۔

( المقنع فی علوم الحدیث، النوع الثانی عشر معرفۃ التدلیس وحکم المدلس ص 110 )

(5)حافظ ابن حجر العسقلانی کا موقف۔

إن سلم من وهم بقية ففيه تدليسه تدليس التسوية، لأنه عنعن لشيخه۔
( التلخیص الحبیر ج2 ص163)

اگرچہ روایت بقیہ کے وہم سے سالم ہے لیکن اس میں اسکی تدلیس تسویہ موجود ہے کیونکہ اس نے اپنے استاد سے عنعنہ سے روایت بیان کی ہے۔
اس قول کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی برقرار رکھا ہے ( الاواء الغلیل ج3 89 )
حافظ ابن حجر ایک دوسری روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :

بقية صدوق، لكنه يدلس و يسوي، قد عنعنه عن شيخه و شيخ شيخه .

”بقیہ صدوق راوی ہے، لیکن تدلیس تسویہ کرتا تھا، اس نے اپنے استاذ اور استاذ کے استاذ سے بصیغہ عن روایت کی کیا ہے۔ “ [موافقه الخبر الخبر لابن حجر : 276/1 ]
(6) حافظ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس پر یہ حکم لگاتے تھے۔
( الکفایہ فی علم الروایہ / 316)
(7): امام ابو احمد الحاکم محدث خراسان ( یہ امام ابوعبداللہ الحاکم صاحب المستدرک کے استاد ثقہ، امام ہیں) بقیہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

(ثقۃ فی حدیثۃ إذا حدث عن الثقات بما یعرف لکنہ ربماروی عن أقوام مثل الأوزاعي و الزبیدي و عبید اللہ العمري أحادیث شبیھۃ بالموضوعۃ أخذھا عن محمد بن عبدالرحمن و یوسف بن السفر و غیر ھما من الضعفاء و یسقطھم من الوسط و یرویھا عن من حدثوہ بھا عنھم)

مفہوم :
جب وہ ان ثقہ راویوں سے روایتیں بیان کرے جو معروف ہیں ( صیغہ صراحت کے ساتھ)تو ثقہ ہے کیونکہ بعض اوقات وہ کچھ اھل علم مثلاً اوزاعی، زبیدی اور عبید اللہ العمری سے موضوعات کے مشابہ وہ احادیث بیان کرتا ہے جو اس نے محمد بن عبدالرحمن اور یوسف بن السفر و غیر ھما ضعیف راویوں سے حاصل کی تھیں وہ انہیں درمیان سے گرا کر ان سے حدیثیں بیان کرتا ہے جن سے انہوں نے اسے احادیث سنائی تھیں(تہذیب التہذیب ج1ص477) العلامہ الحافظ صلاح الدین ابوسعید العلائی۔

بقیۃ بن الولید مشھور بہ مکثر لہ عن الضعفاء یعانی التسویۃ التی تقدم ذکرھا۔
( جامع التحصیل للعلائی، ص105)

یعنی : بقیہ بن ولید ضعیف راویوں سے تدلیس تسویہ کرنے میں مشہور ہیں۔
اسی طرح دیگر کئی کبار علماء کے اقوال اس حوالے سے موجود ہیں جن کو ہم تفصیلی طور اپنی کتاب میں شایع کرینگے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
بقیہ کی کے مقبول یونے کےلیے دو اور بھی شرطیں شیخ السعد نے ذکر کیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ معروف ثقہ راوی سے بیان کر رہا ہو اور شامی راویوں میں سے بحیر بن سعد اور محمد بن زیاد الشامی راویوں سے بیان کرتا ہو۔
خلاصہ کلام:
بقیہ کی روایت کے قبول ہونے کےلیے مذکورہ پانچ شرطوں میں سے کوئی ایک بھی مفقود ہوئی تو اسکی روایت کو مردود اور ضعیف سمجھا جائے گا۔
اور یہاں تین شرطوں کا فقدان ہیں لھذا یہ روایت ضعیف ہے اور اسکی تین علتیں ہیں۔
پہلی علت
خود بقیہ مدلس ہے عن سے بیان کر رہا ہےاور مسند احمد میں اس کی روایت تصریح سماع سے موجود ہے ہے لیکن وہ بھی مردود سمجھی جائے گی کیونکہ حمصی راوی سے ہے۔ 
دوسری علت:
بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا لھذا پوری سند میں تصریح سماع ضروری ہے اور یہاں اس طرح نہیں ہے۔
تیسری علت:
اھل حمص جب اس سے روایت کریں تو روایت مردود سمجھی جائے گی کیونکہ وہ صیغہ تصریح کی تمیز نہیں کرتے۔
نوٹ: اس روایت کو علامہ شعیب الارناؤط رحمۃ اللہ علیہ نے مسند احمد کی تحقیق میں ضعیف کہا ہے۔
اس روایت کے حوالے سے دوسری اھم بات:
اگر اس روایت بالفرض والمحال اس حدیث کوصحیح مانیں اور کہیں کہ معاویہ رضی اللہ کے گھر میں یہ کام ہوتے تھے تو ، مرزا جھلمی کون ہوتا ہے جو معاویہ سے بخشش چھین لے ۔۔۔۔!!!
بشری تقاضہ کے مطابق ہر انسان سے غلطی صادر ہو سکتی ہے، اس حوالے معاویہ اور مسور رضی اللہ عنہما کا دلچسپ مکالمہ ملاحظہ ہو۔

عن عروة: أنَّ المِسْوَرَ بنَ مَخرَمةَ أخبَرَه أنَّه وفَدَ على مُعاويةَ، فقَضى حاجَتَه، ثم خَلا به، فقال: يا مِسوَرُ، ما فَعَلَ طَعنُكَ على الأئِمَّةِ؟ قال: دَعْنا مِن هذا وأحسِنْ. قال: لا واللهِ، لَتُكَلِّمَنِّي بذاتِ نَفْسِكَ بالذي تَعيبُ علَيَّ. قال مِسوَرٌ: فلم أترُكْ شَيئًا أعيبُه عليه إلّا بَيَّنتُ له. فقال: لا أبرَأُ مِن الذَّنبِ، فهل تَعُدُّ لنا يا مِسوَرُ ما نَلي مِنَ الإصلاحِ في أمْرِ العامَّةِ؛ فإنَّ الحَسَنةَ بعَشرِ أمثالِها، أم تَعُدُّ الذُّنوبَ، وتَترُكُ الإحسانَ؟ قال: ما تُذكَرُ إلّا الذُّنوبُ. قال مُعاويةُ: فإنّا نَعتَرِفُ للهِ بكُلِّ ذَنبٍ أذنَبْناه، فهل لكَ يا مِسوَرُ ذُنوبٌ في خاصَّتِكَ تَخْشى أنْ تُهلِكَكَ إنْ لم تُغفَرْ؟ قال: نَعَمْ. قال: فما يَجعَلُكَ اللهُ برَجاءِ المَغفِرةِ أحَقَّ مِنِّي، فواللهِ ما ألي مِنَ الإصلاحِ أكثَرَ ممّا تَلي، ولكنْ -واللهِ- لا أُخيَّرُ بيْنَ أمرَيْنِ بيْنَ اللهِ وبَينَ غَيرِه، إلّا اختَرتُ اللهَ على ما سِواه، وإنِّي لَعَلى دِينٍ يُقبَلُ فيه العَمَلُ ويُجزى فيه بالحَسَناتِ، ويُجزى فيه بالذُّنوبِ، إلّا أنْ يَعفُوَ اللهُ عنها. قال: فخَصَمَني. قال عُروةُ: فلم أسمَعِ المِسوَرَ ذَكَرَ مُعاويةَ إلّا صلّى عليه.
سير أعلام النبلاء ٣/١٥١ • رجاله ثقات قال الشيخ شعيب الارناؤط. رحمة الله عليه اسی طرح یہ اثر تاریخ بغداد (ج1 ص576) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ 

خلاصہ کلام:
جناب مسور رضی اللہ عنہ کے ذہن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کچھ خدشات تھے حضرت مسور نے وہ سارے بیان کر دیے ؛ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں اپنے آپ کو گناہوں سے پاک نہیں سمجھتا اسکے بعد حضرت معاویہ کہنے لگے :
اے مسور ! کیا لوگوں کی اصلاح کے حوالے سے جو کام ہم کر رہے ہیں وہ آپ شمار نہیں کرتے؟؟بے شک نیکی تو دس گنا بڑھتی ہے؛ کیا آپ صرف ہمارے گناہ ہی شمار کرتے ہیں ؟؟؟اور نیکیوں کو چھوڑ دیتے ہیں!!!!اسکے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ہم اللہ کے سامنے ہر اس گناہ کا اعتراف کرتے ہیں جو ہم نے کیا ہے۔ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ ؛کیا آپ کے بھی ایسے کوئی خاص گناہ ہیں کہ اگر آپ کو معاف نہیں کیے گئے تو آپ ہلاک ہو جائیں ؟؟؟مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے جی: ہاں ؛ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے مسور!! وہ کون سی چیز ہے جس وجہ سے آپ اللہ کی بخشش میں مجھ سے زیادہ امیدوار بن رہے ہیں؟؟؟؟(اور مجھے محروم کر رہے ہیں؟؟) اللہ کی قسم میں اصلاح کی آپ سے زیادہ کوشش کرتا ہوں؛ اللہ کی قسم مجھے اختیار نہیں دیا جاتا دو کاموں کے بیچ ؛ایک میں اللہ کی رضامندی اور دوسرے کام میں مخلوق کی رضامندی ہوتی ہے تو میں وہی کام اختیار کرتا ہوں جس میں اللہ کی رضامندی ہوتی ہے شاید میں ایسے دین میں ہوں جس میں عمل قبول کیا جاتا ہے اور نیکیوں کا بدلہ دیا جاتا ہے اور گناہوں کا بھی؛ مگر یہ کہ اللہ ان کو معاف کر دے ۔
حضرت مسور کہنے لگے وہ بحث میں مجھ پر غالب آگئے۔
جناب عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :: اس کے بعد جب بھی میں نے مسور رضی اللہ عنہ کو معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے سنا تو ضرور اس کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے۔
کچھ اسناد کے اندر یہ الفاظ بھی ملتے ہیں۔

قال معاوية : فأنا أحتسب كل حسنة عملتها بأضعافها , وأوازي أمورا عظاما لا أحصيها ولا تحصيها من عمل الله : في إقامة صلوات المسلمين , والجهاد في سبيل الله عز وجل , والحكم بما أنزل الله تعالى , والأمور التي لست تحصيها , وإن عددتها لك , فتفكر في ذلك)) .
قال المسور : ((فعرفت أن معاوية قد خصمني حين ذكر لي))قال عروة فلم يسمع المسور بعد ذلك يذكر معاوية إلا استغفر له.

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ؛ جناب مسور رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے:: میں اللہ تعالیٰ میں امید کرتا ہوں کہ مجھے نیکی کا بڑھا چڑھا کر اجر دیا جائے گا اور میں نے( اللہ کے لیے ) بڑے کام کیے ہیں جن کو نہ میں شمار کر سکتا ہوں نہ ہی آپ؛ جیسے مسلمانوں میں نماز کو قائم کروانا؛ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا؛ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے کرنا اور دیگر کام جن کو آپ شمار نہیں کرتے ؛ اگر میں آپ کے سامنے انکا تذکرہ کروں اور گنوائوں لھذا آپ اس حوالے سے غور فکر کریں ( یعنی میری نیکیوں کو بھول جاتے ہو اور میری کوتاہیوں کو ذکر کرتے ہو). حضرت مسور کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ بحث میں مجھ پر غالب آ گئے۔
جناب عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسکے بعد جب بھی میں نے مسور رضی اللہ عنہ کو معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے سنتا تھا تو ہمیشہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعائیں فرماتے۔
نوٹ:: اس واقعے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ایک غلطی میں مبتلا ہوئے اور انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر کبھ خدشات کا اظہار کیا، مگر انہوں نے اپنی اس غلط فھمی سے فوراً رجوع کیا جب ان کے سامنے حق بات واضح کردی گئی۔ یہ بات نیم روافض کے لئے لمحہ فکریہ ہے جن کا کام ہی بن چکا ہے خال المؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف زبان درازی کرنا۔ ھداھم اللہ۔
بلاشبہ حکمران بھی انسان ہوتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کوتاہیاں سرزد ہوسکتی ہیں جیسے دوسروں سے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتے ہيں تو بے شک اللہ تعالی غفورورحیم ہے ان کے لیے بھی بخشش اور رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
اس واقعے کی سند صحیح ہے تاریخ بغداد میں اسکی سند اس طرح ہے۔

اخبرنا القاضي أبو بكر أحمد بن الحسن الحرشي ، قال : أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم ، قال : حدثنا محمد بن خالد بن خلي الحمصي ، قال : حدثنا بشر بن شعيب بن أبي حمزة ، عن أبيه ، عن الزهري ، قال : أخںرنی عروۃ بنْ الزبير ۔۔۔

سند میں موجود ہر راوی کے بارے میں تعدیل پیش خدمت ہے۔
(1) ابوبکر احمد بن حسن الحرشی۔ قال الذهبي رحمه الله في ترجمته الامام العالم المحدث مسند خراسان (ج13 ص227 ت3835)
(2)محمد بن یعقوب الاصم۔ قال الذھبی فی ترجمتہ۔
الامام المحدث مسند العصر رحلۃ الوقت۔ ( السیر ص 106 ج12 ت 3501)
(3) محمد بن خالد بن خلی الحمصی۔
قال الحافظ۔ صدوق۔( التقریب ت5844 ص532)
(4) بشر بن شعیب۔ ثقۃ ( التقریب ت688 ص97)
(5) شعیب بن ابی حمزہ الاموی ( التقریب :ت 2798ص 271)
(6) محمد بن مسلم بن شھاب الزھری۔ قال عنه الحافظ: الفقيه الحافظ متفق على جلالته واتقانه.( التقریب ت 6296 ص 564).

روایت کا متن:

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مسندِ احمد کی یہ حدیث محدثین کے نزدیک ضعیف ہے. مگر چونکہ نیم روافض امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں اس لئیے وہ اس حدیث کی مد میں کچھ محدثین کی توثیق پیش کرتے ہیں. ہم بات کو آگے چلانے کے لئیے ان سے سند پر گفتگو نہیں کرتے اگر اس کی سند  اہل باطل کے مطابق درست ماں بھی  لی جائے تب بھی ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند سے اگر یہ ہٹتے ہیں تو متن پر پکڑ ہو جاتی ہے.

اب دیکھتے ہیں کہ اس کے متن پر کون سی جرح نظر آتی ہے.

جرح :

حدیث میں حضرت مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان ہے....

میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے مقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ بات بولی کہ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے جبکہ مستدرک الحاکم کی حدیث ہے

حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے۔ حسین میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے ۔ مستدرک حاکم جلد ۳ ص ۱۵۹ (فضل حسین )

یہاں پر نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ حسین ان سے ہے اور مقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ بات بولتے ہیں کہ نبی نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے....محدثین کے اصول کے مطابق صحابہ کرام نبی کی بات بیان کرنے میں صدوق تھے اگر ہم اس حدیث کو درست بھی مان لیتے ہیں تو ہم کو یہ بات نعوذبااللہ تسلیم کرنی ہو گی کہ حضرت مقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی کی ذات کو لے کر جھوٹ بولا ہے اور نبی کی حدیث ہے کہ جس نے میری طرف جھوٹ منسوب کیا وہ جہنمی ہے (الزامی سوال). اب ان  ہی کے اصول کے مطابق نیم روافض جو کہ اہل سنت کا لبادہ پہنے ہوئے ہیں اپنی منطق کے مطابق اس بات کو نعوذبااللہ  تسلیم کریں کہ مقدام بن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی پر جھوٹ بندھا ہے یا تو اس موقف سے دستبردار ہو جائیں. اسی طرح کے الفاظ ابو داؤد کی حدیث میں بھی موجود ہیں جس کے اوپر ہماری ایسی ہی جرح موجود ہے.

ایک اور رد 

اگر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی موت پر نعوذبااللہ خوش تھے اور ان سے بغض رکھتے تھے تو جس بندہ سے اگر کوئی دوسرا بندہ بغض رکھے تو اس کی فضیلت اور اچھائی کبھی بھی بیان نہیں کرتا یہ لیں دیکھیں عقیدہ معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اہل بیت کو لے کر.

۔ (۱۲۳۹۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُصُّ لِسَانَہُ، أَوْ قَالَ: شَفَتَہُ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَنْ یُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۷۳)

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مرفوع حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضلیت بیان کی کہ جن ہونٹوں کو اللَّهُ کہ نبی نے چوما ان کو کبھی بھی عذاب نہیں ہو گا۔

اس اعتراض کا ایک اور جواب بمعہ اسکینز ملاحظہ فرمائیں۔

راوی بقیہ بن ولید کی تدلیس (اسکینز)